
حماس کا حملہ داعش کی سطح کی وحشیانہ کارروائی ہے، امریکی محکمہ دفاع
امریکی محکمہ دفاع کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے اسرائیل کے لیے مکمل حمایت کا اظہار کرتے ہوئے کہا
واشنگٹن، 11اکتوبر:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) امریکی محکمہ دفاع کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے اسرائیل کے لیے مکمل حمایت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیلی شہریوں پر حماس کا حملہ داعش کی سطح کی وحشیانہ کارروائی سے کم نہیں ہے۔امریکی محکمہ دفاع کے ایک سینئر عہدے دار کا یہ بیان اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نتن یاہو کے تبصروں کی باز گشت ہے۔ انہوں نے بھی حماس کو دہشت گرد گروپ داعش سے منسلک کیا تھا جو سر قلم کرنے اور موت کی دوسری سزاؤں کو سوشل میڈیا پر پوسٹ کرنے کے لیے بدنام ہے۔میرے خیال میں اس کو ایسے تناؤ یا تنازعات کے طور پر دیکھنے کی جبلت ہے جو ہم نے فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کے درمیان دیکھے ہیں ۔اہلکار نے پنٹاگون کے طے کردہ اصولوں کے تحت نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر رپورٹرز کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا، تاہم یہ مختلف ہے؟
عہدے دار نے کہا کہ حماس کے عسکریت پسندوں کا پورے اسرائیل میں جانا، بچوں کو ان کے والدین کے سامنے ہلاک کرنا، موسیقی کی تقریبات میں اندھا دھند قتل عام کرنا، خاندانوں کے پورے مکانات کو اس وقت نذر آتش کر دینا جب وہ بنکرز میں پناہ لیے ہوئے ہوں۔۔ اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔۔عہدید ار نے مزیدکہا کہ ہم اسرائیل کی، اور اس کی جانب سے اپنے شہریوں اور اپنے علاقے کو حماس سے محفوظ بنانے کو یقینی بنانے کے رد عمل کی حمایت کرتے ہیں۔اور یہ تسلیم کرتے ہیں کہ اسرائیل کو اپنے دفاع کی بحالی کے کسی رد عمل کی ضرورت تھی۔امریکہ پہلے ہی یو ایس ایس جیرالڈآر فورڈ اسٹرائیک گروپ کو مشرقی بحیرہ روم کی طرف جانے کا حکم دے چکا ہے جس میں امریکی بحریہ کے جدید ترین طیارہ بردار بحری جہاز، گائیڈڈ میزائیل کروزر اور پانچ گائیڈڈ میزائل ڈیسٹرایرز شامل ہیں۔



