گوگل کے چیٹ بوٹ ’بارڈ‘ کی ایک غلطی پر کمپنی کو 100 ارب ڈالر کا نقصان
دنیا کے مشہور ترین سرچ انجن گوگل کے حال ہی میں متعارف کردہ چیٹ بوٹ سے ہونے والی غلطی کی وجہ سے کمپنی کو 100 ارب ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا
نیویارک،9فروری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) دنیا کے مشہور ترین سرچ انجن گوگل کے حال ہی میں متعارف کردہ چیٹ بوٹ سے ہونے والی غلطی کی وجہ سے کمپنی کو 100 ارب ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ کے مطابق گوگل نے بدھ کو مصنوعی ذہانت سے چلنے والے اپنے چیٹ بوٹ بارڈ کی تعارفی ویڈیو جاری کی۔ اس ویڈیو میں نشان دہی کی گئی کہ چیٹ بوٹ ’بارڈ‘ نے یہ معلومات درست فراہم نہیں کیں کہ نظامِ شمسی سے باہر کسی سیارے کی سب سے پہلے کس سیٹیلائٹ یا دور بین کے ذریعے تصویر لی گئی تھی۔بارڈ کی اس غلطی کے بعد خبر کے مطابق گوگل کے شیئرز میں بدھ کو ریگولر ٹریڈنگ میں نو فی صد تک کمی آئی۔ یہ کمی گزشتہ ڈیڑھ ماہ میں آنے والی مجموعی کمی سے بھی زیادہ بتائی جا رہی ہے۔
یوں گوگل کی پیرنٹ کمپنی ‘الفا بیٹ کارپوریشن’ کو ایک خطیر نقصان ہوا ہے۔گوگل کی ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ ایک شخص بارڈ میں ٹائپ کرتا ہے کہ خلائی دوربین جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ سے کیا نیا دریافت کیا گیا ہے جس سے وہ اپنے نو سالہ بچے کو آگاہ کر سکے؟اس کے جواب میں بارڈکا جواب ٹائپ شدہ نظر آتا ہے جس میں کئی تفصیلات موجود ہیں۔ساتھ ہی ایک جواب یہ بھی ہے کہ جیمز ویب ٹیلی اسکوپ کے ذریعے سب سے پہلے نظامِ شمسی سے باہر کسی سیارے کی تصویر لی گئی تھی۔جب کہ یہ درست معلومات نہیں ہیں کیوں کہ یورپین سدرن آبزرویٹری کے ویری لارج ٹیلی اسکوپ (وی ایل ٹی) کے ذریعے 2004 میں سب سے پہلے نظامِ شمسی سے باہر کسی سیارے کی تصویر لی گئی تھی۔
اس کی تصدیق امریکہ کی خلائی ایجنسی ناسا نے بھی کی تھی۔جب بارڈ کی غلطی سے متعلق گوگل کے ترجمان سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی ٹول کی ٹیسٹنگ میں انتہائی سخت جانچ کی ضرورت ہوتی ہے۔انہوں نے بارڈکی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ گوگل ایسا ہی کچھ اپنے ٹرسٹڈ ٹیسٹر پروگرام کے ذریعے شروع کر رہا ہے۔اس کے ٹیسٹر پروگرام اور باہر سے ملنے والے فیڈ بیک کی بنیاد پر بارڈ کے ذریعے معلومات کے حصول اور معیار کو بہتر کرنا ممکن ہے۔ماہرین کے مطابق انٹرنیٹ پر معلومات کی تلاش کے لیے گوگل کو حالیہ تاریخ میں پہلی مرتبہ مسابقت کا سامنا ہے۔چیٹ جی پی ٹی مصنوعی ذہانت سے چلنے والا ایک پروگرام ہے جس کی مدد سے کسی بھی معاملے پر مفصل جواب حاصل کیے جا سکتے ہیں۔بعض مبصرین یہ اندیشہ ظاہر کرنے لگے ہیں کہ گوگل کو مصنوعی ذہانت سے چلنے والے چیٹ بوٹ میں مائیکروسافٹ کے مقابلے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔



