مفردات،روئی یا کپاس-حکیم محمد عدنان حبان نوادر رحیمی شفا خانہ بنگلور
ڈوڈہ کپاس یا چھلکا کپاس کو بچہ نکالنے، تنگی ایام اور ولادت میں آسانی پیدا کرنے کیلئے اس کا جوشاندہ استعمال کرتے ہیں
مختلف نام: ہندی کپاس، روئی کا پودا، سنسکرت کارپاسی، سمندرانتا، بنگالی کار پاس، گجراتی کاپا، سنوجھاڑ، مراٹھی کاپسی، انگریزی کاٹن پلانٹ اور لاطینی میں گوسی پیم(Gossypium) کہتے ہیں۔
شناخت: کپاس کے پودے سارے ہندوستان اور پڑوسی ممالک میں کثرت سے پیدا ہوتے ہیں۔یہ بڑے بڑے کھیتوں میں کاشت کی جاتی ہے۔ اچھے کپڑے سب کپاس سے ہی بنتے ہیں۔ کپاس کے پھول زردرنگ کے ہوتے ہیں اور اندر کچھ حصہ ان کا سرخ ہوتا ہے۔ ان میں تکونے پھل گولر کی مانند لگتے ہیں جن کے اند ر کپاس نکلتی ہے اور بیلن کے ذریعے ان سے روئی وبیج الگ الگ کرتے ہیں۔ یہی بیج بنولہ کہلاتا ہیں اس کے پتوں میں پانچ نوکیں(کونے)ہوتی ہیں،جیسے ارنڈ کے پتوں میں لیکن یہ بہت چھوٹے چھوٹے ہوتے ہیں۔کپاس نہ صرف سفید ہوتی ہے بلکہ کالی اور بھوری بھی ہوتی ہے اور سب کپڑے بنانے کے کام میں آتی ہیں۔ روئی کی فن جراحی میں بہت ضرورت پڑتی ہے۔کسی جگہ چوٹ یا درد ہو تو اس پر مالش کر کے اوپر سے روئی بھگو کر استعمال کرتے ہیں۔ ادویات کو ہوا سے محفوظ رکھنے کے لئے شیشی میں ادویات بھر کر اس کے اوپر صاف کی ہوئی روئی رکھی جاتی ہے۔زخموں اور سوجن کو گرمی پہنچانے کے لئے بھی روئی باندھی جاتی ہے۔
مزاج: گرم وخشک درجہ اوّل۔
مقدار خوراک: پھول کپاس 5 سے 7 گرام ، چھلکا یا ڈوڈہ کپاس جو شاندہ میں 6گرام سے 10 گرام۔
ماڈرن تحقیقات: اس کی چھال اور ڈوڈے کے چھلکے میں نشاستہ کرو موجن 28 فیصدی ،زردرال،گلوکوسائیڈ، ایک نہ اڑنے والا تیل ، تھوڑا ٹینن۔اس کے بیجوں میں 25 سے 30 فیصدی نہ اڑنے والا تیل البیومینائڈ ودیگر مواد فیصدی ،لگ بھگ 30فیصدی لگنن ہوتا ہے۔جڑ میں زرد رال، ڈائی ہائیڈر واد کسائی، بنزویک ایسڈ، فینول، پھولوں میں ایک گائسیپٹین پایا جاتا ہے۔ روئی میں 10 فیصدی نہ اڑنے والا تیل بھی پا یا جاتا ہے جس کی وجہ سے روئی پا نی میں فوراً بھیگتی ہے۔
فوائد: ڈوڈہ کپاس یا چھلکا کپاس کو بچہ نکالنے، تنگی ایام اور ولادت میں آسانی پیدا کرنے کیلئے اس کا جوشاندہ استعمال کرتے ہیں۔ ایلو پیتھک ڈاکٹر امراض رحم میں اسے ایکسٹر یکٹ ارگٹ کے قائم مقام سمجھتے ہیں۔
جوشاندہ
ولادت کے بعدبچہ دانی کی اچھی طرح صفائی کیلئے اور درد بخار کے لئے یہ جوشاندہ دیا جاتا۔ جڑ کی چھال 100 گرام کو موٹا کوٹ کر600 گرام پانی میں بھگو کر جوشاندہ بنائیں اور جوش دے کر 300 گرام رہنے پر چھان لیں۔ 25 گرام سے 50 گرام دن میں تین یا چار بار پلائیں۔ اس جوشاندہ میں سویا ،کلونجی اور گڑ ملا دیا جائے تو زیادہ مفید ہو جاتا ہے۔
ایام کی تنگی: کپاس کے پھول کے پتے ہر ایک 50-50 گرام ایک کلو پانی میں بھگو کر رکھیں، چھ گھنٹہ بعد جوش دیں،250 گرام باقی رہنے پر اس میں 40گرام گْڑ ملالیں اور چھان کر 50-50 گرام جو شاندہ دن میں تین چار بار پلائیں۔ ایام کھل کر آئیں گے اور درد بھی دور ہوجائے گا۔
پھوڑا پھنسی: کپاس کے پتوں کی پلٹس پھوڑے ،پھنسی و بواسیر کے مسوں پر بند ھوانے سے سوجن و پھوڑا ٹھیک ہو جاتا ہے۔
مدہوشی: کپاس کے پھولوں کا شربت پانی کے سا تھ پلائیں۔ اس سے مانسک روگ (ذہنی بیماری) اداسی، وہم و انماد (مدہوشی، نشہ) جیسے امراض دور ہو جاتے ہیں۔
آشوب چشم: کپاس کے پھولوں کی پنکھڑیوں کو گائے کے دودھ میں پیس کر آنکھوں پر لیپ کریں۔اس سے جلد آرام آجائے گا۔
پائیوریا: کپاس کے کچے پھلوں کو جلا لیں اور اس راکھ کو دانت منجن کی صورت میں لگائیں۔ پائیوریا کو آرام آ جائے گا۔
جوشاندہ بندش ایام: کپاس کے پتے وپھول 25-25گرام کو 25گرام پانی میں 6گھنٹے بھگو کر رکھیں۔ پھر جوش دے کر نصف رہنے پر چھان کر دس گرام گڑ ملا کر پلائیں ، بندش ایام و درد ایام میں بے حد مفید ہے۔ گوبھی ، آلو اور چاول سے پرہیز کریں۔
ماہیت: کپاس ہندوستان کا مشہور پوداہے۔ جو کئی اقسام کا ہوتا ہے۔ یہ تقریبا پانچ فٹ تک بلند ہو جاتا ہے۔ اس کے پتے تین سے سات نوک والے پھٹے ہوئے لیکن ہتھیلی کی طرح جڑے ہوئے ہوتے ہیں۔ پھول گھنٹی کی طرح زرد‘ سرخی مائل اور بیگنی رنگ کے ہوتے ہیں۔ پھل تکونے سے ڈوڈے لگتے ہیں۔
جن کے اندر سفید یا کتھئی رنگ کی روئی ہوتی ہے۔ روئی کے اندر پانچ سات دانے( تخم)چمٹے ہوتے ہیں۔ جن کو مختلف مشینوں سے بیل کر الگ کر لیا جاتا ہے جو کہ دوبارہ کاشت کے علاوہ بطور دواء ( پنبہ دانہ یا بنولہ) استعمال کیا جاتا ہے اور اس سے روغن نکال کر کھال بھی تیار کی جاتی ہے جو جانوروں کو بطور مقوی کھلاتے ہیں۔
اس پودے کے تمام اجزاء استعمال ہوتے ہیں۔
گل پنبہ: گرم تر درجہ اول۔ بیخ کپاس وڈوڈہ گرم وخشک۔
افعال: روئی مسکن و مجفف، گل پنبہ مفرح۔
بیخ: مدر حیض‘ مسقط جینین و مخرج مشیمہ اور مسہل ولادت۔
استعمال: بنی ہوئی روئی کو اورام پر گرمی پہنچانے اور زخموں پر ان کی حفاظت کے لئے باندھتے ہیں نیز روئی یا روئی کے کپڑے کو جلاکر مرہموں میں شامل کرتے ہیں۔ یہ مجفف ہونے کی وجہ سے زخموں کو خشک کرتا ہے۔ گل پنبہ کا شربت بنا کرخفقان حار جنون وسواس میں استعمال کرتے ہیں۔ ڈوڈہ کپاس اور بیخ کپاس کو اسقاط و اخراج ’مشیمہ‘ بندش و تنگی حیض اورولادت میں سہولت پیدا کرنے کے لئے اس کا جوشاندہ عموما ًاستعمال کرتے ہیں۔



