بین الاقوامی خبریںسرورق

سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان تعلقات قائم ہونے میں کیا رکاوٹ ہے؟

سعودی عرب اور اسرائیل نے حالیہ دنوں میں ایک دوسرے کے ساتھ تعلقات کے قیام کے لییگرم جوشی کا اظہار

لندن، 27ستمبر :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) سعودی عرب اور اسرائیل نے حالیہ دنوں میں ایک دوسرے کے ساتھ تعلقات کے قیام کے لییگرم جوشی کا اظہار کیا ہے جس کے بعد یہ قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں کہ بہت سی رکاوٹوں کے باوجود دونوں ملک کسی تاریخی اتفاقی رائے کے قریب ہورہے ہیں۔سعودی عرب کے ولی عہد اور عملاً حکمران تصور ہونے والے شہزادہ محمد بن سلمان نے گزشتہ ہفتے امریکی ٹیلی وژن ’فوکس نیوز‘ کو ایک انٹرویو میں عندیہ دیا تھا کہ ہر گرزتے دن کے ساتھ ہم مشرقِ وسطیٰ میں ایک تاریخی پیش رفت کے قریب ہو رہے ہیں۔بعد ازاں اسرائیل کے وزیرِ اعظم بن یامین نیتن یاہو نے بھی اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں سعودی عرب کے ساتھ امن معاہدے کے قریب ہونے کا بیان دیا تھا۔یہاں ان عوامل کا جائزہ لیا گیا ہے جو آئندہ دنوں میں سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات کی بحالی سے متعلق حالات کی سمت متعین کرسکتے ہیں۔

گزشتہ ہفتے نیویارک میں امریکہ کے صدر جو بائیڈن سے ملاقات کے دوران اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ عربوں اور اسرائیل کے درمیان تنازعات کے حل کے لیے سعودی عرب سے تعلقات کی بحالی اہمیت کی حامل ہے۔ایسے کسی معاہدے کی صورت میں اسرائیل کی داخلی سیاست میں بھی نیتن یاہو کی پوزیش مستحکم ہوگی۔ اس وقت انہیں بد عنوانی کے الزامات اور عدالتی اصلاحات کے خلاف احتجاج کا سامنا ہے۔ ان حالات میں کوئی بڑی سفارتی کامیابی نیتن یاہو کے لیے سیاسی کامیابی بھی ثابت ہو سکتی ہے۔سعودی عرب نے امریکہ کی ثالثی سے اسرائیل اور بعض عرب ممالک کے درمیان ہونے والے معاہدۂ ابراہیم سے خود کو دور رکھا ہے۔ اس معاہدے کے تحت متحدہ عرب امارات، بحرین اور مراکش اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کرچکے ہیں۔ فلسطینی اس معاہدوں کو سختی سے مسترد کرتی ہیں۔

گزشتہ برس سعودی حکام نے اسی معاہدے کے تحت اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے واشنگٹن کے سامنے کچھ شرائط رکھی تھیں۔ ان شرائط میں امریکہ سے دفاعی تعاون اور یورنیم افزودگی کی صلاحیت کے ساتھ سویلین نیوکلیئر پروگرام کے لئے معاونت کی ضمانت حاصل کرنا شامل تھا۔صدر بائیڈن سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان تعلقات قائم کرنے کی بڑی سفارتی کامیابی کو مشرقِ وسطیٰ میں استحکام لانے اور ایران کے خطرے کو محدود کرنے کے لیے اہم سمجھتے ہیں۔

واشنگٹن کے انسٹی ٹیوٹ آف نیئر ایسٹ پالیسی سے وابستہ امریکہ کے سابق اعلیٰ سفارت کار ڈینسرروس کا کہنا ہے کہ ایران اور سعودی عرب کے درمیان چین کی ثالثی سے ہونے والے معاہدے کے بعد امریکہ اسرائیل سے تعلقات میں پیش رفت کے ذریعے ماضی کی طرح ریاض پر اپنا اثر و رسوخ بحال کرنا چاہتا ہے۔ڈینس روس کے مطابق اس سفارتی پیش رفت کے لیے سعودی عرب کی شرائط بہت بڑی ہیں تاہم یہ بات واضح ہے کہ بائیڈن حکومت بنیادی تصور سے متفق ہے اور اب نتائج لانے کے لیے کوشش کررہی ہے۔تاحال یہ واضح نہیں کہ واشنگٹن اور ریاض کے درمیان کسی ممکنہ دفاعی معاہدے کی نوعیت کیا ہوگی۔تھنک ٹینک فاؤنڈیشن فور ڈیفینس آف ڈیموکریسیز کا کہنا ہے کہ امریکہ سعودی عرب کو ’بڑے دفاعی شراکت دار‘ یا ’بڑے نان نیٹو اتحادی‘ کی حیثیت دینے پر غور کررہا ہے۔ اس صورت میں امریکہ سعودی عرب کو اس نوعیت کا دفاعی تعاون فراہم کرنے کا پابند نہیں ہوگا جیسا اسے اپنے نیٹو اتحادیوں کو فراہم کرنا پڑتا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button