56 برس میں 100 ملین سے زیادہ افراد نے فریضہ حج کی ادائیگی کی
وزارت حج نے عمرہ ویزوں کا اجرا شروع
ریاض، 21جون:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)اس سال 1445 ہجری کے حج کو تاریخ میں سب سے زیادہ ہجوم والے حج کے اجتماعات میں شمار کیا جارہا ہے۔ سعودی شماریات اتھارٹی نے سال 1390 ہجری کے آغاز میں حج کا ریکارڈ مرتب کرنا شروع کیا تھا۔ اس وقت سے عازمین کے اعداد و شمار کو ریکارڈ کیا جارہا ہے۔ اس وقت سے مردم شماری کی تاریخ کے 56 سالوں میں 100 ملین سے زیادہ حاجیوں سے سعودی عرب میں مناسک حج ادا کئے ہیں۔حجاج کی تعداد 1390 ہجری میں 10 لاکھ 79 ہزار 760 تھی۔ 1399 ہجری میں پہلی مرتبہ حجاج کرام کی تعداد 20 لاکھ سے متجاوز ہوئی۔ اس سال 20 لاکھ 79 ہزار 689 افراد نے فریضہ حج ادا کیا تھا۔حج کی تاریخ میں پہلی مرتبہ 1433 ہجری میں عازمین حج کی تعداد نے 30 لاکھ کا ہندسہ عبور کیا۔ یہ واحد سال تھا جس میں 30 لاکھ سے زیادہ افراد نے حج کے مناسک ادا کئے تھے۔
اس وقت تک 33 حج سیزنز میں سے سال 1414 ہجری کا سال ایسا تھا جو اس تعداد سے قریب تر تھا جس میں 18 لاکھ 34 ہزار 780 افراد نے حج ادا کیا تھا۔1441 کے بعد سے ریکارڈ کیے گئے کورونا وائرس وبائی امراض کے سالوں میں تعداد محدود ہوگئی۔ 1441 ہجری میں صرف 10 ہزار عازمین حج ادا کرسکے۔ 1442 میں یہ تعداد بڑھ کر 58 ہزار تک پہنچی اور 1443 میں 9 لاکھ 26 ہزار 62 ہوگئی۔گزشتہ برس 1444 ہجری میں کورونا وبا کے بعد ایک مرتبہ پھر تعداد اپنے عروج کو پہنچی اور اس سال 18 لاکھ 45 ہزار 45 افراد نے حج ادا کیا۔شاہ عبدالعزیز کی حکومت کے آغاز کے ساتھ ہی حج کی تعداد میں زبردست اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ حج کے راستوں اور ان کی حفاظت پر زبردست کنٹرول حاجیوں کی تعداد میں بڑی چھلانگ کا باعث بنا۔ان کے دور حکومت میں دوسری جنگ عظیم سے قبل دس ہزار عازمین کی تعداد سمندری راستوں کی وجہ سے سے بڑھ کر 100 ہزار تک پہنچ گئی تھی۔ جنگ کی وجہ سے یہ تعداد کم ہوکر 20 ہزار تک آگئی۔
سعودی اتھارٹی کا دعویٰ:حج کے دوران انتقال کر جانے والے بیشتر عازمین کے پاس اجازت نامہ نہیں تھا
ریاض، 21 جون:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)سال 2024 کے حج سیزن کے دوران ہلاک ہونے والے بیشتر عازمین کے پاس اجازت نامے نہیں تھے۔کئی ممالک کے عہدیداروں کی جانب سے تصدیق کی گئی ہے کہ 1445 حج سیزن کے دوران ہلاک ہونے والے بیشتر عازمین سعودی عرب میں حج شروع ہونے سے کئی ماہ پہلے سیاحت اور وزٹ ویزے پر آئے۔ یہ افراد حج سیزن شروع ہونے تک مکہ میں رہے اور انہوں نے باقاعدہ اجازت ناموں کے بغیر اور کسی کمپنی یا ادارے کی طرف سے رہائش، کھانے اور ٹرانسپورٹ کی سہولتوں کی فراہمی کی عدم موجودگی میں حج ادا کیا۔تیونس کی وزارت برائے خارجہ امور، مائیگریشن اور بیرون ملک شہریوں نے تصدیق کی ہے کہ حج کے دوران تیونس کے ہلاک ہونے والے بیشتر عازمین سعودی عرب میں سیاحت، عمرے اور دورے کے ویزے پر پہنچے تھے۔
اسی طرح اردن کی وزارت برائے امور خارجہ اور بیرون ملک شہریوں کے ڈائریکٹر آپریشنز اور قونصلر امور ڈاکٹر سفیان کدہا نے کہا ہے کہ اردن کے ہلاک یا گم ہو جانے والے تمام عازمین ان کے ملک کے سرکاری حج وفد کا حصہ نہیں تھے، اور وہ سعودی عرب میں سیاحت اور دوروں کے ویزوں پر اور حج کے اجازت ناموں کے بغیر داخل ہوئے تھے۔واضح رہے کہ رواں برس کے حج سیزن کے دوران مکہ میں درجہ حرارت میں نمایاں اضافہ ہوا اور متعدد قومیتوں کے عازمین بڑی تعداد میں سیاحت اور دورے کے ویزے پر پہنچے۔اس کے نتیجے میں ان عازمین نے چلچلاتی دھوپ اور تھکا دینے والی گرمی میں بغیر کھانے، کسی کمپنی کی فراہم کی گئی رہائشی سہولیات اور ٹرانسپورٹ کے ناہموار راستوں، جو پیدل چلنے والوں کے لیے مختص نہیں تھے، پر چلتے ہوئے لمبے سفر طے کیے۔اس صورتحال کی وجہ سے بہت سے لوگ بدقسمتی سے ہلاک ہو گئے۔
منیٰ میں صفائی کا کام شروع 103 ہزار ٹن کچرا اٹھالیا گیا، جراثیم کش ادویات کا اسپرے جاری
ریاض، 21 جون:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)مکہ مکرمہ میونسپلٹی کا کہنا ہے کہ منی میں صفائی کا کام شروع کر دیا گیا ہے اور اب تک 103 ہزار ٹن فضلہ مکہ مکرمہ اور مشاعر مقدسہ (منی، عرفات اور مزدلفہ) سے اٹھایا جا چکا ہے اور مزید اٹھایا جا رہا ہے۔الاخباریہ چینل سے گفتگو کرتے ہوئے مکہ میونسپلٹی کے ترجمان اسامہ زیتونی نے کہا ہے کہ مشاعر مقدسہ اور مکہ مکرمہ میں صفائی کے بعد جراثیم کش ادویہ کا چھڑکاؤ کا سلسلہ بھی جاری ہے۔
زیتونی نے بتایا کہ حجاج کے منی کو الوداع کہنے کے بعد منی میں مکمل صفائی کا سلسلہ شروع کردیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے 13 ہزار 500 کارکنوں نے حج مقامات پر صفائی کی خدمات انجام دیں۔ یہ کارکن 24 گھنٹے شفٹوں میں کام انجام دیتے رہے۔ نیز 250 تکنیکی ماہرین بھی ہمہ وقت موجود رہے۔زیتونی نے بتایا کہ مشاعر مقدسہ میں صفائی کے لیے بھاری مشینری پہلے ہی بھیجی جاچکی تھی جس کے بعد مشاعر مقدسہ کے ان حصوں سے جہاں سے حجاج چلے گئے تھے ان حصوں کی صفائی کا کام شروع کردیا گیا تھا اور اب صفائی کے بعد ان جگہوں پر کیڑے مارا سپرے کی ٹیمیں اپنا کام انجام دے رہی ہیں۔
وزارت حج نے عمرہ ویزوں کا اجرا شروع
ریاض، 21 جون:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)سعودی وزارت حج و عمرہ نے حج موسم کے اختتام پر جمعرات 20 جون 2024 سے نئے عمرہ سیزن کے لیے ویزے جاری کرنے کااعلان کیا ہے۔سعودی خبررساں ادارے ’ایس پی اے‘ کے مطابق سعودی وزارت حج و عمرہ نے کہا ہے کہ نیا عمرہ سیزن یکم محرم 1446ھ سے شروع ہوگا۔وزارت حج و عمرہ گزشتہ کئی برسوں سے حج سیزن کے اختتام کے بعد عمرہ پر آنے کے خواہشمندوں کے لیے ویزے جاری کرنا شروع کرتا ہے۔وزارت کا کہنا ہے کہ وہ سعودی قیادت کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ زائرین کو عمرے کی سہولت فراہم کرنے کی کوشش ہر سال کرتی ہے اور اس سلسلے میں ان کی ضروریات اور انہیں ضروری خدمات بھی فراہم کرتی ہے۔



