بین الاقوامی خبریںسرورق

اسرائیل کو اچانک غیر متوقع حملے سے حیران کر سکتے ہیں: ایران

ایران اس بار اسرائیل کو سخت جواب دے گا، جنرل فدوی کی ایک بار پھر ’دھمکی‘

 تہران،21اگست:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب کے ڈپٹی کمانڈر کا کہنا ہے کہ تہران میں حماس کے سابق سربراہ اسماعیل ھنیہ کے قتل پر اسرائیلی رجیم کو ایران کی طرف سے سخت جواب ملے گا۔مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب کے ڈپٹی کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی فدوی نے کہا کہ جعلی اور بچوں کو قتل کرنے والی صیہونی رجیم نے اپنی حماقت جاری رکھتے ہوئے ایران کی سرزمین پر اسماعیل ھنیہ کو شہید کیا جس کا ہم مناسب وقت اور جگہ پر سخت جواب دیں گے۔انہوں نے کہا کہ ہم سزا کا وقت اور طریقہ طے کریں گے اوراسماعیل ھنیہ کے خون کا بدلہ ضرور لیا جائے گا۔فدوی نے زور دے کر کہا کہ غاصب صیہونی حکومت نے اسماعیل ھنیہ کو قتل کر کے ایک سنگین جرم کا ارتکاب کیا ہے ،اور اس بار اسے پہلے سے زیادہ سخت سزا دی جائے گی۔


اسرائیل کو اچانک غیر متوقع حملے سے حیران کر سکتے ہیں: ایران

تہران،21اگست:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)حماس تنظیم کے سربراہ اسماعیل ھنیہ کی تہران میں ہلاکت پر اسرائیل کے خلاف ایران کی ممکنہ جوابی کارروائی کے حوالے سے اقوام متحدہ میں ایرانی مشن کا تبصرہ سامنے آیا ہے۔مشن کا کہنا ہے کہ کسی بھی جوابی اقدام کا مقصد اسرائیل کو سزا دینا اور مستقبل میں ملک (ایران) میں کسی بھی حملے کو روکنا ہونا چاہیے۔امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق مشن نے واضح کیا کہ جوابی کارروائی پر احتیاط کے ساتھ غور کرنا چاہیے تا کہ غزہ کی پٹی میں فائر بندی کی بات چیت پر کوئی منفی اثر نہ پڑے۔ مشن نے اپنے بیان میں زور دیا کہ ایرانی رد عمل کے وقت، شرائط اور طریقہ کار میں ہم آہنگی رکھی جائے گی تا کہ اس کے انتہائی اچانک وقوع کو یقینی بنایا جا سکے،ان (اسرائیلیوں) کی آنکھیں آسمان یا ریڈار اسکرینوں پر جمی ہوں گی کہ اچانک وہ زمینی یا فضائی اور یا پھر دونوں طرح کے حملوں سے حیران رہ جائیں گے۔

اس سے قبل ایرانی پاسداران انقلاب کے ترجمان علی محمد نائینی نے منگل کے روز کہا کہ اسرائیل کا انتظار کا عرصہ طویل ہو سکتا ہے۔ نائینی کے مطابق اس بار ان کے ملک کا جواب پہلے سے بہت مختلف ہو گا۔امریکی ذمے داران نے یہ کہہ چکے ہیں کہ تہران اسرائیل کے خلاف اپنا رد عمل مؤخر کر سکتا ہے تا کہ غزہ میں فائر بندی مذاکرات کو ایک موقع دیا جا سکے۔ یہ مذاکرات مشکلات اور رکاوٹوں کے باوجود قطر، مصر اور امریکا کے توسط سے ابھی تک جاری ہیں۔امریکی انتظامیہ کے ایک اعلیٰ عہدے دار نے گذشتہ ہفتے تصدیق کی تھی کہ ان کے ملک نے ایران کو خبردار کر دیا ہے کہ وہ اسرائیل کے خلاف بڑے میزائل حملے سے گریز کرے، اس کے نہایت تباہ کن نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔اس دوران میں امریکی صدر جو بائیڈن غالب گمان ظاہر کر چکے ہیں کہ غزہ کی پٹی میں جنگ بندی طے پانے کی صورت میں اسرائیل کے خلاف ایرانی حملہ موخر ہو جائے گا۔یاد رہے کہ 31 جولائی کو تہران میں اسماعیل ہنیہ کی ہلاکت کے بعد سے خطے میں غیر معمولی کشیدگی پھیل گئی ہے۔ اسرائیل اور ایران دونوں ہی عسکری طور پر چوکنا ہو گئے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button