بین الاقوامی خبریںسرورق

امریکہ: لیبارٹری میں تیار شدہ گوشت کو فروخت کرنے کی اجازت

امریکہ کی دو کمپنیوں کو جانوروں کے خلیوں سے تیار کیے گئے چکن کو براہ راست فروخت کرنے کی اجازت مل گئی

نیویارک،22 جون :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) امریکہ کی دو کمپنیوں کو جانوروں کے خلیوں سے تیار کیے گئے چکن کو براہ راست فروخت کرنے کی اجازت مل گئی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ جلد ہی کاشت شدہ گوشت بھی صارفین کو مخصوص ریستورانوں میں دستیاب ہو گا۔امریکی محکمہ زراعت نے 21 جون بدھ کے روز ملک میں لیبارٹری میں تیار کردہ گوشت کی فروخت کی منظوری دے دی۔اپ سائیڈ فوڈز اورگڈ میٹ نامی ایسی پہلی دو کمپنیاں ہیں، جنہوں نے ایسے گوشت کے فروخت کی منظوری کا عمل مکمل کر لیا ہے۔ گزشتہ نومبر میں یو ایس فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) نے پہلے ہی لیب میں تیار کردہ گوشت کو کھانے کے لیے محفوظ قرار دیا تھا۔اپ سائیڈ فوڈ کی سی ای او اور کمپنی کی بانی اوما والیٹی نے اس منظوری کو ایک خواب کا سچ ہونا قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک نئے دور کے آغاز کی نشاندہی کرتا ہے۔والیٹی نے ایک بیان میں کہا کہ یہ منظوری بنیادی طور پر اس بات کو تبدیل کر دے گی کہ گوشت ہمارے کھانے کی میز پر کس طرح پہنچتا ہے۔

یہ ایک بہت ہی پائیدار مستقبل کی جانب ایک بڑا قدم ہے، جو انتخاب کرنے کے عمل اور زندگی کو بھی محفوظ رکھتا ہے۔روایتی طور پر افزائش شدہ گوشت کے برعکس، لیبارٹری سے تیار کردہ گوشت کو مصنوعی طور پر تیار کیا جاتا ہے۔ اس میں دراصل جانوروں کی پروٹین ہی شامل ہوتی ہے۔ تاہم روایتی گوشت کے برعکس، اس میں جانوروں کو ذبح کرنا شامل نہیں ہے۔اس طریقے سے تیار شدہ گوشت کے حامیوں کو اس بات پر فخر ہے کہ اخلاقی لحاظ سے یہ گوشت کا بہتر متبادل ہے، کیونکہ اس طریقے سے گوشت کے لیے کسی جانور کی جان نہیں لی جاتی ہے۔

لیب میں ایسا گوشت تیار کرنے کے لیے ایک زندہ جانور یا فرٹیلائزڈ سیل سے خلیات کو حاصل کیا جاتا ہے، پھر ان خلیات کو ایک ساتھ جمع کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد خلیوں کو اسٹیل کے ٹینکوں میں رکھ کر اس کی کاشت کی جاتی ہے اور پھر اس عمل کے دوران اسے اسی طرح کے غذائی اجزاء بھی دیے جاتے ہیں، جو جانور کھاتے ہیں۔اس کے بعد اس گوشت کو روایتی کٹلیٹس- جیسے فیلیٹ، نگیٹس یا ساتے کی شکل دی جاتی ہے۔امریکی حکومت نے لیب میں تیار شدہ گوشت کو فروخت کرنے کی اجازت تو دے دی ہے، تاہم چونکہ اس کی پیداوار میں لاگت بہت زیادہ آتی ہے، اس لیے اوسط امریکیوں کے استعمال کے لیے ایسے گوشت کی دستیابی راتوں رات ہونے کی توقع نہیں ہے۔تاہم اسی دوران اعلیٰ درجے کے ریستوراں نے اپنے یہاں ایسا گوشت استعمال کرنے کے لیے معاہدے بھی کیے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button