بین الاقوامی خبریںسرورق

جنوبی لبنان سے اسرائیل پر کئی راکٹ فائر،لبنان،شام ،اسرائیل سرحد پر بھی کشیدگی

جنگ شام کی سرحدوں تک پہنچ گئی، اسرائیلی اور شامی فورسز کے درمیان جھڑپ

مقبوضہ بیت المقدس، 11اکتوبر:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)لبنان کے جنوبی علاقے سے اسرائیل کے جانب راکٹ فائر کیے گئے ہیں۔خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اس لبنان اسرائیل سرحد پر بھی تین دن سے کشیدگی کا ماحول ہے۔جنوبی لبنان سے اسرائیل پر ہونے والے تازہ حملوں کے بارے میں روئٹرز کو تین سیکورٹی ذرائع نے بتایا ہے۔ایک سکیورٹی ذریعے نے بتایا کہ بمباری فلسطینی گروپوں کی طرف سے کی گئی ہے۔ایک دوسرے ذریعے نے بتایا کہ اسرائیل کی جانب سے لبنان کے جنوبی علاقے پر گولہ باری کی گئی، جہاں سے راکٹ داغے گئے تھے۔اسرائیلی فوج نے کہا کہ وہ لبنانی سرزمین سے آنے والے راکٹوں کا توپ خانے کی مدد سے جواب دے رہی ہے۔

جنوب میں اقوام متحدہ کی عبوری امن فوج (یو این ایف آئی ایل) نے کہا کہ وہ راکٹ داغے جانے کی اطلاعات کی تصدیق کر رہی ہے۔دوسری جانب حزب اللہ نے فلسطینیوں کی حمایت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی بندوقیں اور راکٹ فلسطینیوں کے ساتھ ہیں۔اتوار کو حزب اللہ نے سرحد کے ساتھ متنازع شیبہ فارمز میں تین اسرائیلی تنصیبات اور پیر کو اسرائیل میں دو مزید فوجی چوکیوں پر فائرنگ کی تھی۔لیکن بھاری ہتھیاروں سے لیس حزب اللہ نے اب تک اسرائیل کے خلاف کوئی دوسرا نمایاں محاذ نہیں کھولا ہے۔

جنگ شام کی سرحدوں تک پہنچ گئی، اسرائیلی اور شامی فورسز کے درمیان جھڑپ

فلسطین کے علاقے غزہ کی پٹی پر حماس اور اسرائیلی فوج کے درمیان گھمسان کی جنگ کے لڑائی شام اور لبنان کی سرحد تک پہنچ گئی ہے۔منگل کی شام اسرائیلی فوج نے گولان کی پہاڑیوں کی طرف سے کی گئی گولہ باری کے جواب میں شامی علاقے پر توپ خانے سے بمباری کی۔اسرائیلی فوج کے ایک ترجمان نے کہا کہ ان کی افواج نے "شام کی سرزمین کے اندر سے اسرائیلی علاقے کی طرف کئی گولے داغے جانے کی نشاندہی کے بعد شامی علاقے کے اندر میزائل داغنے اور مارٹر فائر سے جواب دیا۔شام کی طرف سے بمباری کی نوعیت کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں ایک اسرائیلی فوجی عہدیدار نے کہا کہ یہ مارٹر گولے تھے۔

غزہ کی پٹی میں حالیہ کشیدگی کے آغاز کے بعد سے یہ پہلا موقع ہے کہ اسرائیل اور شام کے درمیان سرحد پار سے گولہ باری کا تبادلہ ہوا ہے۔سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس نے بتایا کہ گولان پر بمباری "لبنانی حزب اللہ کے ساتھ مل کر کام کرنے والے فلسطینی دھڑوں” نے کی۔شامی سرزمین سے میزائل داغنا اور اس پر اسرائیلی ردعمل حماس کے عسکری ونگ (اعزالدین القسام بریگیڈز) کی جانب سے جنوبی لبنان سے اسرائیل کی طرف راکٹ داغنے کی ذمہ داری قبول کرنے کے چند گھنٹے بعد سامنے آیا ہے۔

غزہ کے واحد پاور پلانٹ میں زیادہ سے زیادہ مزید 12 گھنٹے کا ایندھن باقی رہ گیا

فلسطینی انرجی اتھارٹی کے چیئرمین تھافر میلہم نے بدھ کے روز وائس آف فلسطین ریڈیو کو بتایا کہ غزہ کی پٹی کا تنہا اور موجودہ بجلی فراہم کرنے والے واحد پاور پلانٹ کا ایندھن 10 سے 12 گھنٹے میں ختم ہو جائے گا۔فلسطینی مسلح افراد کی طرف سے بڑے پیمانے پر دراندازی کے جواب میں اسرائیل نے "مکمل محاصرے” کے ایک حصے کے طور پر پیر کو غزہ کو اپنی بجلی کی سپلائی منقطع کر دی۔

ہم بچوں کو نہیں مارتے مغربی میڈیا اصل مجرم کو سامنے لائے:مزاحمتی قیادت

اسلامی تحریک مزاحمت [حماس] اور دوسری فلسطینی مزاحمتی قیادت نے مغربی ذرائع ابلاغ اور صہیونی ریاست کی طرف سے بچوں کو نشانہ بنانے کے منفی پروپیگنڈے کو مسترد کردیا ہے۔ مزاحمتی قیادت نے ایک بیان میں کہا ہے کہ مغربی میڈیا صہیونی ریاست کے گمراہ کن بیانیے پر یقین کرکے حقائق سے چشم پوشی کا مرتکب ہو رہا ہے۔ مغربی ذرائع ابلاغ کو چاہیے کہ وہ صہیونی ریاست کے بیانیے پرکان دھرنے کے بجائے پیشہ وارانہ اسلوب اپنائے اور بچوں کو نشانہ بنائے جانےسے متعلق افواہوں کی چھان بین کرکے خبریں جاری کرے۔ آج بدھ کے روز ایک پریس بیان میں حماس نے بعض مغربی ذرائع ابلاغ کی طرف سے اٹھائے گئے ان من گھڑت الزامات کی سختی سے تردید کی جو فلسطینی عوام اور ان کی مزاحمت کے خلاف جھوٹ اور بہتان سے بھرے صہیونی بیانیے کو غیر پیشہ ورانہ طور پر اپناتے ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ نہتے اور معصوم شہریوں اور بچوں کو بے دردی سے قتل کرنے کا وطیرہ اسرائیلی ریاست کا ہے اور پوری دنیا میں اس کے شواہد بھی موجود ہیں۔

فلسطینی مزاحمتی قیادت پر بچوں کو جنگ میں نشانہ بنانے کا الزام عاید کرکے صہیونی ریاست کے فلسطینیوں کے خلاف گھناؤنی جرائم سے توجہ ہٹانے کی مذموم کوشش کی جا رہی ہے۔ مزاحمتی فورسز اس طرح کے جھوٹے اور مکروہ پروپیگنڈے کو مسترد کرتی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ مغربی دنیا تعصب کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسرائیلی جنگی جرائم کے حوالے سے آنکھی بند کیے ہوئے ہے۔ حماس نے کہا کہ پوری دنیا جانتی ہے کہ صہیونی ریاست نے غزہ کے دو ملین سے زائد لوگوں کی خوراک، پانی، بجلی اور ادویات سمیت ہرطرح کی ضروریات ختم کردی ہیں۔ صہیونی مجرم کھلے عام نہتے فلسطینیوں کے خلاف جنگی جرائم کا مرتکب ہو رہاہے جب کہ عالمی بالخصوص مغربی میڈیا حقائق سے منہ موڑ کر مجرموں کو تحفظ دینے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے

متعلقہ خبریں

Back to top button