بین الاقوامی خبریں

غزہ: لڑائی کے دوران بے گھر ہونے والوں کی واپسی کے کیا ہیں امکانات

غزہ کے شہریوں کے مستقبل کے حوالے سے سوالات اٹھ رہے ہیں

لندن،یکم دسمبر :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)جنگ میں بظاہر کامیاب وقفے کے بعد غزہ کے شہریوں کے مستقبل کے حوالے سے سوالات اٹھ رہے ہیں کہ اگر مستقل جنگ بندی ہوئی تو متاثرین کی گھروں کو واپسی کب اور کیسے ممکن ہو گی۔خبر کے مطابق گزشتہ 50 دنوں سے زیادہ کی مسلسل بمباری میں اسرائیل کی فوج نے شمالی غزہ کے زیادہ تر حصے کو ملبے میں تبدیل کر دیا ہے اور مختلف علاقے ملبے کا ڈھیر بن گئے ہیں۔غزہ میں جو مکانات،ہسپتال اور سکول باقی رہ گئے ہیں اس میں واپسی کسی طرح بھی ممکن نہیں۔ حکام کو گھر گھر جا کر اور عمارتیں دیکھ کر اندازہ لگانا ہو گا کہ کس سطح کی تعمیر نو کی ضرورت ہو گی۔بین الاقوامی امور کے پروفیسر اور تحقیقی ادارے چیتھم ہاؤس کے مینا پروگرام کے ایسوسی ایٹ فیلو یوسی میکلبرگ نے بتایا کہ فلسطینیوں کی واپسی سے متعلق سوالات دل دہلا دینے والے ہیں۔

ہم جانتے ہیں کہ غزہ کے کچھ شہری جو جنگ کی وجہ سے علاقہ چھوڑ چکے تھے وہ یا تو واپس آ گئے ہیں یا واپسی کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ دیکھ سکیں کہ آیا ان کے مکانات موجود ہیں یا تباہ ہو گئے۔کہا جا رہا ہے کہ دس لاکھ سے زیادہ فلسطینی شمالی غزہ چھوڑ چکے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ اسرائیلی فوج نے فضائی کارروائی کو ناگزیر قرار دیا ہو لیکن برطانیہ میں تنازعات کے نگراں ادارے ایئر وارز نے اسے دوسری عالمی جنگ کے بعد شدید قرار دیا ہیایئروارز کی ڈائریکٹر ایملی ٹِرپ نے عرب نیوز کو بتایا کہ غزہ میں موجودہ کارروائی کا اندازہ 2016 اور 2017 کے درمیان موصل کی 9 ماہ کی جنگ سے لگایا گیا ہے اور اقوام متحدہ اور دیگر ماہرین کے مطابق جنگ ختم ہونے کے بعد شہر کا 80 فیصد حصہ غیر آباد ہو گیا تھا۔ایملی ٹِرپ نے مزید کہا کہ ’اس وقت امریکہ نے موصل کو دوسری عالمی جنگ کے بعد سب سے شدید میدان جنگ قرار دیا تھا اور ہمارے اعدادوشمار سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک ہی مہینے میں چھ ہزار سے زیادہ گولہ بارود نہیں گرایا گیا۔

’اگر اسرائیلی ڈیفنس فورس کے پہلے ہفتے سے 10 دنوں میں چھ ہزار گولہ بارود گرائے جانے کا ابتدائی بیان درست ہے تو گزشتہ ہفتے کے عارضی وقفے کے بعد اس کا امکان ہے کہ اسرائیلی ڈیفنس فورس نے ایک مہینے میں اتحادیوں سے زیادہ گولہ بارود گرایا ہو جو انہوں نے داعش کے خلاف استعمال کیا تھاغزہ میں نقصانات کا اندازہ لگانے کے لیے اسرائیلی پابندیاں رکاوٹ ہیں تاہم نومبر کے دوسرے ہفتے میں اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر کے دفتر برائے انسانی حقوق نے کہا تھا کہ تقریباً 45 فیصد رہائشی علاقہ تباہ کر دیا گیا۔آکسفیم کی پالیسی کی سربراہ بشریٰ خالدی جو خود بھی رملہ میں مقیم ہیں، نے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے شہریوں کو جنوب کی جانب بھیجنا جبری منتقلی کے مترادف ہے اور یہ بین الاقوامی انسانی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ اسرائیل کو نقل مکانی کا مطالبہ واپس لینا چاہیے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button