بین الاقوامی خبریں

اسرائیلی حملوں میں شدت: پوپ فرانسس کا غزہ میں دوبارہ جنگ بندی کا مطالبہ

اسرائیلی حملوں میں شدت، جنوبی غزہ سے فلسطینیوں کو انخلا کا حکم

ویٹی کن سٹی، 5دسمبر :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)کیتھولک مسیحیوں کے روحانی پیشوا پوپ فرانسس نے غزہ میں جنگ بندی کے خاتمے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے جلد از جلد نیا معاہدہ کرنے پر زور دیا ہے۔ پوپ فرانسس نے اتوار کو جاری بیان میں کہا کہ جنگ بندی ختم ہونے کا مطلب موت، تباہی اور تکلیف ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل اور فلسطین میں صورتحال سنجیدہ ہے جبکہ فلسطین میں بنیادی ضررویات کی اشیا بھی میسر نہیں ہیں۔دوسری جانب غزہ کی پٹی سے موصول ہونے والی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ رفح، خان یونس اور النصیرات پناہ گزین کیمپوں پر اسرائیلی فضائی حملوں میں سینکڑوں فلسطینی ہلاک ہو گئے ہیں۔

عرب نیوز کے مطابق اتوار کو اسرائیلی آباد کاروں نے مقبوضہ مغربی کنارے میں دو فلسطینی دیہاتوں پر حملہ کیا ہے۔غزہ میڈیا آفس کے نام سے ایک اکاؤنٹ سے اطلاع دی گئی ہے کہ گذشتہ رات اسرائیلی بمباری سے کم از کم 700 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔حماس کی زیرقیادت وزارت داخلہ نے اطلاع دی ہے کہ جنوبی غزہ میں رفح شہر کے مشرق میں ایک گھر پر اسرائیلی حملے سے سات فلسطینی ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔فلسطینی خبر رساں ایجنسی وفا نے مقامی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ جنگی طیاروں نے نصیرات پناہ گزین کیمپ میں دو مقامات پر بمباری کی جس کے نتیجے میں کم از کم 13 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

فلسطینی محکمہ صحت کے حکام نے بتایا کہ اسرائیلی طیاروں نے خان یونس کے قریب القرارہ قصبے کے کئی مقامات کو نشانہ بنایا۔ اس بمباری کے باعث متعدد افراد ہلاک و زخمی ہوئے۔خان یونس سمیت غزہ کا جنوبی حصہ وہ علاقہ ہے جہاں شمالی غزہ سے بے گھر ہونے والے لاکھوں فلسطینیوں نے پناہ لے رکھی ہے۔دوسری جانب اسرائیلی فوج نے ایکس اکاؤنٹ پر اتوار کی صبح ایک بیان شائع کیا جس میں غزہ کی پٹی کے فلسطینیوں کو خان یونس اور اس کے آس پاس کے نصف درجن علاقوں کو فوری طور پر خالی کرنے کا حکم دیا گیا۔

اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے گذشتہ روز سنیچر کو کہا تھا کہ اسرائیل غزہ کے شہریوں کے لیے ’محفوظ علاقوں‘ کے لیے امریکہ اور بین الاقوامی تنظیموں کے ساتھ رابطے کر رہا ہے۔غزہ میں اقوام متحدہ کے اہلکاروں اور عام شہریوں کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے فوجی حملے کے باعث انٹرنیٹ اور بجلی کی باقاعدہ فراہمی نہ ہونے کی وجہ سے انخلا کے اسرائیلی احکامات پر عمل کرنا مشکل ہے۔دوسری جانب فلسطینی حکام نے کہا ہے کہ سنیچر کو رات دیر گئے مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیل آباد کاروں نے دو دیہاتوں پر حملہ کیا،اس حملے میں ایک شخص ہلاک جبکہ ایک گاڑی کو آگ لگا دی گئی۔


اسرائیلی حملوں میں شدت، جنوبی غزہ سے فلسطینیوں کو انخلا کا حکم

غزہ، 5دسمبر :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) اسرائیل کی فوج نے جنگ بندی کے عارضی معاہدے کے ختم ہوتے ہی غزہ کی پٹی میں اپنے اہداف پر دوبارہ شدید بمباری کا آغاز کر دیا ہے۔ خبر کے مطابق پیر کو اپنے حملوں میں تیزی لاتے ہوئے اسرائیلی فوج نے غزہ کے جنوبی قصبے خان یونس میں پناہ لینے والے ہزاروں فلسطینیوں کو یہ علاقہ خالی کرنے کا حکم دیا ہے۔گذشتہ چند ہفتوں میں ہزاروں فلسطینی شہری اپنے گھروں کو چھوڑ کر خان یونس میں پہنچے تھے۔اسرائیلی حکام کی جانب سے حماس کے ساتھ ایک ہفتے کی جنگ بندی کے بعد غزہ پر حملوں میں لائی گئی تیزی کا مقصد حماس کو ختم کرنا بتایا جا رہا ہے۔سات اکتوبر کو اسرائیل پر حماس کے حملوں کے بعد اس علاقے میں کئی دہائیوں کے بعد بدترین جنگ جاری ہے۔ اس جنگ کی وجہ سے ہزاروں فلسطینی ہلاک اور کل آبادی کا لگ بھگ تین چوتھائی حصہ اس وقت بے گھر ہے اور لاتعداد افراد محفوظ پناہ گاہوں کی تلاش میں ہیں۔

اسرائیل کے زمینی حملے نے غزہ شہر کے بڑے حصوں سمیت بیش تر شمالی علاقہ ملبے سے اَٹے بنجر میں تبدیل کر دیا ہے۔اس کے بعد لاکھوں افراد نے جنوب میں پناہ حاصل کی تھی لیکن ان کا مستقبل شدید غیریقینی سے دوچار ہے کیونکہ اسرائیل اور پڑوسی ملک مصر دونوں میں سے کسی نے بھی پناہ گزینوں کو قبول نہیں کیا۔رہائشیوں کا کہنا تھا کہ انہوں نے خان یونس اور اس کے آس پاس رات بھر اور پیر کی صبح تک فضائی حملوں اور دھماکوں کی آوازیں سنی ہیں۔اس کے علاوہ اسرائیلی فوج نے لوگوں کو مزید جنوب کی طرف مصر سے متصل سرحد کی جانب منتقل ہونے کے احکامات پر مبنی پرچے بھی گرائے تھے۔پیر کی صبح کی ایک عربی زبان کی سوشل میڈیا پوسٹ میں بتایا گیا کہ اسرائیلی فوج نے ایک بار پھر خان یونس اور اس کے آس پاس کے تقریباً دو درجن محلوں کو خالی کرنے کا حکم دیا ہے۔

حلیمہ عبدالرحمان خان یونس میں مقیم ایک بیوہ ہیں۔ ان کے چار بچے ہیں۔ حلیمہ عبدالرحمان نے کہا کہ انہوں نے ایسے احکامات پر اب عمل کرنا چھوڑ دیا ہے۔ وہ اکتوبر میں اپنے گھر سے خان یونس سے باہر واقع ایک علاقے میں چلی گئی تھیں جہاں وہ رشتہ داروں کے پاس رہتی ہے۔انہوں نے اتوار کو فون پر بتایا کہ (اسرائیلی) فوج آپ کو اس علاقے میں جانے کو کہتی ہے، پھر وہ یہاں بمباری کرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ غزہ میں کوئی جگہ محفوظ نہیں ہے، وہ شمال اور جانب دونوں اطراف میں بے قصور عوام اور بچوں کو مار رہے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button