غزہ میں جنگی جرائم،بولیویا نے غزہ آپریشن پر اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کر لیے
ہم بولیویا کی حکومت کے جرأت مندانہ موقف کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔
لا پاز:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) بولیویا کی وزارت خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ حکومت نے "اسرائیل” پر غزہ کی پٹی پر حملوں میں انسانیت کے خلاف جرائم کا ارتکاب کرنے کا الزام لگاتے ہوئے اس کے ساتھ اپنے سفارتی تعلقات منقطع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بولیویا نے اس سے قبل 2009 میں غزہ کی پٹی پر حملوں کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے "اسرائیل” کے ساتھ اپنے سفارتی تعلقات منقطع کر لیے تھے اور 2020 میں ملک کی صدر جینین انیز کی حکومت نے تعلقات بحال کر لیے تھے۔ دوسری جانب اسلامی تحریک مزاحمت [حماس] نے اس اقدام کو سراہتے ہوئے ایک بیان میں کہا ہے کہ ہم بولیویا کی حکومت کے جرأت مندانہ موقف کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ جس نے غاصب صیہونی ریاست کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کرنے کا فیصلہ اس کی فاشسٹ جارحیت، جرائم اور غزہ میں ہماری عوام کے خلاف وحشیانہ قتل عام کی روشنی میں کیا۔
حماس نے اسرائیل کےساتھ تعلقات معمول پر لانے والے عرب اور مسلمان ممالک پر زور دیا کہ وہ بولیویا کے نقش قدم پر چلتے ہوئے غزہ میں جنگی جرائم پر بہ طور احتجاج اسرائیل سے سفارتی تعلقات ختم کریں۔ خیال رہے کہ غزہ کی پٹی کے خلاف "اسرائیلی” قابض فوج کی جارحیت آج 26 روز میں داخل ہوگئی ہے۔ اس دوران "اسرائیلی” جنگی مشین نے شہریوں کے خلاف انتہائی گھناؤنے جرائم کا ارتکاب کیا ہے اور غزہ کی پٹی کی گزرگاہوں کو بند کرنے اور خوراک، ادویات اور ایندھن کے داخلے کو روکنے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔



