امریکی دوستوں سے اپیل ہے کہ ہتھیاروں کی ترسیل تیز کی جائے: نیتن یاھو
اسرائیلی ٹیکس کے اقدام پر عیسائی رہنماؤں میں غم و غصہ
مقبوضہ بیت المقدس ، 24جون :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی کے درمیان اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے اتوار کے روز کہا کہ غزہ جنگ سے متعلق ہتھیاروں کی فراہمی میں تاخیر پر امریکہ کے ساتھ تنازع جلد حل کر لیا جائے گا۔ نیتن یاہو نے اپنی حکومت کی ایک میٹنگ کے دوران کہا کہ تقریباً چار ماہ قبل امریکہ سے اسرائیل کو آنے والے ہتھیاروں کی سپلائی میں نمایاں کمی آئی تھی۔ ہمیں ہر طرح کی وضاحتیں موصول ہوئیں لیکن اس کی روشنی میں صورتحال نہیں بدلی۔ میں نے گزشتہ روز جو کچھ سنا، اس سے مجھے امید اور یقین ہے کہ یہ مسئلہ مستقبل قریب میں حل ہو جائے گا۔اپنی تقریر کے دوران نیتن یاہو نے امریکی انتظامیہ سے ہتھیاروں کی کھیپ تیزی سے بھیجنے کی اپیل کی اور مزید کہا کہ ہم اپنے امریکی دوستوں سے ہتھیاروں کی ترسیل میں تیزی لانے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا ہم حماس کو ختم کیے بغیر جنگ ختم کرنے کی مخالفت کرتے ہیں۔
منگل کو نیتن یاہو کی جانب سے امریکہ پر تنقید کا ایک ویڈیو کلپ جاری کرنے کے بعد واشنگٹن میں غصہ پھیل گیا تھا۔ نیتن یاھو نے ویڈیو میں اسرائیل پر ہتھیار اور گولہ بارود روکنے کا الزام لگایا تھا۔جمعرات کو نیتن یاہو نے کہا تھا کہ ان کے ملک کو اپنے وجود کی جنگ میں امریکی ہتھیاروں کی ضرورت ہے۔ وائٹ ہاؤس نے غزہ کی پٹی میں اسرائیل کی جنگ کے حوالے سے اسرائیلی وزیر اعظم کی طرف سے امریکہ پر کی گئی تنقید پر شدید مایوسی کا اظہار کیا تھا۔
حماس کیخلاف شدید لڑائی بہت جلد ختم ہونے والی ہے: اسرائیلی وزیر اعظم
مقبوضہ بیت المقدس، 24جون :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ غزہ پٹی کے جنوبی شہر رفح میں حماس تنظیم کیخلاف گھمسان کی لڑائی اختتام کے قریب ہے تاہم یہ جنگ غزہ کی پٹی پر حماس کے کنٹرول کے خاتمے سے قبل ہر گز ختم نہیں ہو گی۔اتوار کے روز اسرائیلی ٹی وی چینل 14 کو دیے گئے انٹرویو میں نینتن یاہو کا کہنا تھا کہ غزہ میں شدید لڑائی کے ختم ہونے سے اسرائیل لبنان کے ساتھ شمالی سرحد پر اپنی مزید فوج بھیج سکے گا۔ یہاں ایران کی حمایت یافتہ لبنانی تنظیم حزب اللہ کے ساتھ لڑائی بڑھ رہی ہے۔
اسرائیلی وزیر اعظم نے واضح کیا کہ ”شمالی سرحد کی جانب مزید فوج بھیجنے کے دو مقاصد ہوں گے۔ سب سے پہلے یہ دفاعی مقاصد کے لیے ہو گا اور دوسری چیز تا کہ ہمارے شہری اپنے گھروں کو واپس آ سکیں۔ اگر ممکن ہوا تو ہم سفارتی راستوں سے ایسا کریں گے اور اگر ہم کامیاب نہ ہو سکے تو پھر کوئی اور طریقہ اختیار کریں گے تاہم ہر صورت ان (اسرائیلی) شہریوں کو ان کے گھروں میں واپس لے کر آئیں گے۔یاد رہے کہ لڑائی کے دوران میں اسرائیلی حکام نے لبنان کی سرحد کے قریب کئی قصبوں کو خالی کرا لیا تھا۔اسرائیلی وزیر اعظم نے ایک بار پھر اس خیال کو مسترد کر دیا کہ مغربی کنارے میں فلسطینی اتھارٹی کو حماس کی جگہ غزہ کی پٹی کا انتظام و انصرام سونپا جائے۔
اسرائیلی ٹیکس کے اقدام پر عیسائی رہنماؤں میں غم و غصہ
مقبوضہ بیت المقدس ، 24جون:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)بڑے گرجا گھروں کے رہنماؤں نے اسرائیلی حکام پر الزام لگایا ہے کہ انہوں نے مقدس سرزمین میں عیسائیوں کے خلاف ٹیکس کی کارروائی شروع کر کے ان کی موجودگی پر منظم حملہ کیا ہے۔اگرچہ اسرائیلی حکام نے اس اختلافی عمل کو معمول کے مالیاتی معاملہ کے طور پر مسترد کرنے کی کوشش کی ہے لیکن چرچ کہتا ہے کہ یہ اقدام صدیوں پرانی موجودہ حالت کے لیے پریشان کن ہے اور مقدس سرزمین میں عیسائیوں کی مختصر موجودگی کے لیے بڑھتی ہوئی عدم برداشت کی عکاسی کرتا ہے۔
اس ہفتے وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو کو لکھے گئے خط میں بڑے عیسائی فرقوں کے سربراہان نے الزام لگایا ہے کہ اسرائیل کے طول و عرض میں چار بلدیات نے حال ہی میں چرچ کے حکام کو انتباہی خطوط جمع کروائے ہیں جس میں ٹیکس ادا نہ کرنے کی صورت میں انہیں قانونی کارروائی سے خبردار کیا گیا ہے۔کیتھولک، یونانی آرتھوڈوکس اور آرمینیائی آرتھوڈوکس گرجا گھروں کے سربراہان نے لکھاکہ ہمیں یقین ہے کہ یہ کوششیں مقدس سرزمین میں عیسائیوں کی موجودگی پر ایک مربوط حملہ ہیں۔ اس وقت جب پوری دنیا اور بالخصوص عیسائی دنیا اسرائیل میں ہونے والے واقعات کی مسلسل پیروی کر رہی ہے، ہمیں ایک بار پھر حکام کی طرف سے مسیحی موجودگی کو مقدس سرزمین سے باہر نکالنے کی کوشش سے نمٹنا پڑ رہا ہے۔عیسائی ایک مختصر سی اقلیت ہیں جو اسرائیل اور فلسطینی علاقوں کی آبادی کا 2 فیصد سے بھی کم ہیں۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق اسرائیل میں 182,000، مغربی کنارے اور یروشلم میں 50,000 اور غزہ میں 1,300 عیسائی ہیں۔ اکثریت فلسطینیوں کی ہے۔چرچ جو مقدس سرزمین کے بڑے زمیندار ہیں، کہتے ہیں کہ وہ دیرینہ روایات کے تحت پراپرٹی ٹیکس ادا نہیں کرتے۔ وہ کہتے ہیں کہ ان کے فنڈز ان خدمات پر صرف ہوتے ہیں جن سے ریاست کو فائدہ ہوتا ہے مثلاً سکول، ہسپتال اور بزرگ افراد کے لیے رہائش۔خط میں کہا گیا ہے کہ حالیہ مہینوں میں تل ابیب، رملہ، الناصرہ اور یروشلم کی بلدیات نے یا تو انتباہی خطوط جاری کیے ہیں یا مبینہ ٹیکس کے قرضہ جات کے لیے قانونی کارروائی شروع کر دی ہے۔یروشلم بلدیہ نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ چرچ نے گذشتہ چند سالوں میں ٹیکس استثنیٰ کے لیے ضروری درخواستیں جمع نہیں کروائی تھیں۔
اس میں کہا گیاگرجا گھروں کے ساتھ ان کی ملکیتی تجارتی جائیدادوں کے لیے قرض وصول کرنے کی غرض سے بات چیت ہو رہی ہے۔دیگر بلدیات نے فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ یہ واضح نہیں تھا کہ آیا بلدیات نے مربوط کوشش کی یا ٹیکس اقدامات اتفاقی ہیں۔2018 میں عیسائیوں نے اسرائیلی حکام کی طرف سے مقدس شہر میں تجارتی املاک پر ٹیکس عائد کرنے کے اقدام کے خلاف احتجاج کرنے کے لیے چرچ آف ہولی سپوکر بند کر دیا تھا جو عیسائیوں کے لیے یسوع مسیح کے مصلوب ہونے اور احیا کے مقام کی حیثیت سے قابلِ تعظیم ہے۔عیسائی رہنماؤں نے استدلال کیا کہ زائرین کے ہوسٹلز اور معلوماتی مراکز جیسے مقامات اہم مذہبی اور ثقافتی مقاصد پورے کرتے ہیں اور ان پر ٹیکس لگانے سے مقدس سرزمین میں عیسائی مذہبی رسومات ادا کرنے کی خلاف ورزی ہوگی۔ عوامی ردِعمل کے بعد نیتن یاہو نے فوری طور پر اس منصوبے کو معطل کر دیا۔



