حماس ہتھیار ڈال دے، یاھو، بغیر مذاکرات یرغمالی رہا نہیں ہوں گے: حماس
غزہ قابض فوج کا قبرستان بنا دیا،180 ٹینک، گاڑیاں تباہ، سیکڑوں ہلاک
مقبوضہ بیت المقدس ، 11دسمبر :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے اتوار کے روز حماس کے جنگجوؤں سے ’اب ہتھیار ڈال دو‘ کا مطالبہ کیا اور کہا کہ غزہ کی پٹی میں دو ماہ سے زیادہ عرصہ سے جاری جنگ میں توسیع کے ساتھ ہی تحریک حماس کا خاتمہ بھی ریب آگیا ہے۔غزہ کی پٹی میں حماس کے رہنما یحییٰ سنوار کا حوالہ دیتے ہوئے نیتن یاہو نے ایک بیان میں کہا کہ جنگ ابھی جاری ہے ،لیکن یہ حماس کے لیے انجام کی شروعات ہے۔ حماس ختم ہو چکی، یحییٰ سنوار کے لیے مت مرو، اب ہتھیار ڈال دو۔ یاہو نے یہ دعویٰ بھی کردیا کہ گزشتہ چند دنوں میں حماس کے درجنوں ارکان نے ہماری افواج کے سامنے ہتھیار ڈال دیے ہیں۔تاہم اسرائیلی فوج نے حماس کے کسی جنگجو کے ہتھیار ڈالنے کا کوئی ثبوت پیش نہیں کیا۔ دوسری طرف تحریک حماس نے نیتن یاہو کے ان الزامات کی یکسر تردید کردی ہے۔
دریں اثنا حماس نے اتوار کو خبردار کیا ہے کہ جب تک اس کے مطالبات پورے نہیں کیے جاتے کوئی بھی اسرائیلی یرغمالی غزہ کی پٹی سے زندہ واپس نہیں جائے گا۔حماس کے عسکری بازو القسام بریگیڈز کے ترجمان ابو عبیدہ نے ایک تقریر میں کہا کہ جنگ بندی نے ثابت کر دیا کہ تبادلہ کے بغیر دشمن کے قیدیوں میں سے کوئی بھی رہا ہوا نہ آئندہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل یرغمال بنائے گئے اپنے افراد کو طاقت کے ذریعے واپس نہیں لے جا سکے گا۔انہوں نے کہا کہ ہم الشجاعہ، الزیتون، شیخ رضوان، جبالیا کیمپ، بیت لاھیا اور دیر البلح کے مشرق میں اور مشرقی علاقوں میں 180 سے زیادہ فوجی گاڑیوں کو جزوی یا مکمل طور پر تباہ کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ القسام نے اعلان کیا کہ جنوبی غزہ کی پٹی میں خان یونس کے شمال مشرق میں ایک بم دھماکے میں 15 اسرائیلی فوجی مارے گئے۔
القسام نے ٹیلی گرام کے ذریعے ایک مختصر بیان میں کہا کہ اس کے جنگجوؤں نے شہر کے شمال مشرق میں المعرّی کے علاقے میں اسرائیلی فوج کیخلاف ایک بڑے بیرل کا بم دھماکہ کیا۔اسی حوالے سے اسلامی جہاد تحریک کے عسکری ونگ القدس بریگیڈز نے کہا ہے کہ اس نے شمالی غزہ کی پٹی میں غزہ شہر میں شجاعیہ کالونی میں ایک مکان کو دھماکے سے اڑا دیا تھا جس کے اندر 13 سے زائد اسرائیلی فوجی موجود تھے، یہ فوجی سرنگ کا منہ تلاش کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ہمارے جنگجو سرنگ کے منہ سے نکلنے میں کامیاب ہو گئے اور گھر کو مکمل طور پر اڑانے سے پہلے دو اسرائیلی فوجیوں کو مار ڈالا۔ پھر گھر تباہ کردیا جس سے باقی اسرائیلی فوجی ہلاک اور زخمی ہو گئے۔واضح رہے 7 اکتوبر کو حماس نے اچانک اسرائیل پر حملہ کرکے 1200 افراد کو ہلاک اور 240 افراد کو یرغمال بنا دیا تھا۔ اسی وقت سے اسرائیل نے غزہ پر بمباری شروع کردی اور 27 اکتوبر کو زمینی کارروائی بھی شروع کردی۔ اسرائیل نے 65 دنوں میں 18000 سے زیادہ فلسطینی شہید کردئے ہیں۔
غزہ قابض فوج کا قبرستان بنا دیا،180 ٹینک، گاڑیاں تباہ، سیکڑوں ہلاک
اسلامی تحریک مزاحمت کے عسکری ونگ شہید عزالدین القسام بریگیڈز کے ترجمان ابو عبیدہ نے کہا ہے کہ فلسطینی مجاھدین نے غزہ کوقابض اسرائیلی فوج کے لیے قبرستان بنا دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ دس روز میں غزہ میں اسرائیلی فوج کی 180 گاڑیاں، ٹینک اور فوجی کیریئر تباہ کردیے اورسیکڑوں فوجیوں کو جھنم رسید کردیا گیا ہے۔ اتوار کی شام ایک ریکارڈ شدہ بیان میں ابو عبیدہ نے کہا کہ فلسطینی مجاھدین اسرائیلی فوج کے خلاف مزحمتی کارروائیوں کے بعد بہ حفاظت اپنے ٹھکانوں میں واپس آگئے۔ابو عبیدہ نے کہا کہ فلسطینی مزاحمتی قیادت محفوظ ہے اور مجاھدین دشمن کے خلاف جنگ کے محاذ پر پوری استقامت کے ساتھ کھڑے ہیں۔ انہوں نے مجرم نیتن یاھو اور اس کی سپاہ کو خبردارکیا کہ آنے والے دنوں میں دشمن کو تباہ کن جواب دیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ دشمن اپنی طاقت اوررعب جمانے کے لیے غزہ کی پٹی میں معصوم شہریوں پر وحشیانہ بمباری کررہا ہے۔
دشمن انتقام کی آگ میں اندھا ہوچکا ہے اور وہ بے گناہ بچوں، خواتین اور عام شہریوں کو نشانہ بنا کراپنے غصے کی آگ مٹانا چاہتا ہے۔انہوں نے کہا کہ القسام مجاھدین نے گذشتہ روز غزہ میں متمرکز کئی مقامات پر قابض فوج پر جوابی وار کرکے اسے پسپا کردیا۔ ابو عبیدہ نے انکشاف کیا کہ القسام مجاھدین نے گذشتہ دس روز میں دشمن کی 180 گاڑیوں کو مکمل یا جزوی طور پرتباہ کردیا۔ مجاھدین نے دشمن پر الیاسین 105 گولوں اوتندوم گولوں سے نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ مجاھدین نے غزہ میں قابض فوج کے خلاف کئی مقامات پر خصوصی آپریشنز کیے جن میں دراندازی کرنے والی قابض فوج پر گھات لگا کر کیے گئے حملے شامل ہیں۔ ابو عبیدہ نے کہا کہ غزہ میں مزاحمتی فورسزمحفوظ ہیں اور وہ دشمن پر کامیاب حملوں کے بعد بہ حفاظت اپنے ٹھکانوں پر واپس آجاتے ہیں۔
حماس کے سات ہزار مجاہدین کو جاں بحق کرنے کی اسرائیلی ڈینگیں، خان یونس میں جھڑپیں
مقبوضہ بیت المقدس ، 11دسمبر :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)اسرائیل نے غزہ کے جنوب میں خان یونس شہر سے آبادی کے مکمل انخلا کے احکامات جاری کر دہیں۔ ہفتے اور اتوار کی شب بھی اسرائیلی فورسز کی غزہ کی ساحلی پٹی میں کارروائیاں جاری رہیں۔خبر رساںکے مطابق ہفتے کی شب غزہ کی لگ بھگ 41 کلو میٹر طویل زمینی پٹی میں تقریباََ 23 لاکھ سے زائد فلسطینیوں کو ایسے علاقوں میں بھی بمباری کا سامنا کرنا پڑا ہے جن کو اسرائیل کی جانب سے ’سیف زون‘ قرار دیا گیا تھا۔حماس اور اسرائیل کے درمیان دو ماہ سے جاری لڑائی میں ہونے والی عارضی جنگ بندی یکم دسمبر کو ختم ہوگئی تھی۔ اس کے بعد سے اسرائیل نے غزہ کی پٹی کے جنوب میں اپنی کارروائیاں بڑھا دی ہیں اور خان یونس کے علاقے کی جانب پیش قدمی جاری رکھی ہوئی ہے۔خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق خان یونس کے مقامی باشندوں کے مطابق ہفتے کی شب علاقے میں شدید جھڑپیں ہوئی ہیں۔
’رائٹرز‘ نے رپورٹ کیا ہے کہ اسرائیل کی فوج اور فلسطینی ذرائع نے لڑائی میں شدت آنے کی تصدیق کی ہے۔اسرائیل اور حماس کے درمیان لڑائی میں شدت ایسے وقت میں آئی ہے جب جمعے کو اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں اسرائیل سے جنگ بندی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔جنگ بندی کی قرار داد متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے پیش کی تھی جس کی سلامتی کونسل کے 15 میں سے 13 ارکان نے حمایت کی جب کہ برطانیہ ووٹنگ سے غیر حاضر رہا اور امریکہ نے اس قرار داد کو ویٹو کردیا تھا۔امریکی سفیر رابرٹ اے ووڈ کا کہنا تھا کہ جنگ بندی کی قرارداد کے متن میں امریکہ کی تمام تجاویز کو نظر انداز کر دیا گیا ہے۔ اس میں اسرائیل کے حقِ دفاع کو تسلیم نہیں کیا گیا۔امریکہ بارہا اسرائیل پر زور دیتا رہا ہے کہ وہ غزہ میں عام شہریوں کے جانی نقصان کے کم سے کم ہونے کو یقینی بنائے۔اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس کی کارروائی میں پیش رفت جاری ہے۔اسرائیل کے قومی سلامتی کے مشیر زاخی ہنگبی کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فورسز نے اب تک حماس کے سات ہزار جنگجوؤں کو ہلاک کیا ہے۔تاہم انہوں نے اس کی مزید تفصیلات نہیں بتائیں کہ اس تعداد کا تخمینہ کیسے لگایا گیا۔
غزہ میں شہریوں کی اموات کی شرح 61 فیصد ہے: اسرائیلی اخبار کی رپورٹ
مقبوضہ بیت المقدس، 11دسمبر :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) اسرائیلی اخبار ’ہارٹز‘ میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ غزہ میں اسرائیل کی بمباری سے ہونے والی ہلاکتوں میں شہری اموات کی شرح لگ بھگ 61 فی صد ہے۔ یہ شرح 20 ویں صدی کے تمام تنازعات، جن میں جنگ عظیم بھی شامل ہے، سے زیادہ ہے۔’ہارٹز‘ میں ہفتے کو شائع ہونے والی رپورٹ اسرائیل کی اوپن یونیورسٹی میں سماجیات کے پروفیسر یاگیل لیوی نے تحریر کی ہے۔یاگیل لیوی کے مطابق اسرائیل کی غزہ میں حالیہ عسکری کارروائی کے ابتدائی تین ہفتوں کے دوران، جنگ کی کل ہلاکتوں کے مقابلے میں شہری اموات کی شرح 61 فی صد تھی۔ان کا کہنا ہے کہ اس شرح کی مثال اس سے پہلے اسرائیل کے غزہ میں کسی بھی آپریشن میں نہیں ملتی۔انہوں نے رپورٹ میں تحریر کیا ہے کہ ’’اس رپورٹ کا جامع فیصلہ یہ ہے کہ اس قدر بڑی تعداد میں شہریوں کی ہلاکتیں اسرائیل کی سلامتی میں نہ صرف یہ کہ مددگار نہیں ہیں، بلکہ مستقبل میں اس کے لیے نقصان دہ بھی ہو سکتی ہیں۔‘انہوں نے خبردار کیا کہ غزہ کے رہائشی جو اس جنگ کے بعد نمودار ہوں گے، خدشہ ہے کہ وہ اپنے گھروں کی تباہی اور پیاروں کی ہلاکتوں کا بعد میں بدلہ لیں جسے روکنے کے لیے سیکیورٹی کے انتظامات ناکافی ہوں گے۔
برطانوی اخبار ’گارڈین‘ نے لکھا ہے کہ یہ رپورٹ 10 روز قبل اسرائیلی اور فلسطینی اشاعتی اداروں، +972 میگزین اور عبرانی میں چھپنے والے رسالے ’لوکل کال‘ کی تحقیقاتی رپورٹ کی بھی تصدیق کرتی ہے جس میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ اسرائیلی فوج رہائشی علاقوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنا رہی ہے تاکہ بڑھتی شہری ہلاکتوں کے باعث غزہ کے رہائشی حماس کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں۔اس سے قبل امریکہ کے اخبار ’نیویارک ٹائمز‘ نے گزشتہ ماہ 25 نومبر کے شمارے میں شائع رپورٹ میں بتایا تھا کہ غزہ میں جاری اسرائیل کے حالیہ آپریشن میں مرنے والے شہریوں کی تعداد، حالیہ صدی میں امریکہ کے عراق، افغانستان اور شام میں کیے جانے والے عسکری آپریشنز سے بھی زیادہ ہے۔سات اکتوبر کو حماس کے اسرائیل پر حملے کے بعد جہاں امریکہ نے اسرائیلی آپریشن کی، جس میں اب تک ساڑھے سترہ ہزار سے زائد فلسطینی شہری ہلاک ہو چکے ہیں،مسلسل حمایت کی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اتنی بڑی تعداد میں شہریوں کی ہلاکت پر خدشات کا بھی اظہار کیا ہے۔اسرائیل کا الزام ہے کہ حماس شہریوں کو بطور ڈھال استعمال کرتی ہے۔
نامعلوم افراد اسرائیلی فوجی ٹرک سے 20 ہزار گولیاں لوٹ کر نو دو گیارہ
مقبوضہ بیت المقدس، 11دسمبر :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)گذشتہ ہفتے اسرائیلی فوج نامعلوم افراد کی جانب سے کی جانے والی ایک تیز اور اسمارٹ ڈکیتی کا شکار ہوئی جس میں امریکی ساختہ M-16 رائفل کے لیے 20,000 5.56 mm سے زیادہ گولیاں چوری کرلی گئیں۔ ان گولیوں کی مجموعی طور پر قیمت اوسطا ً60,000 ڈالر سے زیادہ بتائی جاتی ہے۔یہ سامان ڈبوں میں پیک کرکے ایک ٹرک پر لادا گیا تھا جسے صحرائے نقب میں واقع تسلیم فوجی اڈے پر لے جایا گیا تھا۔مقامی میڈیا میں رپورٹ ہونے والی تفصیلات سے پتہ چلا ہے کہ ٹرک اڈے سے چار کلو میٹر دور ایک ٹریفک سگنل پر رکا جہاں چوروں کی طرف سے یہ کارروائی کی گئی۔عوامی نگرانی کے کیمروں اور عام طور پر فوجی نقل و حمل کی حفاظت کرنے والے انفراسٹرکچر کی موجودگی کے باوجود چور تسلیم اڈے کے آس پاس سے آسانی سے چھپنے میں کامیاب ہو گئے۔
اسرائیلی فوج اسے زمینی افواج کی تربیت کا سب سے بڑا اڈہ قرار دیتی ہے۔جنوبی اسرائیل میں فوج کے کمانڈر امیر کوہن نے اس واقعے کی تحقیقات کے لیے ایک انکوائری کمیشن بنانے کا حکم دیا ہے جو دوسرے سکیورٹی اداروں کے ساتھ مل کر ڈکیتی کی کارروائی کاپتہ چلائے گا۔خیال رہے کہ اس علاقے میں چوری اور ڈکیتی کی وارداتیں نئی بات نہیں ،بلکہ پہلے بھی ہوچکی ہیں۔گذشتہ برس تسلیم فوجی اڈے سے بندوق کی 26 ہزار گولیوں کی چوری کا اس وقت پتہ چلا دو فوجیوں کو اس واردات کے شبہ میں گرفتار کیا گیا۔
اسرائیلی فوج کا مغربی کنارے کے کئی قصبوں پر دھاوا، فلسطینیوں سے جھڑپیں
رملہ، 11دسمبر :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)فلسطینی خبر رساں ایجنسی نے اطلاع دی ہے کہ اسرائیلی فوج نے پیر کی صبح سویرے مغربی کنارے کے مختلف علاقوں میں کئی قصبوں پر دھاوا بول دیا۔نیوز ایجنسی نے کہا کہ جنین کے جنوب مغرب میں واقع قصبے یعبد پر فوج کی بھاری نفری نے دھاوا بول دیا جس کے بعد ان کے اور فلسطینی نوجوانوں کے درمیان تصادم شروع ہو گیا تاہم اب تک کسی قسم کے جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
عرب عالمی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ایجنسی نے مقامی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ اسرائیلی فوج نے رام اللہ کے شمال میں واقع قصبے بیرزیت، مغرب میں واقع گاؤں شعبہ اور رملہ کے شمال مغرب میں واقع قصبے دیر ابو مشعل پر دھاوا بول دیا۔مغربی کنارے کے شمالی علاقے نابلس میں گھروں فائرنگ کے دوران ایک نوجوان زخمی ہوگیا۔ایجنسی کے مطابق اسرائیلی فورسز نے مغربی کنارے کے جنوب میں الخلیل گورنری میں حلحول اور بیت ہوا کے قصبوں پر دھاوا بول دیا۔سکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ اسرائیلی فوج نے ححلول اور بیت ھوا میں فلسطینی گاڑیوں کو روکا، ان کی تلاشی لی اور ان میں سے متعدد کو ضبط کرلیا۔



