سگریٹ نوشی کی عادت ترک کر دینے والی ایک خاتون کی پرعزم کہانی
’’ماں تم تمباکو نوشی سے مر جاؤ گی!‘‘ جتنی زیادہ مرتبہ میرا بیٹا مجھے سگریٹ نوشی کرتے ہوئے دیکھ کر خوف کی حالت میں اپنا سر پکڑے ہوئے یہ الفاظ ادا کرتا،
لندن ،2 جولائی:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) ’’ماں تم تمباکو نوشی سے مر جاؤ گی!‘‘ جتنی زیادہ مرتبہ میرا بیٹا مجھے سگریٹ نوشی کرتے ہوئے دیکھ کر خوف کی حالت میں اپنا سر پکڑے ہوئے یہ الفاظ ادا کرتا، میرا اپنی اس عادت کے حق میں جواز اتنا ہی کم ہوتا جاتا تھا۔ تو میں نے سگریٹ نوشی ترک کر دی۔ یہ سال دو ہزار انیس تھا۔اس کے دو مہینے بعد بھی میں سگریٹ نوشی نہیں کرتی تھی۔ نشے کی عادت کے معالج ٹوبیاس ریوُٹر میرے سگریٹ نوشی چھوڑ دینے پر بہت خوش تھے۔ وہ میونخ کے لڈوِگ ماکسی میلیان یونیورسٹی ہسپتال میں تمباکو کی لت کے شکار بیرونی مریضوں کے علاج کے شعبے کے سربراہ ہیں۔ریوُٹر نے کہا کہ جب آپ تمباکو نوشی چھوڑ دیتے ہیں، تو آپ کی زندگی میں بہت سی مثبت چیزیں اور بہت سی تبدیلیاں بہت جلد رونما ہونے لگتی ہیں۔ڈاکٹر ریوُٹر نے مھجے سمجھایا کہ سگریٹ چھورنے کے صرف آٹھ گھنٹے بعد انسانی جسم کو آکسیجن کی بہت بہتر سپلائی ملنے لگتی ہے۔ صرف ایک سے دو دن بعد ہی بہت سے لوگ دوبارہ اپنی سونگھنے اور ذائقے کی حسیات بہت بہتر بنا سکتے ہیں۔
دو ہفتے بعد پھیپھڑوں کی کارکردگی بھی بہتر ہو جاتی ہے، جو کھیلوں کے دوران زیادہ نمایاں ہو کر نظر آتی ہے۔ تاہم میں نے سگریٹ نوشی چھوڑنے کے بعد بالکل اسی طرح فٹ محسوس کیا جیسا کہ میں پہلے بھی کیا کرتی تھی۔ڈاکٹر ریوُٹر نے کہاکہ آپ کو پہلے سے زیادہ سخت کھانسی ہو سکتی ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ پھیپھڑے خود کو صاف کرنا شروع کر دیتے ہیں انہوں نے کہا کہ صفائی کا یہ عمل مکمل ہونے میں تقریباً ایک مہینہ لگتا ہے،اس کے علاوہ ایک مہینے کے بعدآپ کا جسمانی مدافعتی نظام بھی بہت مضبوط ہو جاتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تین ماہ کے پرہیز کے بعد آپ کو رات کی نیند بھی بہت بہتر اور گہری آنے لگتی ہے۔ریوُٹر کے مطابق سگریٹ نوشی کرنے والوں کو رات کے وقت نکوٹین کی طلب کا تجربہ ہوتا ہے۔
آپ اس سے بیدار نہیں ہوتے، لیکن آپ بہت زیادہ بے سکونی سے سوتے ہیں۔ مگر تین ماہ بعد نیند معمول پر آجاتی ہے۔اس سے پہلے کہ میں مکمل پرہیز کا فیصلہ کر سکوں، میں نے سوچا کہ محض کم سگریٹ پینا بھی تو ایک صحتمند قدم ہو گا۔ لیکن یہ خیال مکمل طور پر درست نہیں ہے کیونکہ دو سے زیادہ سگریٹ جسم کو نقصان پہنچانے کے لیے کافی ہیں۔ڈاکٹر ریوُٹر کے بقول فالج یا دل کا دورہ پڑنے کا خطرہ بمشکل ہی تین سے بیس سگریٹوں کے درمیان بڑھتا ہے۔ لیکن ان کے مطابق کینسر کی کہانی مختلف ہے کیونکہ ہر سگریٹ کے ساتھ اس مرض کے لاحق ہو جانے کا خطرہ بڑھتا جاتا ہے۔
عادتاً تمباکو نوشی کرنے والے ہر دو میں سے ایک فرد اپنی تمباکو کی اسی لت کی وجہ سے ہی مر جاتا ہے اور ان میں سے پچاس فیصد تو ستر سال کی عمر تک پہنچنے سے پہلے ہی موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ ڈاکٹر ریوُٹر کو یقین تھا کہ 50 سال کی عمر تک میں تمباکو نوشی کے طبی نتائج کو محسوس کر چکی ہوتی۔ڈاکٹر ریوُٹر کے مطابق زیادہ تر سگریٹ نوشی کی عادت 12 سے 16 سال کی عمر کے درمیان شروع ہوتی ہے، جب دماغ ابھی پختہ ہو رہا ہوتا ہے۔ نکوٹین ایک انتہائی فعال نیورو ٹرانسمیٹر ہے، جو انسانی دماغ میں اعصابی رابطوں کی نشو و نما پر بہت زیادہ اثر ڈالتی ہے۔انہوں نے اس بارے میں وضاحت کی کہ چھوٹی عمر میں سگریٹ نوشی کا نتیجہ زندگی بھر کی لت ہے، جس پر پوری قوت ارادی سے مشکل سے قابو پایا جا سکتا ہے۔



