سویڈن میں قرآن کی بے حرمتی کرنے پر اسلامی تعاون تنظیم کا ہنگامی اجلاس طلب
یورپی یونین کی قرآن نذر آتش کرنے کے واقعے کی مذمت کہا، یہ اقدام جارحانہ، توہین آمیز اور اشتعال انگیز ہے
دبئی ،یکم جولائی:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) سویڈن میں قرآن کے نسخے کو نذر آتش کیے جانے کے معاملے پر اسلامی تعاون تنظیم The Organization of Islamic Cooperation نے ایگزیکٹو کمیٹی کا ہنگامی اجلاس طلب کر لیا ہے۔نیوز کے مطابق اسلامی تعاون تنظیم کے ترجمان نے کہا ہے کہ اجلاس میں ’اس گھناؤنے فعل کے خلاف کیے جانے والے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا جائے گا اور ضروری اقدامات سے متعلق اجتماعی موقف اپنایا جائے گا۔خیال رہے کہ بدھ کے روز سویڈن کے دارالحکومت سٹاک ہوم کی سب سے بڑی مسجد کے سامنے عراق سے تعلق رکھنے والے 37 سالہ پناہ گزین سلوان مومیکا نے قرآن کی بے حرمتی کی اور صفحات کو آگ لگا دی۔مسلم اور عرب دنیا سمیت دیگر ممالک نے بھی اس واقعے کی شدید مذمت کی ہے جبکہ چند ممالک نے ردعمل میں اپنے سفیروں کو بھی واپس بلا لیا ہے۔
مختلف ممالک میں دفتر خارجہ کی جانب سے سویڈن کے سفیر کو طلب کر کہ احتجاج ریکارڈ کروایا گیا ہے۔جمعے کو عراق کے دارالحکومت بغداد میں سویڈن کے سفارتخانے کے سامنے شیعہ عالم دین مقتدیٰ الصدر کے ہزاروں کی تعداد میں حامیوں نے مظاہرہ کیا اور سویڈن کے ساتھ سفارتی تعلقات ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔بدھ کو سویڈن کی پولیس نے کہا تھا کہ قرآن کا نسخہ نذر آتش کرنے والے شخص پر ایک نسلی یا قومی گروہ کے خلاف اشتعال انگیزی کرنے کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ جبکہ واقعے میں ملوث سلوان مومیکا نے دھمکی دی ہے کہ وہ آئندہ دس دنوں میں سٹاک ہوم میں واقع عراقی سفارتخانے کے سامنے عراق کے جھنڈے سمیت قرآن کا نسخہ دوبارہ نذر آتش کریں گے۔سلوان مومیکا کا کہنا ہے کہ انہیں معلوم ہے کہ ان کے اس فعل پر شدید ردعمل آئے گا اور انہیں ہزاروں کی تعداد میں قتل کی دھمکیاں مل چکی ہیں۔
یورپی یونین کی قرآن نذر آتش کرنے کے واقعے کی مذمت کہا، یہ اقدام جارحانہ، توہین آمیز اور اشتعال انگیز ہے
یورپی یونین نے قرآن کا نسخہ نذر آتش کرنے کے واقعے کو شدید انداز میں مسترد کرتے ہوئے اسے ’جارحانہ، توہین آمیز اور اشتعال انگیزی پر مبنی اقدام‘ قرار دیا ہے۔ نیوز کے مطابق یورپی یونین نے جاری اعلامیے میں کہا کہ ’یہ واقعہ قطعی طور یورپی یونین کے نظریات کی عکاسی نہیں کرتا‘۔ نسل پرستی، غیرملکیوں کے خلاف تعصب اور اس سے متعلقہ عدم برداشت کی یورپ میں کوئی جگہ نہیں ہے۔اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ یورپی یونین مقامی سطح پر اور دیگر ممالک میں بھی مذہب یا عقیدے کی آزادی اور اظہار رائے کی آزادی کی حمایت کرتا رہے گا۔اس سے قبل قرآن اسلامی تعاون تنظیم نے ایگزیکٹو کمیٹی کا ہنگامی اجلاس طلب کرنے کا اعلان کیا تھا۔اسلامی تعاون تنظیم کے ترجمان نے کہا تھا کہ اجلاس میں ’اس گھناؤنے فعل کے خلاف کیے جانے والے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا جائے گا اور ضروری اقدامات سے متعلق اجتماعی موقف اپنایا جائے گا۔
خیال رہے کہ بدھ کے روز سویڈن کے دارالحکومت سٹاک ہوم کی سب سے بڑی مسجد کے سامنے عراق سے تعلق رکھنے والے 37 سالہ پناہ گزین سلوان مومیکا نے قرآن کی بے حرمتی کی اور صفحات کو آگ لگا دی۔مسلم اور عرب دنیا سمیت دیگر ممالک نے بھی اس واقعے کی شدید مذمت کی ہے جبکہ چند ممالک نے ردعمل میں اپنے سفیروں کو بھی واپس بلا لیا ہے۔مختلف ممالک میں دفتر خارجہ کی جانب سے سویڈن کے سفیر کو طلب کر کہ احتجاج ریکارڈ کروایا گیا ہے۔جمعے کو عراق کے دارالحکومت بغداد میں سویڈن کے سفارتخانے کے سامنے شیعہ عالم دین مقتدیٰ الصدر کے ہزاروں کی تعداد میں حامیوں نے مظاہرہ کیا اور سویڈن کے ساتھ سفارتی تعلقات ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔بدھ کو سویڈن کی پولیس نے کہا تھا کہ قرآن کا نسخہ نذر آتش کرنے والے شخص پر ایک نسلی یا قومی گروہ کے خلاف اشتعال انگیزی کرنے کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔جبکہ واقعے میں ملوث سلوان مومیکا نے دھمکی دی ہے کہ وہ آئندہ دس دنوں میں سٹاک ہوم میں واقع عراقی سفارتخانے کے سامنے عراق کے جھنڈے سمیت قرآن کا نسخہ دوبارہ نذر آتش کریں گے۔ سلوان مومیکا کا کہنا ہے کہ انہیں معلوم ہے کہ ان کے اس فعل پر شدید ردعمل آئے گا اور انہیں ’ہزاروں کی تعداد میں قتل کی دھمکیاں مل چکی ہیں۔‘
قرآن کریم کی بے حرمتی کیخلاف ایران میں بھی احتجاج
ایران میں سویڈش سفارتخانے کے باہر قرآن کریم کی بے حرمتی کے واقعہ پر احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق سویڈن میں اسٹاک ہوم کی مسجد کے باہر قرآن کریم کی بے حرمتی کے واقعے پر ایران میں سویڈش سفارتخانے کے باہر مظاہرہ کیا گیا۔سویڈش سفارتخانے کے باہر ہونے والے احتجاج کے مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ قرآن کریم کی بے حرمتی کرنے والے کو سخت سزا دی جائے۔ مقدس عقائد کی توہین کی اجازت نہیں دں گے ،بلکہ اس کے خلاف سخت ردعمل ہوگا۔میڈیا ذرائع کے مطابق ایرانی وزارت خارجہ نے تہران میں سویڈش ناظم الامور کو طلب کرلیا۔ایران نے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ سویڈن میں اسٹاک ہوم میں مسجد کے باہر قرآن کی بے حرمتی کے واقعے کی مذمت کرتے ہیں۔



