فرانس تشدد: پولیس کے ہاتھوں مہلوک کے دوست کا سنسنی خیز انکشاف
پولیس کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے 17 سالہ فرانسیسی نوجوان نایل مرزوق اس گاڑی میں اکیلا نہیں تھا
پیرس ،2 جولائی:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) پیرس کے نواحی علاقے نانٹیرے میں پولیس کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے 17 سالہ فرانسیسی نوجوان نایل مرزوق اس گاڑی میں اکیلا نہیں تھا جب ایک پولیس اہلکار نے اسے گولی مار دی۔ اس کے ساتھ ایک اورنوجوان بھی تھا جو خوفزدہ ہو کر فرار ہوگیا۔ پولیس نے اس کو روکنے کی کوشش کی تھی مگر وہ خوف زدہ تھا۔اس نوجوان کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہورہی ہے۔ پولیس نے اسے گواہی کے لیے طلب کیا ہے۔ کل سوموار کے روز وہ پولیس کے سامنے بیان دے گا۔نوجوان نے وضاحت کی کہ اس نے یہ کلپ ان تمام جھوٹی افواہوں کی تردید کے لیے تیار کیا ہے جو اس کے دوست کے کیس سے متعلق ہیں۔ اس کا کہنا ہے کہ میں سچائی کو ظاہر کرنے کے لیے اس ویڈیو کو شوٹ کرنا چاہتا تھا، کیونکہ سوشل نیٹ ورکس پر میرے دوست نایل کی موت کے بارے میں بہت سی جعلی خبریں پھیلی ہوئی ہیں۔
منگل 27 جون کو گاڑی میں سوار تیسرے مسافر نے جسے نائل چلا رہا تھا نے اپنے دو ساتھیوں سمیت شہر کی سیر کرنے کے لیے ایک پیلی مرسڈیز ادھار لی تھی۔ انہوں نے تصدیق کی کہ وہ کسی بھی طرح سے منشیات یا الکحل کے زیر اثر نہیں تھے، ان کے بارے میں جو افواہیں چل رہی تھیں وہ غلط ہیں ۔اس کے علاوہ اس نے زور دیا کہ وہ معمول کے مطابق گھوم رہے تھے۔ جب انہوں نے دیکھا کہ ایک پولیس کار ان کا پیچھا کر رہی ہے تو وہ تھوڑی دیر بعد رک گئے۔اس وقت ایک اہلکار قریب آیا اور نائل کی طرف والے دروازے کو کھولنے کو کہا۔ اس نے کار کا شیشہ نیچے کیا۔ پھر ایک اور پولیس والا آیا۔پہلا پولیس والا کہتا ہے انجن بند کر دو ورنہ گولی مار دوں گا۔
اس نے اپنے ہتھیار کے بٹ سے نائل کو مارنے کے بعد دھمکی دیتے ہوئے مزید کہاکہ باہر نکل جاؤ ورنہ میں تمہیں سر میں گولی مار دوں گا۔پھر پولیس اہلکار نے اسے گولی مار دی،دوسرے پولیس والے نے کہا اسے گولی مارو،لیکن پہلے افسر نے اپنی بندوق کے بٹ سے لڑکے کو دوبارہ مارا۔ نایل نے غیر ارادی طور پر بریک پیڈل سے اپنی ٹانگ اٹھا لی اور گاڑی چلنے لگی جس سے دوسرے پولیس والے نے نوجوان پر براہ راست گولی مار دی۔اس طرح گاڑی رک گئی۔جب گاڑی رکی تو نائل کا ساتھی بھاگا،اس ڈر سے کہ اس کا بھی وہی حشر ہو گا جو نائل کا ہوا۔قابل ذکر ہے کہ گذشتہ ہفتے پولیس کے ہاتھوں قتل کے واقعے کے بعد ملک گیر مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے،پرتشدد مظاہروں میں اب تک سیکڑوں افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔



