بین الاقوامی خبریں

افغانستان: طالبان کا تیسرے صوبائی دارالحکومت پر قبضے کا دعویٰ

کابل،8اگست:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)طالبان نے قندوز پر قبضے کا دعویٰ کیا ہے۔ تین روز کے دوران افغانستان کا یہ تیسرا صوبائی دارالحکومت ہے، جس پر طالبان نے قبضے کا دعویٰ کیا ہے جب کہ کئی دیگر شہروں میں بھی طالبان اور حکومتی فورسز کے مابین لڑائی جاری ہے۔قبل ازیں سامنے آنے والے اطلاعات کے مطابق افغان شہر #قندوز میں طالبان اور حکومتی #فورسز کے مابین لڑائی شدت سے جاری تھی۔ تاہم آج اتوار کے روز طالبان نے قندوز پر قبضے کا دعویٰ کیا ہے۔

افغان حکومت نے ابھی تک قندوز پر طالبان کے قبضے کی تصدیق نہیں کی تاہم فرانسیسی نیوز ایجنسی اے ایف پی نے اپنے ذرائع کے حوالے سے طالبان کے دعوے کی تصدیق کی ہے۔ قندوز افغانستان کے شمال میں واقع ہے۔طالبان کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ شدید لڑائی کے بعد مجاہدین نے قندوز صوبے پر قبضہ کر لیا ہے۔قندوز میں موجود اے ایف پی کے رپورٹر کا کہنا تھا کہ قندوز پر قبضہ ہو گیا ہے،شہر کے تمام اہم مقامات طالبان کے کنٹرول میں ہیں۔

طالبان نے آج اتوار ہی کے روز اس صوبائی دار الحکومت پر قبضے کا دعویٰ بھی کیا ہے۔ سرِ پل کی صوبائی کونسل کے رکن محمد حسین مجاہد زادہ نے بھی طالبان کے قبضے کی تصدیق کرتے ہوئے اے ایف پی کو بتایا کہ شہر کے تمام اہم مقامات پر طالبان کا کنٹرول ہے۔ہرات کے نواح میں بھی طالبان اور حکومتی فورسز کے مابین لڑائی کی اطلاعات ہیں، جب کہ #لشکرگاہ اور #قندھار سے بھی لڑائی کی اطلاعات مل رہی ہیں۔

ہفتہ سات اگست کے روز طالبان نے جوزجان کے صوبائی دارالحکومت شبرغان پر بھی قبضہ کر لیا تھا اور کابل حکومت نے بھی اس کی تصدیق کر دی تھی۔اس سے بہلے صوبہ نمروز کے دارالحکومت زرنج پر بھی طالبان نے کنٹرول حاصل کر لیا تھا۔افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلا کے بعد طالبان اور حکومتی فورسز کے مابین لڑائی شدت اختیار کر رہی ہے۔ کابل حکومت نے دیہی علاقوں پر توجہ مرکوز کرنے کی بجائے ملک کے اہم ترین شہروں کے دفاع پر توجہ مرکوز کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

حکومت کی یہ حکمت عملی اب تک کامیاب رہی تھی تاہم اب اگر قندوز پر قبضے کی تصدیق ہو جاتی ہے تو طالبان کے قبضے میں آنے والا یہ اب تک کا اہم ترین شہر ہو گا۔حکومتی فورسز اہم شہروں سے طالبان کا #قبضہ ختم کرنے کے لیے فضائی طاقت بھی استعمال کر رہی ہے۔ علاوہ ازیں افغان #وزارت دفاع کے ایک ترجمان کا یہ بھی کہنا ہے کہ افغان سکیورٹی فورسز کے ساتھ ساتھ اب امریکی فورسز بھی طالبان کے ٹھکانوں کو فضا سے نشانہ بنا رہی ہیں۔

کابل میں طالبان کا حملہ،افغان فضائیہ کا پائلٹ ہلاک

افغان فضائیہ کا ایک پائلٹ کابل میں ہونیوالے #بم #دھماکے میں ہلاک ہو گیا، حکام کے مطابق طالبان نے حملے کی ذمہ داری #قبول کر لی۔حکام کا کہنا ہے کہ پائلٹ حمید اللہ عظیمی اس وقت ہلاک ہو گیا جب اس کی گاڑی سے چپکنے والا بم دھماکے سے پھٹ گیا، دھماکے میں پانچ شہری زخمی ہوئے۔ایئرفورس کے کمانڈر عبدالفتاح اسحاق زئی نے بتایا کہ حمید اللہ عظیمی کو امریکی ساختہ UH60 بلیک ہاک ہیلی کاپٹر اڑانے کی تربیت دی گئی تھی اور اس نے تقریباً چار سال تک افغان فضائیہ کے ساتھ خدمات انجام دیں۔

وہ ایک سال قبل اپنے خاندان کے ساتھ سیکورٹی خطرات کی وجہ سے کابل منتقل ہوگئے تھے۔دوسری جانب #طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ہفتے کے روز یہ حملہ طالبان نے کیا۔ طالبان نے #پائلٹوں کو بیس سے باہر قتل کرنے کی مہم شروع کی ہے جبکہ طالبان نے اب تک 7افغان #پائلٹوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا ہے۔

طالبان نے ایک ایسے پروگرام کی تصدیق کی ہے جس میں امریکی تربیت یافتہ افغان پائلٹوں کونشانہ بنایا اور ختم کیا جائے گا۔ امریکی اور افغان حکام کا خیال ہے کہ یہ جان بوجھ کر افغانستان میں امریکی اور #نیٹو کے تربیت یافتہ #فوجی پائلٹوں کی فوج کو تباہ کرنے کی کوشش ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button