غزہ-جبالیہ مہاجر کیمپ پر اسرائیلی فضائی حملے میں سیکڑوں شہید
صہیونی قابض فوج نے غزہ میں جبالیہ پناہ گزین کیمپ میں ایک ہولناک قتل عام کا ارتکاب کیا
غزہ:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) صہیونی قابض فوج نے منگل کی شام شمالی غزہ کی پٹی میں جبالیہ پناہ گزین کیمپ میں ایک ہولناک قتل عام کا ارتکاب کیااور اس کے مکینوں کے سروں پر ایک پورے رہائشی محلے کو الٹ کر رکھ دیا جس کے نتیجے میں سیکڑوں فلسطینی شہید ہوئے ہیں۔ طبی ذرائع نے بتایا کہ ابتدائی اندازوں کے مطابق صہیونی فوج کی وحشیانہ بمباری کے نتیجے میں 100 فلسطینی شہید اور 400 زخمی انڈونیشیا کے اسپتال پہنچے جب کہ درجنوں دیگر ملبے تلے دبے ہونے کی اطلاعات ہیں۔ قابض فوج کے جنگی طیاروں نے وسطی غزہ کی پٹی میں نصیرات کیمپ میں انجینیرز کی عمارت پر بھی بمباری کی جس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں افراد زخمی اور شہید ہوئے۔ مقامی ذرائع نے ہمارے نامہ نگارکو بتایا کہ یہ عمارت 9 منزلوں پر مشتمل ہے اور اس میں کم از کم 24 رہائشی اپارٹمنٹس شامل ہیں۔
تمام رہائشیوں اور بے گھر افراد کے رہائش پذیر تھے۔ قابض فوج نے بغیر کسی وارننگ کے اس کے مکینوں کے سروں پر بمباری کی ہے۔ابتدائی اندازوں کے مطابق 45 افراد شہید ہوئے ہیں۔ غزہ میں وزارت صحت کے ترجمان نے کہا کہ جبالیہ قتل عام میں متاثرین کی تعداد سب سے زیادہ ہوسکتی ہے اور بیپٹسٹ ہسپتال کے قتل عام کے شہداء کی تعداد کے قریب ہوسکتی ہے۔ مقامی ذرائع نے کہا قابض طیاروں نے تباہ کن صلاحیتوں کے حامل 20 میزائل اور 6 بڑے امریکی بموں سے کم از کم 20 مکانات کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں دسیوں افراد شہید ہوگئے۔
جبالیہ کیمپ سب سے زیادہ پرہجوم فلسطینی کیمپ ہے اور اسے دنیا کا سب سے زیادہ پرہجوم علاقہ سمجھا جاتا ہے۔ غزہ میں وزارت داخلہ کے ترجمان ایاد البزم نے تصدیق کی کہ قابض طیارے نے جبالیہ کیمپ کے رہائشی چوک پر 6 بم گرائے جن میں سے ہر ایک کا وزن 1000 کلو گرام تھا۔ انہوں نے کہا کہ جبالیہ کیمپ کے قتل عام کے شہداء میں سب سے زیادہ تعداد بچوں اور خواتین کی تھی۔ جبالیہ کیمپ میں 120,000 سے زیادہ لوگ رہتے ہیں جو صرف 1.4 مربع کلومیٹر کے رقبے پر واقع ہے
فلسطینیوں کی نسل کشی احتجاجا اقوام متحدہ کا اعلیٰ عہدیدار مستعفی
فلسطین میں اسرائیلی جارحیت کو روکنے میں ناکامی پر اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کمیشن کے نیویارک آفس کے سربراہ کریگ موخیبر مستعفی ہوگئے۔ خبر رساں اداروں کے مطابق کریگ موخیبر اقوام متحدہ کی جانب سے فلسطین میں انسانی حقوق کی پامالیاں روکنے میں ناکامی پر بطور احتجاج مستعفی ہوئے ہیں۔ کریگ موخیبر نے جنیوا میں ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کے نام خط بھی لکھا ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ غزہ میں جو ہو رہا ہے وہ ہر لحاظ سے نسل کشی ہے۔اسرائیل حماس تنازع میں اضافہ سخت تشویشناک ہے، اقوام متحدہ کریگ موخیبر نے اپنے خط کے متن میں کہا کہ فلسطین میں یورپی نسل پرستی کا آبادکاری منصوبہ اپنے آخری مرحلے میں داخل ہو گیا، منصوبہ یہ ہے کہ فلسطینی علاقوں میں آبائی فلسطینیوں کی باقیات کو جلد از جلد ختم کیا جائے۔
کریگ موخیبر نے مزید لکھا کہ حد یہ ہے امریکہ، برطانیہ اور بیشتر یورپی ممالک اِس خوفناک حملے میں برابر کے شریک ہیں، یہ حکومتیں جنیوا کنونشن کا احترام کرنے کی اپنی ذمہ داریاں نبھانے سے انکار کر رہی ہیں۔ خط کے متن کے مطابق یہ حکومتیں اسرائیلی جارحیت کو مسلح کرنے میں فعال ہیں جبکہ اسرائیل کو معاشی اور انٹیلی جنس سپورٹ بھی فرام کی جارہی ہے۔ کریگ موخیبر نے مزید لکھا کہ یہ حکومتیں فلسطینی نسل کشی کا سیاسی و سفارتی جواز فراہم کرنے میں بھی فعال ہیں۔



