بین الاقوامی خبریں

داعش میں شامل امریکی شہری پانچ الزامات کا مجرم قرار، عمر قید سزا کا امکان

جہاں اس نے ایک شوٹر کے طور پر داعش میں شامل ہو کر لڑنا شروع کیا

نیویارک،9فروری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)قانونی طریقے سے شہریت حاصل کرنے والے اس امریکی شہری کو ،جو داعش سیاس قدر متاثر ہوا تھاکہ دہشت گرد گروپ میں شامل ہونیکے لیے اپنے بیوی بچوں کو چھوڑ کر شام چلا گیا تھا اور وہاں گروپ میں امیر کے عہدے تک پہنچ گیا تھا، اسے اپنے خلاف عائد کیے جانے والے تمام الزامات کا مجرم قرار دیا گیا ہے، جس پر اسے عمر قید کی سزا ہو سکتی ہے۔امریکی محکمہ انصاف نے  اعلان کیا کہ ایک جیوری نے روسلان مراٹووچ اسینوف Ruslan Maratovich Asainov، جس کی عمر اب 46 سال ہو چکی ہے، پانچ الزامات کا مجرم پایا ہے، جن میں مادی مدد کی فراہمی کی سازش، تربیت کا حصول اور فراہمی ، انصاف میں رکاوٹ ڈالنے اور دہشت گرد گروپ کو اس طرح کی معاونت کی فراہمی شامل ہے جو ایک یا دو اشخاص کی موت کا باعث بنی ہو۔

امریکی اٹارنی بریون پیس نے ایک بیان میں کہا کہ اسینوف اس دہشت گرد تنظیم کے مذموم مقاصد سے اس قدر مضبوطی سیوابستہ تھا کہ اس نے یہاں بروکلین نیویار ک میں اپنے خاندان کو چھوڑ کر شام میں دہشت گرد تنظیم کیساتھ جنگ میں شامل ہونیکے لیے ایک غیر معمولی سفر اختیار کیا۔

پیس نے کہا کہ پکڑے جانیکے بعد بھی وہ ابھی تک داعش کے قتل و غارت پر مبنی موقف پر پوری وفاداری پر قائم ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مہذب دنیا میں موت اور تباہی کی خونی مہم کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔اسینوف کو امریکی حمایت یافتہ شامی ڈیمو کریٹک فورسز نے مارچ 2019 میں شام میں داعش کے آخری گڑھ باغوز پر حملے کے بعد گرفتار کیا تھا۔اسے جولائی 2019 میں امریکہ واپس بھیج دیا گیا تھا اور اس پر فوری طور پر دہشت گرد گروپ کو مدد فراہم کرنیکا الزام عائد کر دیا گیا تھا۔عدالتی دستاویزات کے مطابق اسینوف نے جو قازقستان سے امریکہ آیا تھا، 2013 کے اواخر میں شام گیا تھا جہاں اس نے ایک نشانچی کے طور پر داعش میں شامل ہو کر لڑنا شروع کیا۔وہ آخر کار دہشت گرد گروپ کا ایک امیر بن گیا جس کی ذمہ داری داعش کے رنگروٹوں کے لیے تربیتی کیمپ قائم کرنے اور انہیں ہتھیاروں کے استعمال کی تربیت دینا تھا۔اس نے ایف بی آئی کے لییایک مخبر کے طور پر ربط ضبط بھی شروع کیا اور ان سے جنگی لباس میں اپنے اور داعش کے جنگجووں کے فوٹو بھیجنے کا معاوضہ مانگتا تھا۔

امریکی عہدیداروں کاکہنا ہے کہ ان پیغامات کے علاوہ اسینوف کے خلاف کچھ شواہد ان انٹریوز پر مبنی ہیں جن میں سے کم از کم ایک دوسر ے فرد نیاسی دوران کسی وقت داعش کو مادی مدد اور وسائل فراہم کیے تھے جب اسینوف وہاں تھا۔داعش کے غیر ملکی جنگجوؤں اور ان کے خاندانوں کی وطن واپسی کی کوششوں کے باوجود امریکی عہدے داروں کا اندازہ ہے کہ شمال مشرقی شام کی عارضی جیلوں میں مریکی حمایت یافتہ ایس ڈی ایف نے 8000 عراقی اور شام کے داعش جنگجوؤں کے ساتھ ساتھ ا ابھی تک تقریباً 2000غیر ملکی جنگجوؤں کو پکڑکر رکھا ہوا ہے۔اس تعداد میں اکتوبر 2019 سے کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ہے۔ منگل کو امریکی محکمہ دفاع کے انسپکٹر جنرل کی طرف سے جاری ایک رپورٹ میں شام کی جیلوں کے بارے میں خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بہت سے حراستی مراکز زیر حراست افراد کو رکھنے کے لیے نہیں بنائے گئے تھے اور ان کی مستقل انتظامی صورت حال ناقص ہے۔انسداد دہشت گردی سے متعلق امریکی عہدے داروں کا اندازہ ہے کہ شام کی خانہ جنگی کے آغاز کے بعد سے مجموعی طور پر 45000 سے زیادہ غیر ملکی جنگجو شام اور عراق میں اکٹھے ہوئے تھے جن میں مغربی ملکوں کے 8000 جنگجو شامل تھے۔ط

متعلقہ خبریں

Back to top button