بین الاقوامی خبریںسرورق

حماس سے جنگ بندی پر بات چیت تمام یرغمالیوں کی رہائی کے بعد ممکن : امریکی صدر جو بائیڈن

پنٹاگان نے جنگ کے ایک ماہر سمیت مشیروں کو اسرائیل بھیج دیا

واشنگٹن، 24اکتوبر :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ غزہ میں جنگ بندی کے بارے میں کوئی بھی بات چیت صرف اسی صورت میں ہو سکتی ہے جب حماس تمام یرغمالیوں کو رہا کرے۔فرانسیسی نیوز ایجنسی اے ایف پی کے مطابق پیر کو وائٹ ہاؤس کے ایک ایونٹ میں ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ یرغمالیوں کے لیے جنگ بندی کے معاہدے کی حمایت کریں گے تو امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ’ہمیں ان یرغمالیوں کو رہا کرانا چاہیے اور پھر ہم بات کر سکتے ہیں۔

اس کے بعد بائیڈن نے اگلے سال کے انتخابات سے قبل اپنے اقتصادی پروگرام کو فروغ دینے کے لیے منعقد کی گئی تقریب چھوڑنے پر کہتے ہوئے معذرت کی کہ انھیں وائٹ ہاؤس کے ’سچویشن روم‘ میں جانا ہے۔ ایک اور مسئلہ ہے جس سے مجھے نمٹنا ہے۔جو بائیڈن کا یہ بیان اس کے فوراً بعد سامنے آیا جب حماس نے کہا کہ انہوں نے اسرائیل سے اغوا کی گئی مزید دو خواتین کو رہا کر دیا ہے۔امریکی قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان نے کہا کہ ’ہم حماس کے ہاتھوں یرغمال بنائے گئے دو اسرائیلی شہریوں کی آج کی رہائی کا خیرمقدم کرتے ہیں۔

ہم غزہ میں باقی تمام یرغمالیوں کی رہائی کو محفوظ بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش جاری رکھے ہوئے ہیں۔اسرائیل نے پیر کے روز تصدیق شدہ یرغمالیوں کی تعداد بڑھا کر 222 کر دی تھی۔اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ حماس کے عسکریت پسندوں کے حملے میں 1400 افراد کو ہلاک ہو چکے ہیں۔غزہ کی حماس کے زیر انتظام ہیلتھ اتھارٹی کا کہنا ہے کہ اب تک 5000 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔بائیڈن نے اتوار کے روز پوپ فرانسس کے ساتھ اسرائیل اور حماس کے تنازع اور غزہ میں انسانی صورتحال کے بارے میں ٹیلی فون پر گفتگو کی۔بائیڈن نے کہا کہ ’پوپ اور میں ایک ہی صفحے پر ہیں، وہ بہت، بہت دلچسپی رکھتے ہیں کہ ہم کیا کر رہے ہیں۔‘ امریکی صدر نے کہا کہ انہوں نے اسرائیل کے لیے امریکی حمایت کے حوالے سے ان کے سامنے ’گیم پلان‘ رکھا۔


مزید دو یرغمال خواتین کی رہائی ،امریکہ کی جانب سے اسرائیل کو زمینی حملہ مؤخر کرنے کا مشورہ دینے کی اطلاعات

نیویارک، 24اکتوبر :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی نے کہا ہے کہ حماس نے دو معمر یرغمال خواتین کو پیر کے روز رہا کر دیاہے۔رہائی ایک ایسے وقت میں عمل میں آئی ہے جب ایسو سی ایٹڈ پریس کے مطابق امریکہ نے اسرائیل پر زور دیا ہے کہ وہ غزہ میں ایک ممکنہ زمینی حملے کو موخر کر دے تاکہ امریکہ کو علاقائی شراکت داروں کے ساتھ حماس کے پاس موجود یرغمالوں کی رہائی پر کام کیلیے مزید وقت مل جائے۔یہ دوسری بار ہے کہ گروپ نے سات اکتوبر کو اسرائیل پر سر حد پار حملے میں پکڑے گئے یرغمالوں کو رہا کیا ہے۔ اسرائیلی میڈیا نے ان یرغمالوں کی شناخت Yocheved Lifshitz اور Nurit Cooper کے طور پر کی ہے جنہیں غزہ کی سرحد کے قریب اسرائیلی علاقے Nir Oz میں kibbutz کے مقام سے پکڑکر غزہ لے جایا گیا تھا۔حماس نے ایک بیان میں کہا کہ اس نے انہیں انسانی ہمدردی کی وجوہات کی بنیاد پر رہا کیا ہے۔

سات اکتوبر کے حملوں میں جن 222 سے زیادہ لوگوں کے بارے میں خیال ہے کہ انہیں یرغمال بنایا گیا ان کی رہائی کی کوششوں کا یہ سلسلہ، حماس کی کارروائی کے فوراً بعد شروع ہو گیا تھا۔یہ بات اس معاملے پر بائیڈن انتظامیہ کی سوچ سے واقف ایک امریکی عہدے دار نے بتائی ہے۔ عہدے دار نے اپنا نام خفیہ رکھنے کی درخواست پر گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ یہ واضح نہیں ہے کہ اس استدلال کا اسرائیلی سوچ پر کتنا اثر پڑے گا۔عہدے د ار نے کہا کہ حماس کیساتھ ثالثی میں قطر کی مدد سے دو یرغمال خواتین، جوڈیتھ اور نتالیہ رانن کی رہائی میں مدد ملی تھی۔

اسی دوران پیر کے روز ترکیہ نے غزہ کیلیے طبی آلات اور رسدوں سے بھرے دو بار بردار طیارے مصر بھیجے ہیں۔ ترکیہ کے وزیر صحت نے مزید کہا کہ مزید رسدوں سے بھرے دو اور طیارے بھی وہاں بھیجے جائیں گے۔سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر انہوں نے کہا کہ مال بردار طیارے میں ادویات، جنریٹرز، طبی ساز و سامان، انکیوبیٹرز، فوٹو تھیراپی مشینری، ڈائیپرز اور بے بی فوڈ بھیجا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ طبی رسدوں میں ہنگامی ضرورت کے آلات، ٓپریٹنگ ٹیبلز، وینٹی لیٹرز، الٹرا ساؤنڈ مشینیں اور لڑائی میں زخمی ہونیوالوں کے لیے آرتھو پیڈک ساز و سامان شامل تھا۔اس ماہ کے شروع میں ترکیہ نے غزہ کے لیے امداد سے بھرے تین طیارے بھیجے تھے۔

برطانیہ کے وزیر اعظم سونک نے برطانوی قانون سازوں کو بتایا ہے کہ برطانیہ حماس کے خلاف اس کی جنگ میں اسرائیل کے ساتھ کھڑا ہے لیکن اس بات کو یقینی بنانے کے لیے بھی کام کرے گا کہ امداد کا ایک مستقل سلسلہ غزہ میںخوفناک مصائب میں مبتلا شہریوں تک پہنچے۔ انہوں نے غزہ کے لیے برطانیہ کی انسانی امداد میں 20 ملین پاؤنڈ (24 ملین ڈالر) کا اعلان کیا۔پیرکے روز لکسمبرگ میں یورپی یونین کے وزرائے خارجہ کے ایک اجلاس میں آئرلینڈ کے وزیر خارجہ مائیکل مارٹن نے غزہ میں فوری طور پر جنگ بندی کی اپیل کی تاکہ وہاں عام شہریوں کو وہ امداد اور رسدیں پہنچائی جا سکیں جن کی انہیں سخت ضرورت ہے۔


پنٹاگان نے جنگ کے ایک ماہر سمیت مشیروں کو اسرائیل بھیج دیا

نیویارک، 24اکتوبر :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)امریکہ نے اسرائیل کیکسی جنگی منصوبے میں معاونت کے لیے شہری علاقوں میں جنگ کے ایک ماہر میرین کور جنرل سمیت، مشیروں کو اسرائیل بھیج دیا ہے۔امریکہ غزہ پر اسرائیل کی جانب سے کسی امکانی زمینی حملے سے پہلے جدید ترین فضائی دفاعی نظام مشرق وسطٰی بھیج رہا ہے جب کہ واسشنگٹن اپنے عملے کی حفاظت کی بھی کوشش کررہا ہے جو گزشتہ چند دن کے دوران حملوں کی زد میں آئے ہیں۔امریکی عملے پر حملوں کے جواب میں پینٹا گون نے اعلان کیا ہے کہ وہ کئی پیٹریاٹ میزائل ڈیفنس سسٹم بٹالینز اور ایک ٹرمینل High Altitude Area Defense سسٹم بھیجنے کے ساتھ ساتھ آئزن ہاور اسٹرائیک گروپ کی مشرق وسطیٰ میں ری پوزیشننگ کر رہا ہے۔اس معاونتی ٹیم کی قیادت کرنے والے افسروں میں سے ایک میرین کور لیفٹنٹ جنرل جیمز گلین ہیں جنہوں نے اس سے قبل فلوجہ عراق میں کچھ شہری علاقوں میں شدید لڑائی کے دوران عسکریت پسند گروپ داعش کے خلاف خصوصی آپریشنز فورسز کی قیادت میں مدد کی تھی۔

یہ بات ایک امریکی عہدے دار نے جسے لیفٹنٹ جنرل گلین کے رول کے بارے میں بات کرنے کا اختیار نہیں تھا، اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتائی۔عہدے دار نے بتایا کہ گلین شہری جنگ میں عام شہریوں کی ہلاکتیں کم کرنے کے طریقوں پر مشورے دیں گے جب کہ امریکہ کی جانب سے بھیجے جانے والے مشیر لڑائی میں شامل نہیں ہوں گے۔یہ فوجی ٹیم پینٹاگان کی ان سرعت سے حرکت کرنے والی ٹیموں میں سے ایک ہے جسے اسرائیل اور حماس کے درمیان اس تنازع کو ایک وسیع تر جنگ بننے سے روکنے کی کوشش میں متعین کیا جارہا ہے جو پہلے ہی بہت شدید ہو چکا ہے۔

اسرائیل ایک ایسی صورتِ حال میں بڑے پیمانے پر ایک زمینی کارروائی کی تیاری کررہا ہے جب عسکریت پسند گروپ حماس نے برسوں کے دوران پورے شمالی غزہ کے شہری گنجان آباد بلاکس میں سرنگوں کا ایک جال بچھا دیا ہے۔پیرکے روزقومی سلامتی کونسل کے ترجمان جان کربی نے کہا کہ اسرائیل کومشاورت فراہم کرنے والے فوجی عہدہ دار وہ تجربہ رکھتے ہیں جو اس قسم کی کارروائی کی مناسبت سے ہے جو اسرائیل کررہا ہے۔کربی نے کہا کہ ایران کچھ کیسز میں ان حملوں میں سرگرم سہولت کار تھا اور ایسے دوسروں کو تحریک دے رہا تھاجو خود اپنے مفاد میں یا ایران کے لیے، اس تنازع کو ’ایکسپلائیٹ‘ کرنا چاہتے ہیں۔ایران نے اسرائیل پر حماس کے حملے میں کسی طرح ملوث ہونے کی سختی سے تردید کی ہے۔ غزہ کے ایک اسپتال میں ہلاکت خیز دھماکے کے بعد سے،گزشتہ ہفتے کے دوران چھے بار سے زیادہ، مشرق وسطیٰ میں امریکہ کی فوجی لوکیشنز پر راکٹوں یا ڈرونز سے حملہ کیا گیا ہے۔


اسرائیل حماس جنگ: پناہ گزینوں کی بڑی تعداد یورپ جا سکتی ہے

لندن، 24اکتوبر :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)اسرائیل اور حماس کے درمیان جاری جنگ سے یورپی یونین کو ان بڑھتے ہوئے خدشات کا سامنا ہے کہ پناہ گزینوں کی ایک بڑی تعداد یورپی ممالک کا رخ کر سکتی ہے۔پناہ گزینوں کے امور سے متعلق یونان کے وزیر ڈیمڑیس کیریڈیس نے پیر کے روز اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے چوکس ہونے اور یورپی یونین کے رکن ممالک کے درمیان مزید یکجہتی کی اپیل کی ہے۔خبررساں ادارے رائٹرز کے ساتھ اپنے ایک انٹرویو میں کیریڈیس نے کہا کہ ” خطرہ تو ہمیشہ رہتا ہے۔ اگر مشرق وسطیٰ میں عدم استحکام کا پھیلاؤ بڑھتا ہے، اور خاص طور پر اگر یہ مصر جیسے پڑوسی ملکوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے، جس کی آبادی بہت زیادہ ہے، تو چیزیں واقعتاً خطرناک ہو سکتی ہیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمیں چوکس ہونے کی ضرورت ہے۔ ہمیں یورپی ہونے کے ناطے مزید قریب آنے کی ضرورت ہے۔

ہمیں اپنی سرحدوں کا تحفظ بہتر بنانے، اسمگلروں کے مجرمانہ نیٹ ورکس کے خلاف لڑنے اوران پناہ گزینوں کو واپس بھیجنے کی ضرورت ہے جو قانونی طور پر پناہ حاصل کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔سن 2015 میں یورپ کے نقل مکانی کے بحران کے دوران یورپی یونین کی حکومتوں نے 10 لاکھ سے زیادہ لوگوں کی آمد کے مسئلے سے نمٹںے کی کوشش کی تھی جن میں اکثریت شام سے تعلق رکھنے والے مہاجروں کی تھی، جو ترکی سے سرحد عبور کر کے یونان میں داخل ہوئے تھے۔ بڑی تعداد میں پناہ گزینوں کی آمد نے سیکیورٹی اور فلاح و بہبود کے نیٹ ورکس پر دباؤ ڈالا اور انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والوں کے جذبات کو ابھارا۔یورپی ملکوں کا بلاک، اب اگلے سال یورپی یونین کے انتخابات سے پہلے، اس مہینے غیرقانونی پناہ گزینوں کے معاملے پر ایک معاہدہ طے ہونے کے بعد، تارکین وطن سے متعلق اپنے قوانین پر نظر ثانی کے لیے اقدامات کر رہا ہے، جس کا مقصد ایک ایسے وقت میں غیر قانونی تارکین وطن کے معاملے سے نمٹنا ہے، جب ان کی آمد غیر معمولی تعداد میں ہو رہی ہے۔

یونان کے پناہ گزینوں کے امور کے وزیر کیریڈیس نے جو تارکین وطن کی آمد محدود کرنے سے متعلق بات چیت کے لیے پیر کو انقرہ میں تھے، کہا کہ ہمیں نیا معاہدہ مکمل کرنے کی ضرورت ہے۔ترکیہ اور یورپی یونین کے درمیان 2016 میں تارکین وطن کی یلغار کو روکنے کا معاہدہ ہوا تھا۔یونان کے وزیر کا کہنا تھا کہ یہ بہتر ہو گا کہ تارکین وطن کی آمد میں اچانک اضافے کی صورت میں دونوں ملکوں کے پاس اس بحران سے نمٹنے کا کوئی بندوبست موجود ہو۔

متعلقہ خبریں

Back to top button