اسرائیلی حملے میں اسماعیل ھنیہ کی بہن سمیت خاندان کے 10 افراد جاں بحق
کم از کم 14 افرادجاں بحق ہوئے
غزہ،26جون:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)اسرائیل کے غزہ پر فضائی حملے میں حماس کے سیاسی سربراہ اسماعیل ہنیہ کی بہن سمیت خاندان کے 10 افراد ہلاک ہو گئے ہیں جب کہ غزہ کے صحت حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے تین فضائی حملوں میں کم از کم 24 فلسطینی جاں بحق ہوئے ہیں۔طبی عملے کا کہنا ہے کہ دو حملے غزہ سٹی میں دو اسکولوں پر ہوئے جس میں کم از کم 14 افرادجاں بحق ہوئے جب کہ ایک حملہ الشاطی کیمپ میں ایک گھر پر ہوا جس میں اسماعیل ھنیہ کے خاندان کے 10 افراد مارے گئے ہیں۔اسرائیلی فوج کی جانب سے فوری طور پر اسماعیل ہنیہ کے خاندان کی ہلاکت کی تصدیق نہیں کی گئی ہے۔حماس کے زیرِ انتظام غزہ کی سول ڈیفنس کے ترجمان محمود بسال کے مطابق اسرائیل نے الشاطی پناہ گزین کیمپ میں اسماعیل ھنیہ کے گھر کو نشانہ بنایا ہے۔
بسال نے خبر رساں کو بتایا کہ حملے کے نتیجے میں 10 افراد شہید ہوئے ہیں جس میں اسماعیل ھنیہ کی بہن زہر ھنیہ بھی شامل ہیں۔ اب بھی کئی لاشیں ملبے تلے ہیں لیکن ہمارے پاس انہیں نکالنے کے لیے ضروری سامان نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ سول ڈیفنس کے عملے نے لاشوں کو الاھلی اسپتال منتقل کیا ہے جب کہ حملے میں کئی کے زخمی ہونے کی اطلاعات بھی ہیں۔اے ایف پی کے مطابق اسرائیلی فوج نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ وہ ان رپورٹس سے آگاہ ہے لیکن اس کی تصدیق نہیں کرسکتے۔رائٹرز کے مطابق اسرائیل کی فوج کا کہنا ہے کہ فضائیہ نے شمالی غزہ میں شاطی اور دراج تفح میں حماس کے دہشت گردوں کے زیر استعمال دو عمارتوں کو نشانہ بنایا۔
یہ اسکول کے کمپاؤنڈز سے آپریٹ کرتے تھے جنہیں حماس اپنی دہشت گرد سرگرمیوں کے لیے ڈھال کے طور پر استعمال کرتی تھی۔فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ غزہ سٹی میں رات بھر ان عسکریت پسندوں کو نشانہ بنایا جو اسرائیل پر حملوں میں ملوث تھے۔ جن میں سے کچھ ایسے بھی تھے جنہوں نے اسرائیل سے شہریوں کو یرغمال بنایا تھا جب کہ کچھ نے حماس کے سات اکتوبر کے حملے میں حصہ بھی لیا تھا۔قطر میں موجود حماس کے سیاسی رہنما اسماعیل ھنیہ کے تین بیٹے اور چار پوتے اپریل میں ہونے والے ایک اسرائیلی حملے میںجاں بحق ہوئے تھے۔
اسرائیلی فوج نے ان پر دہشت گرد سرگرمیوں کا الزام لگایا تھا۔اسماعیل ھنیہ نے اس وقت کہا تھا کہ سات اکتوبر سے شروع ہونے والی اس جنگ میں ان کے خاندان کے 60 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔سات اکتوبر 2023 کو حماس کے اسرائیل پر حملے میں اسرائیلی حکام کے مطابق لگ بھگ 1200 افراد ہلاک ہوئے تھے جب کہ 250 کو یرغمال بنایا گیا تھا۔اس حملے کے جواب میں اسرائیل کی جانب سے شروع کیے گئے حملوں میں غزہ کے صحت حکام کے مطابق 37 ہزار سے زائد افراد جاں بحق ہو چکے ہیں جن میں زیادہ تر عام شہری ہیں۔



