معروف جرمن وائرولوجسٹ کے مطابق کورونا کی وبا ختم ہو چکی ہے
جرمن ماہر کرسچن ڈورسٹن German virologist Christian Drosten کے خیال میں کورونا وائرس کی وبا ختم ہو چکی ہے
برلن ،27دسمبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) وائرس پر تحقیقات کے جرمن ماہر کرسچن ڈورسٹن German virologist Christian Drosten کے خیال میں کورونا وائرس کی وبا ختم ہو چکی ہے اور اب یہ ایک مقامی بیماری ہے۔جرمن وزیر انصاف نے بھی اس وبا کے حوالے سے عائد آخری پابندیوں کو بھی ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔متعدی بیماریوں اور وائرس کے جرمن ماہر کرسچن ڈورسٹن نے ایک مقامی اخبار ‘ٹیگسپیگل’ سے بات چیت میں کہا کہ کووڈ 19 کی وبا کو اب ختم سمجھنے پر غور کیا جا سکتا ہے کیونکہ اب یہ ایک مقامی بیماری ہے۔برلن کے چیریٹی یونیورسٹی ہسپتال میں شعبہ وائرولوجی کے سربراہ نے عالمی وبا کے پیچھے کورونا وائرس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہم اس موسم سرما میں سارس-کووڈ 2 کی پہلی مقامی لہر کا سامنا کر رہے ہیں، میرے اندازے کے مطابق وبا اب ختم ہو چکی ہے۔پیر کے روز شائع ہونے والے تبصروں میں ڈورسٹن نے کہا کہ اس موسم سرما کے بعد، آبادی میں قوت مدافعت اتنی وسیع اور لچکدار ہو جائے گی کہ گرمیوں کے دوران وائرس کے پھیلنے کا امکان بہت کم ہوگا۔
اس دوران انتہائی نگہداشت زمرے کے معالج کرسچن کاراگیانیڈز، جو جرمنی میں کووڈ 19 کے ماہرین پر مشتمل کونسل کے رکن بھی ہیں، نے کہا ہے کہ ممکنہ طور پر موسم سرما کے بعد یہ وبائی مرض ختم ہو جائے گا۔انہوں نے ایک مقامی میڈیا ادارے کے ساتھ انٹرویو کے دوران کہا، میں توقع کرتا ہوں کہ عالمی وبا اب تیزی سے اپنا راستہ طے کر لے گی۔ڈورسٹن نے جرمنی اور دیگر یورپی ممالک میں ویکسی نیشن مہم کی کامیابی کو کورونا وبا کے خاتمے کی اہم وجہ قرار دیا۔ تاہم انہوں نے کہا کہ مثال کے طور پر چین میں ایسا نہیں ہے، جہاں اس وقت کورونا وائرس کا انفیکشن تیزی سے پھیل رہا ہے۔ڈورسٹن نے کورونا وائرس کے خلاف حفاظتی اقدامات کا بھی دفاع کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر احتیاطی تدابیر کے طور پر کچھ بھی نہ کیا گیا ہوتا، تو جرمنی میں ڈیلٹا کی لہروں میں دس لاکھ یا اس سے بھی زیادہ اموات ہو چکی ہوتیں۔ وائرس کا ڈیلٹا ویریئنٹ سن 2021 کے وسط میں جرمنی پہنچا تھا۔



