بین الاقوامی خبریں

برطانوی پارلیمنٹ نے تارکین وطن کو روکنے سے متعلق ایک متنازع بل منظور کرلیا

برطانیہ میں پورٹ لینڈ کی بندرگاہ پر ایک بحری جہاز لنگر انداز ہوا ہے، جو پانچ سو تارکین وطن کو عارضی رہائش فراہم کرنے کے کام آئے گا

لندن، 19جولائی:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) برطانیہ میں پورٹ لینڈ کی بندرگاہ پر ایک بحری جہاز لنگر انداز ہوا ہے، جو پانچ سو تارکین وطن کو عارضی رہائش فراہم کرنے کے کام آئے گا، جبکہ برطانیہ کی پارلیمنٹ نے پناہ گزینوں کی آمد کو روکنیسے متعلق ایک ایسے بل کی منظوری دی ہے، جسے متنازعہ قرار دیا جا رہا ہے۔یہ دونوں اقدامات وزیر اعظم رشی سونک کی اس حکمت عملی کا حصہ ہیں، جس کے تحت تارکین وطن کو چھوٹی کشتیوں میں انگلش چینل عبور کرنے کی ہلاکت خیز کوششوں اور برطانیہ میں پناہ حاصل کرنے سے روکا جائے گا۔یہ بل برطانیہ کے شاہ چارلس سوم کی جانب سے منظوری کے بعد قانون بن جائے گا۔برطانیہ کی کنزرویٹو حکومت نے ان چھوٹے بحری جہازوں اور چھوٹی کشتیوں کو روکنے کا عزم کیا ہے جو شمالی فرانس سے برطانیہ رہنے کی امید کیحامل تارکین وطن کو لے کر آتی ہیں۔

برطانیہ کی پارلیمنٹ کی جانب سے تارکین وطن کے دباو پر قابو پانے کے لیے طویل بحث کے بعد بل کی منظوری دی گئی۔واضح رہے کہ سال 2022 میں 45 ہزار سے زیادہ لوگ انگلش چینل عبو ر کر کے برطانیہ میں داخل ہوئے تھے، ان میں سیکئی اس کوشش میں اپنی جان سیہاتھ دھو بیٹھے تھے۔یہ بل تارکین وطن کو خطرناک سفر اوربرطانیہ میں پناہ کی درخواست سے روکے گا۔اس بل کے تحت اگر وہ غیر قانونی طور پر برطانیہ میں داخل ہوئے تو پکڑے جانے والوں کو واپس ان کے وطن یا کسی تیسرے محفوظ ملک میں بھیج دیا جائے گا اور ان پر برطانیہ میں داخل ہونے پر ہمیشہ کے لیے پابندی عائد کر دی جائے گی۔حکومت نے غیر قانونی طور پر برطانیہ میں داخل ہونیوالوں میں سے کچھ کو روانڈا بھیجنے کا منصوبہ بنایا تھا لیکن گزشتہ ماہ اپیل کورٹ نے اس اقدام کو غیر قانونی قرار دے دیا۔ اب حکومت اس فیصلے کیخلاف برطانوی سپریم کورٹ میں اپیل کر رہی ہے۔برطانیہ کے وزیر اعظم رشی سنک نے بل کی منظوری پر خوشی کا اظہار کیا اور کہا کہ یہ کشتیوں کو روکنے کیہماریکام کا ایک اہم حصہ ہے۔یہ بل ایک طویل بحث کے بعد منظورکیا گیا ہے۔

اب اس بل میں ترمیم تو کی جا سکتی ہے لیکن اس قانون سازی کا راستہ نہیں روکا جا سکتا۔ہوم آفس کے انڈر سیکرٹری آف اسٹیٹ اور ہاؤس آف لارڈز کے رکن سائمن مرے نے اپنے رفقائے کار پر بل کی منظوری پر زور دیتے ہوئے کہا کہ برطانیہ کے پناہ کے نظام پر بہت بوجھ ہے اور ہم ٹیکس دہندگان پناہ کے متلاشیوں کیلیے یومیہ چھ ملین پاؤنڈز ادا کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر لوگوں کو یہ معلوم ہو گا کہ ان کیلیے برطانیہ میں رہنے کا کوئی طریقہ نہیں ہے تو وہ اپنی زندگیوں کو داؤ پرنہیں لگائیں گے اور یہاں غیر قانونی طور پر پہنچنے کے لئے مجرموں کو ہزاروں پاؤنڈز ادا نہیں کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ اس لیے ان کشتیوں کو روکنے اور کمزور لوگوں کا استحصال کرنے والے جرائم پیشہ گینگز کے بزنس ماڈل کو توڑنے کا یہ ہی ایک طریقہ ہے۔اقوام متحدہ کے انسانی حقوق اور مہاجرین سے متعلق اداروں کے سربراہوں نے کہا ہے کہ یہ بل بین الاقوامی قوانین کے تحت برطانیہ کی زمہ داریوں سے متصادم ہے اور پناہ کے متلاشی تارکین وطن کے لئے اس کے گہرے اثرات ہوں گے۔اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین فلیپو گرانڈی نے کہا کہ برطانیہ کئی دہائیوں سے اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کو سمجھتے ہوئے ضرورت مند افراد کو پناہ مہیاکر رہا تھا، یہ ایسی روایت ہے جس پر برطانیہ کو فخر ہونا چاہئے تھا، لیکن نئی قانون سازی اس قانونی راستے کو ختم کر رہی ہے، جس نے اتنے بہت سے لوگوں کو تحفظ فراہم کیا، اس سے مہاجرین کے لئے نئے خطرات پیدا ہو جائیں گے۔اقوام متحدہ کے عہدے داروں نے خبر دار کیا کہ یہ قانون ایسے بچوں کو بھی تحفظ فراہم کرنے کا راستہ روک دے گا، جو پناہ کے مستحق ہیں اور ان کے ساتھ والدین موجود ہی نہیں ہیں۔ ممکن ہے ان میں کچھ بچے انسانی سمگلروں سے جان بچا کر نکلے ہوں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button