کینیڈا کو ہندوستان سے متعلق شواہد فراہم کرنے والا ’فائیو آئیز‘ اتحاد کیسے کام کرتا ہے؟
دوسری عالمی جنگ کے بعد بروسا معاہدہ 1946 تک یو کے۔یوایس اے ایگریمنٹ میں تبدیل ہو گیا۔
لندن، 26ستمبر:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) کینیڈا کے وزیرِ اعظم جسٹن ٹروڈو کی جانب سے خالصتانی ہردیپ سنگھ نجر کے قتل میں بھارتی ایجنٹس کے ملوث ہونے کے الزام کے بعد سے دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات میں تناؤ پیدا ہو گیا ہے۔جسٹن ٹروڈو نے گزشتہ پیر کو کینیڈا کی پارلیمنٹ سے خطاب میں ٹھوس معلومات کی دست یابی کا ذکر تو کیا تھا تاہم انہوں نے اس کی تفصیلات فراہم نہیں کی تھیں۔گزشتہ ہفتے کے روز بھارت میں تعینات امریکہ کے سفیر ڈیوڈ کوہن نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ انٹیلی جینس اتحاد ’The Five Eyes‘ نے کینیڈا کو ہردیپ سنگھ نجر کے قتل سے متعلق معلومات فراہم کی تھیں جس کی بنیاد پر وزیرِ اعظم ٹروڈو نے بھارت کے ملوث ہونے سے متعلق بات کی تھی۔اس بیان کے بعد کینیڈا اور بھارت کے مابین سفارتی کشیدگی کا باعث بننے والے ہردیپ سنگھ نجر کے قتل اور اس کے دیگر پہلوؤں کے ساتھ اب انٹیلی جنس شیئرنگ کے اتحاد ’فائیو آئیز‘ کا کردار بھی زیرِ بحث ہے۔
حالیہ برسوں کی بات کی جائے تو ستمبر 2021 میں جب سیکیورٹی خدشات کی بنا پر نیوزی لینڈ کی کرکٹ ٹیم کا دورۂ پاکستان منسوخ ہوا تو یہاں خبروں میں ’فائیو آئیز‘ کی بازگشت سنائی دی۔ نیوزی لینڈ نے فائیو آئیز کی جانب سے دیئے گئے تھریٹ الرٹ کو دورے کی منسوخی کی وجہ قرار دیا تھا۔فائیو آئیز انٹیلی جینس نیٹ ورک میں پانچ ممالک امریکہ، برطانیہ، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور کینیڈا شامل ہیں اور اس انٹیلی جینس نیٹ ورک کی تاریخ دوسری عالمی جنگ سے جا ملتی ہے۔سن 1939 میں شروع ہونے والی دوسری عالمی جنگ میں محوری قوتیں اور اتحادی مدمقابل تھے۔ محوری قوتوں میں جرمنی، اٹلی اور جاپان شامل تھے جب کہ ان کے مقابل فرانس برطانیہ، امریکہ اور سوویت یونین اتحادی کیمپ کا حصہ تھے۔ابتدائی طور پر امریکہ اور برطانیہ کے درمیان 1941 میں ہونے والے ’اٹلانٹک چارٹر‘ سے اس اتحاد کی بنیاد پڑی۔ 1943 میں امریکہ اور برطانیہ کے درمیان ہونے والے ’بروسا‘ معاہدے کے بعد اس تعاون میں مزید اضافہ ہوا۔سن 1946 میں جب جنگ کا خاتمہ ہوا تو برطانیہ کے وزیرِ اعظم ونسٹن چرچل نے اتحادیوں کے ساتھ ’خصوصی تعلق‘ کی بات کرنا شروع کر دی۔
ان کا اشارہ امریکہ اور دیگر اتحادیوں کے ساتھ انٹیلی جینس کے تبادلے کی سطح پر تعلقات قائم کرنے کی جانب تھا۔دوسری عالمی جنگ کے بعد بروسا معاہدہ 1946 تک یو کے۔یوایس اے ایگریمنٹ میں تبدیل ہو گیا۔ امریکہ اور برطانیہ کے ساتھ اب اس معاہدے میں آسٹریلیا، کینیڈا اور نیوزی لینڈ بھی شامل ہو گئے۔انٹیلی جینس ماہرین کے مطابق دوسری عالمی جنگ کے بعد امریکہ اور اس کے مغربی اتحادیوں کے ساتھ سوویت یونین کی ’سرد جنگ‘ کا آغاز ہوا تو اس کے ساتھ ہی خفیہ معلومات کے تبادلے کو مزید اہمیت حاصل ہو گئی۔فائیو آئیز پر مرتب ہونے والی کتاب ’دی برج ان دی پارکس: دی فائیو آئیز اینڈ کولڈ وار‘ کے مطابق سرد جنگ کے دوران سوویت یونین نے امریکہ اور دیگر مغربی ممالک میں اپنی خفیہ سرگرمیاں تیز کردی تھیں۔سوویت یونین کی جاسوسی اور خفیہ سرگرمیوں پر نظر رکھنے کے لیے فائیو آئیز ممالک نے 1960 کی دہائی میں ’ایشلون‘ نامی سرویلیئنس پروگرام کا آغاز کیا۔
تاہم نگرانی کا یہ پروگرام کئی دہائیوں تک خفیہ رہا۔’دی برج ان دی پارک‘ کے مطابق سرد جنگ ختم ہونے کے بعد نائین الیون کے واقعات نے ایک بار پھر فائیو آئیز کے انٹیلی جینس شیئرنگ کے نظام کو مزید متحرک کیا۔دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دوران فائیو آئیز کے باہمی تعاون سے دہشت گردوں کی سرگرمیاں روکنے میں مدد ملی۔ 2006 میں امریکہ اور برطانیہ نے انٹیلی جنس شیئرنگ کر کے دس طیاروں میں دھماکہ کرنے کے منصوبے کو ناکام بنایا۔
ماہرین کے مطابق دہشت گردی کیخلاف جنگ میں اپنا کردار ادا کرنے کے ساتھ ساتھ اس اتحاد نے اپنے ماضی کے حریف روس اور 2018 کے بعد چین کی جاسوسی کی سرگرمیوں پر کڑی نگاہ رکھنا شروع کردی۔فائیو آئیز کے باہمی تعاون سے 2010، 2016 اور 2018 میں کئی روسی جاسوسوں کی گرفتاریاں بھی ہوئیں اور جاسوسی کے نیٹ ورک ختم کرنے میں مدد ملی۔فائیو آئیز سے متعلق 2013 میں ایک بڑا تنازع اس وقت سامنے آیا جب امریکہ کے خفیہ ادارے نیشنل سیکیورٹی ایجنسی (این ایس اے) کے لیے کام کرنے والے سابق اہل کار ایڈورڈ سنوڈن نے امریکی خفیہ ادارے این ایس اے، برطانیہ کی ایجنسی جنرل کمیونی کیشنز ہیڈ کوارٹرز (جی سی ایچ کیو) اور فائیو آئیز کے دیگر اداروں پر جاسوسی کرتے ہوئے قوانین کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا۔



