بین الاقوامی خبریںسرورق

وزیر اعظم کے حکم سے سعودی شہریت دینے کا نیا فیصلہ

سعودی عرب میں شہریت دینے سے متعلق ضوابط میں معمولی تبدیلی کے بعد نئے فیصلے کی تفصیلات جاری کی گئی

ریاض،18مارچ :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) سعودی عرب میں شہریت دینے سے متعلق ضوابط میں معمولی تبدیلی کے بعد نئے فیصلے کی تفصیلات جاری کی گئی ہیں۔ نئے فیصلے میں واضح کیا گیا ہے کہ زیر داخلہ کی تجویز پر وزیر اعظم سعودی عرب کی شہریت دینے کے حمتی مجاز اتھارٹی ہوں گے۔وزارت داخلہ کے مکہ مکرمہ ریجن کی طرف سے ’ٹویٹر‘ پر ایک مختصر بیان پوسٹ کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ وزیر داخلہ کی ایڈوائس پر وزیراعظم شہریت دینے کا فیصلہ کرسکتے ہیں۔جمعہ کے روز سرکاری اخبار ام القریٰ میں شائع ہونے والے فیصلے کا متن حسب ذیل ہے:شاہی فرمان نمبر (M/88) مورخہ 6/11/1444ھ کا جائزہ لینے کے بعد سعودی شہریت کے قانون کے آرٹیکل آٹھ میں ترمیم کرتے ہوئے کہا گیا ہے ۔

سعودی شہریت وزیر داخلہ کی تجویز کی بنیاد پر وزیر اعظم کے حکم سے دی جا سکتی ہے۔سعودی شہریت کے قانون کے آرٹیکل 27 میں درج ذیل کہا گیا ہے کہ وزیر داخلہ اس قانون کے لیے انتظامی ضوابط جاری کرتا ہے۔سعودی قومیت کے نظام کے انتظامی ضوابط کے آرٹیکل 28 کو حذف کردیا گیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ وزیر داخلہ نظام کے آرٹیکل (8) کے مطابق شہریت دینے کے لیے ضروری فیصلے جاری کرتا ہے۔یہ فیصلہ سرکاری گزٹ میں اس کی اشاعت کی تاریخ سے نافذ ہوگا۔یہ فیصلہ ہر اس شخص تک پہنچا دیا جائے گا جو اسے اپنانے اور اس کے مطابق عمل کرنے کا خواہاں ہے۔

سوشل میڈیا پر نماز نشر کرنے پر پابندی، لاؤڈ اسپیکر پر صرف اذان اور اقامت کی اجازت

ریاض،18مارچ :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)سعودی عرب کی وزارت اسلامی امور کے ترجمان عبداللہ العنزی نے کہا ہے کہ وزارت نے سوشل میڈیا پر نماز اور جمعہ خطبات نشر کرنے پرپابندی عاید کردی ہے۔انہوں نے کہا کہ رمضان کے مہینے میں بیرونی لاؤڈ اسپیکر صرف اذان اور اقامت کے لیے استعمال کیے جائیں گے۔’الاخباریہ‘ چینل کے ساتھ ٹیلی فون پر انٹرویو میں سعودی مذہبی امور کے ترجمان نے وضاحت کی سوشل میڈیا کی اپنی اہمیت ہے مگر اس پر جو کچھ نشر کیا جاتا ہے مواد پر پلیٹ فارم کو کنٹرول نہیں ہوسکتا۔

اس طرح بعض اوقات سوشل میڈیا پر پوسٹ کردہ مواد اسلام کی دعوت اور مساجد کے پیغام کو نقصان پہنچاتا ہے۔العنزی نے مزید کہا کہ وزارت مذہبی امور نے سوشل میڈیا کے ذریعے نشریات پر پابندی لگا دی ہے، تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ کوئی بھی ایسا مواد جو غلط ہو اور اللہ تعالیٰ کی دعوت کو نقصان پہنچا سکتا ہو اس سے بچا جا سکے۔العنزی نے کہا کہ رمضان کے مہینے میں بیرونی لاؤڈ اسپیکر کے استعمال کے بارے میں افواہیں پھیلائی جا رہی ہیں۔ حکومت کی طرف سے مساجد کے بیرونی لاؤڈ اسپیکروں کو صرف اذان اور اقامت کے لیے استعمال کرنے کی اجازت ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button