سویڈن : پولیس نے پھر قرآن کریم کی بے حرمتی کی اجازت د ے دی
عراق: مشتعل افراد کا سوئیڈن کے سفارت خانے پر دھاوا، عمارت کو آگ لگا دی
اسٹاک ہوم ؍لندن، 20جولائی:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) سویڈن میں قرآن کریم کی بے حرمتی کے واقعہ کے خلاف اسلامی دنیا میں احتجاجی مظاہرے ابھی جاری ہیں تاہم سویڈش پولیس نے ایک مرتبہ پھر انتہا پسندوں کو عراقی سفارت خانہ کے سامنے اجتماع کرنے کی اجازت دے دی جس میں شدت پسند منتظمین نے قرآن کریم کے نسخے کو نذر آتش کرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔فرانسیسی پریس ایجنسی کے مطابق دو افراد نے جمعرات کو مقامی وقت کے مطابق دوپہر ایک بجے سے لے کر 3 بجے تک مظاہرے کی اجازت طلب کی۔ جی ایم ٹی وقت کے مطابق یہ 13 سے لے کر 15 بجے تک کا وقت ہے۔ پولیس نے منتظم افراد کو اجتماع کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ اس اجتماع میں دونوں شدت پسندوں کا سفارت خانہ کے سامنے قرآن مقدس اور عراقی پرچم نذر آتش کرنے کا ارادہ ہے۔
سویڈش نیوز ایجنسی کے مطابق منتظم کا کہنا تھا کہ وہ اجتماع کے دوران قرآن کا ایک نسخہ جلانا چاہتا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ وہی شخص تھا جس نے پہلے اسٹاک ہوم کی ایک مسجد کے سامنے قرآن کو جلانے کا اہتمام کیا تھا۔سویڈش پولیس نے تصدیق کی کہ یہ اجازت مذہبی کتابوں کو جلانے کی سرکاری درخواست کی بنیاد پر نہیں دی گئی تھی۔ بلکہ ایک عوامی اجتماع کے انعقاد کی بنیاد پر دی گئی تھی جس کے دوران آزادی کے آئینی حق کے مطابق رائے کا اظہار کیا جاسکے۔
پولیس کے ترجمان نے کہا کہ اس کا مطلب یہ نہیں تھا کہ وہ اس بات پر راضی ہیں کہ کیا ہوگا۔ قرآن کریم کا پہلا نسخہ جنوری میں دائیں بازو کے سویڈش ڈنمارک کے انتہا پسند راسموس پالوڈان نے سویڈن کی نیٹو میں شمولیت اور اس مقصد کے لیے ترکیہ کے ساتھ مذاکرات کی درخواست کی مذمت کرنے کے لیے نذر آتش کیا تھا۔28 جون کو سویڈن میں ایک عراقی پناہ گزین سلوان مومیکا نے عید الاضحی کے پہلے روز سٹاک ہوم کی سب سے بڑی مسجد کے سامنے قرآن کے نسخے کے اوراق جلائے۔سویڈش حکومت نے جنوری اور جون میں ہونے والے جارحانہ اور اسلامو فوبیا پر مبنی ان واقعات کی مذمت کی تاہم سویڈش حکومت اس حوالے سے موجود قانون کو تبدیل کرنے کا ارادہ نہیں رکھتی۔واضح رہے پولیس ایسے مظاہرے کی اجازت دینے سے انکار کر سکتی ہے اگر اس سے ملک کی سلامتی کو خطرہ لاحق ہو یا اگر یہ ایسی حرکتوں یا الفاظ کی طرف لے جائے جو نسلی منافرت کو ہوا دیں۔
عراق: مشتعل افراد کا سوئیڈن کے سفارت خانے پر دھاوا، عمارت کو آگ لگا دی
عراق میں سینکڑوں مظاہرین نے جمعرات کی صبح سویڈن کے سفارت خانے پر دھاوا بول کر عمارت کو آگ لگا دی۔سویڈن کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ بغداد میں اس کے سفارتخانے کا عملہ محفوظ ہے۔سویڈن کی وزارت خارجہ کے پریس آفس نے رائٹرز کو بتایا کہ یہ عراقی حکام کی ذمہ داری ہے کہ وہ سفارتی مشنز اور عملے کی حفاظت کریں۔اسٹاک ہوم میں قرآن کو متوقع طور پر جلائے جانے کیخلاف احتجاج کرتے ہوئے سینکڑوں افراد جمعرات کی علی الصباح بغداد میں سوئیڈن کے سفارت خانے کے باہر جمع ہوئے اور عمارت کی دیواریں توڑنے کے بعد اسے آگ لگا دی۔اس معاملہ سے واقف ایک ذریعے نے بتایا کہ سفارت خانے کے عملے کے کسی فرد کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔اس سے قبل بغداد میں سوئیڈش سفارتخانہ کے اہلکاروں نے واقعے پر تبصرہ کرنے کی درخواستوں کا فوری طور پر جواب نہیں دیاتھا۔عراق کی وزارتِ خارجہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے ایک بیان میں کہا ہے کہ عراقی حکومت نے سکیورٹی فورسز کو ہدایت کی ہے کہ وہ فوری تحقیقات کریں، مجرموں کی شناخت کریں اور ان کا محاسبہ کریں۔
سمیت کئی خبر رساں اداروں نے سوئیڈن سفارت خانے پر مظاہرین کی توڑ پھوڑ کی ویڈیوز شیئر کی ہیں۔بغداد میں سوئیڈن کے سفارت خانے پر حملہ ایسے موقع پر ہوا ہے جب بدھ کو ہی سوئیڈن کی خبر رساں ایجنسی ٹی ٹی نے اطلاع دی تھی کہ سوئیڈش پولیس نے جمعرات کو اسٹاک ہوم میں عراقی سفارت خانے کے باہر پبلک میٹنگ کے لیے ایک درخواست منظور کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ درخواست گزار قرآن اور عراقی پرچم کو نذر آتش کرنا چاہتا ہے۔ٹی ٹی کے مطابق مظاہرے میں دو افراد کو شرکت کے لیے مقرر کیا گیا ہے، ان میں سے ایک وہی شخص تھا جس نے جون میں اسٹاک ہوم کی ایک مسجد کے باہر قرآن کو نذر آتش کیا تھا۔سویڈش پولیس نے اس شخص پر کسی نسلی یا قومی گروہ کے خلاف مظاہرے کرنے کا الزام عائد کیاتھا۔ ایک اخباری انٹرویو میں، اس شخص نے خود کو ایک عراقی پناہ گزین بتایا تھا۔
بغداد میں سفارتخانے کا عملہ محفوظ ہے: سوئیڈن
سوئیڈن کی وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ عراق کے دارالحکومت بغداد میں سفارتخانے کا عملہ محفوظ ہے۔سوئیڈن کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے خبر ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ سفارتی مشنز اور عملے کے تحفظ کی ذمے داری عراقی حکام کی ہے۔سوئیڈش وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ سفارتخانوں اور ڈپلومیٹس پر حملے ویانا کنونشن کی سنگین خلاف ورزی ہیں۔اس حوالے سے سوئیڈن کے وزیرِ خارجہ نے کہا ہے کہ سفارتخانے پر دھاوا مکمل طور پر ناقابلِ قبول ہے، واضح رہے کہ عراقی حکام سفارتی مشنز کے تحفظ کی ذمے داری میں بری طرح ناکام رہے۔دوسری جانب بغداد میں پیش آئے واقعے پر عراق کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے مذمت کی گئی ہے۔عراق کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ واقعے کی فوری تحقیقات اور ملوث افراد کی شناخت کا حکم دے دیا ہے۔واضح رہے کہ سوئیڈن میں قرآن کریم کی بے حرمتی پر بغداد میں سوئیڈن کے سفارتخانے کو آگ لگائی گئی تھی۔



