بین الاقوامی خبریں

مستونگ بم دھماکہ : کون لوگ ہیں جو عید میلاد النبیؐ کے جلوس کو بھی نہیں بخشتے : متأثرین

شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ (داعش) نے دھماکے کی ذمے داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

کوئٹہ، 30ستمبر:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)سول اسپتال کوئٹہ میں ٹراما سینٹر کے گیٹ کے باہر مستونگ میں ہونے والے دھماکے میں زخمی افراد کے لواحقین کا جم غفیر تھا۔ ان میں ایک شخص صدام حسین تھے جن کے خاندان کے 15 افراد ہلاک جب کہ 30 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔صدام حسین نے بتایا کہ وہ شدید پریشانی اور غم میں مبتلا ہیں۔ ان کے گھر سے اتنی زیادہ نعشیں اٹھی ہیں کہ انہیں کچھ سمجھ نہیں آ رہا ہے کہ وہ کیا کریں اور کہاں جائیں۔صدام حسین نے بتایا کہ اب بھی ان کے خاندان کے 15 افراد مختلف اسپتالوں میں زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ان کے بقول میں مستونگ کے بس اڈے پر موجود تھا کہ مجھے کسی سے معلوم ہوا کہ حاجی کوڑا کے علاقے میں مدنی مسجد کے پاس ایک دھماکہ ہوا ہے۔

میں اسی وقت وہاں سے نکل گیا اور تقریباً 20 منٹ کے اندر دھماکے کی جگہ پہنچا۔انہوں ںے بتایا کہ دھماکے کے مقام پر ہر طرف لاشیں ہی لاشیں تھیں۔ زخمیوں کو لوگ اپنی مدد آپ کے تحت اسپتال منتقل کر رہے تھے۔ وہ بھی لوگوں کو بچانے اور اپنے رشتہ داروں کو تلاش کرنے میں مصروف ہو گئے۔ہمیں گھروں سے بار بار فون آرہے ہیں کہ ان کہ پیارے کیسے ہیں۔ ہم کس طرح انہیں بتائیں کہ وہ اب اس دنیا میں نہیں رہے۔صدام حسین نے کہا کہ لوگ میلاد منا رہے تھے۔ نہ جانے کون ایسے لوگ ہیں جو میلاد کے جلوس کو بھی نہیں چھوڑتے اور ناحق لوگوں کا خون بہاتے ہیں۔مستونگ بلوچستان کے مرکزی شہر کوئٹہ سے تقریباً 60 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ایک ضلع ہے۔ماضی میں بھی مستونگ کے علاقے میں مذہبی اور سیاسی اجتماعات پر ہلاکت خیز حملے ہوتے رہے ہیں۔

سال 2017 میں مستونگ میں ڈپٹی چیئرمین سینٹ مولانا عبدالغفور حیدری کے قافلے کے قریب دھماکے میں 25 افراد ہلاک ہوئے تھے۔سال 2018 میں مستونگ کے علاقے درینگڑ کے قریب بلوچستان عوامی پارٹی کی انتخابی مہم کے دوران خودکش حملے کے نتیجے میں سابق وزیراعلیٰ بلوچستان نواب اسلم رئیسانی کے چھوٹے بھائی سراج رئیسانی سمیت 128 افراد ہلاک جب کہ 150 زخمی ہوئے تھے۔بلوچستان کے سینئر صحافی اور تجزیہ کار سلیم شاہد نے کہا کہ نائین الیون کے بعد پاکستان میں شدت اور عسکریت پسندی میں اضافہ ہوا۔ جن لوگوں کو سوویت یونین کے خلاف افغانستان میں جہاد کے لیے لایا گیا وہ امریکہ کے افغانستان آنے کے بعد یہاں پاکستان میں آگئے اور ملک میں دہشت گردی کے واقعات میں اسی وقت سے اضافہ ہوا۔

سلیم شاہد کے بقول بلوچستان اس وقت ایک پر امن صوبہ تھا مگر اس کے بعد بلوچستان میں بھی دہشت گردی کے واقعات ہونے لگے، محرم کے جلوسوں اور سیکیورٹی فورسز پر حملے ہوتے رہے ہیں۔”انہوں نے کہا کہ شاید مستونگ میں شدت پسند زیادہ تعداد میں جمع ہوگئے ہیں اور اسی وجہ سے گزشتہ الیکشن میں نوابزادہ سراج رئیسانی پر حملہ ہوا، مولانا غفور حیدری اور گزشتہ دنوں حافظ حمد اللہ پر بھی مستونگ میں ہی حملہ ہواتھا۔سلیم شاہد کے مطابق بلوچستان میں میلاد کے جلوسوں پر اس طرح کا حملہ اس سے پہلے کبھی نہیں ہو اور یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے جو مستونگ میں پیش آیا ہے۔

شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ (داعش) نے دھماکے کی ذمے داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔مستونگ میں پیغمبر اسلامؐ کے یومِ ولادت کے سلسلے میں نکالی جانے والی ایک ریلی میں دھماکے کے نتیجے میں کم از کم 52 افراد ہلاک اور 50 سے زائد زخمی ہو ئے ہیں۔ جب کہ کئی زخمیوں کی حالت تشویش ناک بیان کی جاتی ہے۔انسپکٹر جنرل بلوچستان پولیس عبدالخالق شیخ کے مطابق خود کش بمبار کو روکنے کے دوران دھماکہ ہوا جس میں ایک پولیس افسر ہلاک اور تین زخمی بھی ہوئے ہیں۔ اسسٹنٹ کمشنر عطاء المینم نے بتایا کہ جب دھماکہ ہوا تو میں تقریباً 80 میٹر کے فاصلے پرتھا، جلوس میں تقریباً ایک ہزار سے زائد افراد شامل تھے جب کہ مزید لوگ بھی اکھٹے ہو رہے تھے۔ دھماکے سے 50 سے زائد افراد ہلاک جب کہ 60 کے قریب زخمی ہوئے، جن میں سے 16 کی حالت تشویشناک ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button