سرورقصحت اور سائنس کی دنیا

بچاؤ کے طریقے,موسمِ برسات کی بیماریاں

بارش کا موسم نعمت کی طرح ہوتا ہے

سخت گرمی کے بعد بارش کا موسم نعمت کی طرح ہوتا ہے۔لیکن دوسری طرف اس موسم میں ہونے والی نمی اور گرمائی لاتعداد بیکٹیریا کی تیزی سے افزائش کرتی ہے۔بیماریوں کی ایک وجہ بارش کا گندا پانی بھی ہے۔ پانی سے پیدا ہونے والی بیماری کے علاج کے لئے اکثر لوگ بیماری کو سمجھے بغیر خود سے اینٹی بائیوٹک بھی کھانا شروع کردیتے ہیں جو بعض اوقات فائدہ پہنچانے کے بجائے الٹا نقصان پہنچا دیتی ہیں۔کیونکہ ان کے استعمال سے جسم میں موجود فائدہ مند بیکٹیریا بھی ختم ہو جاتے ہیں جس کی وجہ سے جسم اور زیادہ بیماریوں کا شکار ہونے لگتا ہے۔اس لئے یہ جاننا ضروری ہے کہ پانی سے پیدا ہونے والی بیماریوں کا کس طرح علاج کرنا چاہئے۔

گیسٹرو کی بیماری

بارش کے موسم میں ہونے والی نمی اور گرمائی کی وجہ سے کھانے کی چیزوں میں بھی بیکٹیریا پیدا ہوجاتے ہیں۔ایسا کھانا کھانے سے لوگ گیسٹرو اورفوڈ پوائزننگ کا شکار ہو جاتے ہیں گیسٹرو کی ابتدائی علامات پیٹ میں مروڑ،متلی،الٹی،دست کی صورت میں ظاہر ہوتی ہیں۔

بچاؤ: اس کے لئے ضروری ہے کہ زیادہ سے زیادہ پانی پیا جائے۔ بہت زیادہ چٹ پٹے کھانے یا کچی چیزیں نہ کھائیں۔خاص طور پر ٹھیلوں پر بکنے والی چیزیں کھانے سے گریز کریں۔

ٹائیفائڈ

ٹائیفائڈ پانی میں پیدا ہونے والے بیکٹیریا سالمونیلا کی وجہ سے ہوتا ہے۔ٹائیفائڈ کی بیماری آلودہ پانی پینے اور خراب غذا کھانے کی وجہ سے ہوتی ہے۔اس کی وجہ سے تیز بخار،پیٹ میںدرد،الٹی اور سر دردکی علامات ظاہر ہوتی ہیں۔ بعض اوقات علاج مکمل ہونے کے بعد بھی یہ انفیکشن باقی رہ جاتا ہے۔

بچاؤ : ٹائیفائڈ سے محفوظ رہنے کے لئے ابلا ہوا صاف پانی پینا چاہئے۔ صفائی کا خاص خیال رکھا جائے اور ہر کھانے سے پہلے ہاتھوں کو اچھی طرح دھویا جائے۔

ہیضہ

بارش کے موسم میں پھیلنے والی خطرناک بیماری ہے جو جان لیوا بھی ثابت ہو سکتی ہے۔صفائی کا ناقص نظام،خراب کھانا اورگندا پانی اس بیماری کی اہم وجوہات ہیں۔اس کی علامات میں بہت زیادہ دست اور الٹیاں آنا شروع ہو جاتی ہیں جس کی وجہ سے چند ہی گھنٹوں میں جسم کا پانی ختم ہو جاتا ہے اور الیکٹرولائٹس کم ہو جاتے ہیں۔ ہیضہ کی بیماری پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ چند ہی گھنٹوں میںاس کا مریض جان سے ہاتھ دھو سکتا ہے۔

بچاؤ : ہیضہ سے بچنے کیلئے صاف پانی پیا جائے،صفائی کا خاص خیال رکھا جائے،بار بار ہاتھ دھوئے جائیں۔اس کے مریض کے پاس جاتے وقت نہایت احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔مریض کی حالت زیادہ خراب ہو تو اسے ہاسپٹل میں داخل کرنے کی بھی ضرورت پڑ سکتی ہے۔

یرقان

جلد اور آنکھوں کے سفید حصے پر پیلا ہٹ ظاہر ہونے کی وجہ سے یہ مرض فوری طور پر پہچان لیا جاتا ہے۔اس کی وجہ بھی آلودہ اور انفیکشن زدہ پانی ہوتا ہے۔ یرقان کی وجہ سے خون میں بلوربن بڑھ جاتا ہے حتیٰ کہ جسم میں موجود لکوئڈ بھی پیلا نظر آنے لگتا ہے۔رنگت پیلی ہونے کے ساتھ اس میں بخار اور جسم میں درد بھی ہوتا ہے۔

بچاؤ : یرقان سے بچنے کے لئے اپنے معالج سے فوری رجوع کریں، گندی جگہوں پر کھانا کھانے سے گریز کرنا چاہئے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button