سیاسی و مذہبی مضامین

توبہ آدم ؑکی پہلی سنت، نافرمانی پر اڑے رہنا ابلیس کا عمل

مولانا محمد عبدالحفیظ اسلامی

 توبہ کا عمل اللہ تعالیٰ کی رحمت کے قریب کرتا ہے اور تکبر و نافرمانی اور ضد پر اڑ جانا خدا ئے تعالیٰ کی رحمت سے دوری کا باعث ہے۔ اللہ تبارک تعالیٰ جب حضرت آدم کی تخلیق فرمائی اور سارے فرشتوں کو حکم دیا کہ وہ آدم کو سجدہ کریں’سارے فرشتوں نے اللہ کے اس حکم کو بجالاتے ہوئے آدم کو سجدہ کیا سوائے ابلیس کے کیونکہ اس نے تکبر میں مبتلا ہوکر اپنے کو آدم سے افضل جانا اس لئے کہ اللہ نے اسے آگ سے پیدا کیا تھا۔

اس معلون نے نہ دیکھا کہ آدم کو سجدہ کرنے کا حکم کون دے رہا ہے بلکہ اسے اس بات کا غرہ تھا کہ میںآگ سے بنایاگیا ہوں اور آگ اوپر کی طرف اٹھتی ہے اور آدم مٹی سے بنائے گئے ہیں مٹی کو جب اوپر کی طرف چھوڑا جائے تو وہ زمین کی طرف آتی ہے، اس طرح یہ حکم خدا وندی میں اپنے کو نہ جھکا کر اللہ کا باغی بن گیا اور دربار الٰہی سے دھتکار دیا گیا اس کے بالمقابل حضرت آدم علیہ السلام کا عمل دیکھئے کہ جب اللہ نے حضرت آدم اور ان ہی سے پیدا کی گئی حضرت حوا کو جنت میں داخل فرمایا اور کہہ دیا گیا کہ تم دونوں یہاں مزے سے رہو اور خوب یاد رکھنا فلاں درخت کے قریب نہ جانا لیکن ابلیس نے پہلے ہی آدم کا دشمن بن چکا تھا،اس نے خیر خواہا انداز میں آدم اور حوا کے قریب ہوا جس درخت کے قریب اللہ تعالیٰ نے آدم کو جانے سے منع فرمادیا تھا،اس کے قریب جانے اور اس کا مزہ چکھنے کا مشورہ دیا چنانچہ وہ دونوں اس کی جال میں پھنس گئے جس کی گواہی قرآن اس طرح دیتا ہے۔آخر کار شیطان نے ان دونو ں کو اس درخت کی ترغیب دے کر ہمارے حکم کی پیروی سے ہٹا دیا۔ (سورہ بقرہ آیت 36 )

اس کے بعد آدم علیہ السلام اپنے قصور پر نادم ہوئے اور اپنے رب سے رجوع کرلیا اور انہوں نے اپنے رب سے چند کلمات سیکھ کر توبہ کی اور ان کی یہ توبہ قبول ہوگئی کیونکہ اللہ تبارک تعالیٰ بڑا معاف کرے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔

آدم اور حوا کی یہ ایسی بھول تھی،اب توبہ کے بغیر کوئی راستہ نہیں تھا اور اللہ نے ان پر واضح کردیا اور انہوںنے بھی اپنی غلطی پر فوری توجہ دی اور اس احساس و ندامت کے ساتھ یہ کلمات اپنی زبان پر لائے جس کا ذکر قرآن میں یوں آیا۔

’’اے رب،ہم نے اپنے اوپر ستم کیا،اب اگر تونے ہم سے در گذرنہ فرمایا اور رحم نہ کیا تو یقینا ہم تباہ ہوجائیں گے‘‘۔ (ترجمانی آیت 23،سورہ الاعراف )

اس طرح اللہ تبارک نے ان کی توبہ قبول فرمالی اور پھر اپنے منشا کے عین مطابق زمین پر اتار دیا اور ساتھ ساتھ یہ ارشاد فرمایا کہ ’’تمہارے لئے ایک خاص مدت تک زمین ہی میں جائے قرار اور سامان زیست ہے اور فرمایا وہیں تم کو جینا اور وہیں مرنا ہے اوراسی میں سے تم کو آخر کار نکالا جائے گا‘‘ (ترجمانی سورہ الاعرف، آیت 25 )

حضرت مولانا سید ابو الاعلی مودودی ؒ نے توبۃ النصوح کی شرعی تشریح کو پیش کرتے ہوے رسول اللہﷺ اور خلفاء راشدین اور صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کے حوالے سے یوں تحریر فرمایا :’’رہا اس کا شرعی مفہوم تو اس کی تشریح ہمیں اس حدیث میں ملتی ہے جو ابن ابی حاتم نے زر بن حبیش کے واسطے سے نقل کی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت اْبی بن کعبؓ سے توبہ نصوح کا مطلب پوچھا تو انہوں نے کہا میں نے رسول اللہﷺ سے یہی سوال کیا تھا۔ آپ نے فرمایا ’’اس سے مراد یہ کہ جب تم سے کوئی قصور ہوجائے تو اپنے گناہ پر نادم ہو،پھر شرمندگی کے ساتھ اس پر اللہ سے استغفار کرو اور آئندہ کبھی اس فعل کا ارتکاب نہ کرو ’’یہی مطلب حضرت عمرؓ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ اور حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے بھی منقول ہے۔او رایک روایت بھی کہ حضرت عمرؓ نے توبہ نصوح کی تعریف یہ بیان کی ہے کہ توبہ کے بعد آدمی گناہ کا اعادہ تو درکنار،اس کے ارتکاب کا ارادہ تک نہ کرے۔ (ابن جریر )

حضرت علیؓ نے ایک مرتبہ ایک بدو کو جلدی جلدی توبہ و استغفار کے الفاظ زبان سے ادا کرتے سنا تو فرمایا یہ ’’توبۃالکذابین‘‘ ہے۔ اس نے پوچھا پھر صحیح توبہ کیا ہے؟فرمایا،اس کے ساتھ چھ چیزیں ہونی چاہیں۔

(۱) جو کچھ ہوچکا ہے اس پر نادم ہو

(۲) اپنے جن فرائض سے غفلت برتی ہو ان کو ادا کرے۔

(۳) جس کا حق مارا ہو اس کو ادا کرے

(۴) جس کو تکلیف پہنچائی ہو اس سے معافی مانگ۔

(۵) آئندہ کیلئے عزم کرلے کہ اس گناہ کا اعادہ نہ کرے گا۔

(۶) اپنے نفس کو اللہ کی اطاعت میں گھلا دے جس طرح تونے اب تک اسے معصیت کا خوگر بنائے رکھا ہے اور اس کو طاعت کی تلخی کا مزا چکھا جس طرح اب تک تو اسے معصیتو ںکی حلاوت کا مزا چکھاتا رہا ہے۔ (کشاف ‘‘تفہیم القرآن جلد ششم صفحہ 31)

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں گناہوں سے بچائے رکھے اور کبھی کچھ گناہ ہوجائیں تو فوری طور پرتوبۃالنصوح سچی توبہ کی توفیق عطا فرمائے تا کہ ہم عذاب جہنم سے محفوظ رہ سکیں آمین۔

متعلقہ خبریں

Back to top button