بین الاقوامی خبریں

افغانستان میں موجود امریکی شہری طالبان کے خوف سے چھپ رہے ہیں

نیویارک ؍کابل ،19ستمبر :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)امریکی انخلا کے بعد افغانستان میں امریکی شہری اور گرین کارڈ رکھنے والے افراد طالبان کے خوف سے چھپ رہے ہیں۔امریکی خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق کیلی فورنیا سے تعلق رکھنے والے گرین کارڈ ہولڈر ایک جوڑے نے اپنے تین بچوں سمیت دو ہفتوں میں سات مرتبہ اپنا ٹھکانہ تبدیل کیا ہے۔

اردودنیا ایپ انسٹال کے لیے کلک کریں

کابل میں رہائش پذیر اس خاندان کا انحصار ان کے رشتہ داروں پر ہے۔ یہ خاندان اس انتظار میں ہے کہ کوئی کابل سے نکلنے میں ان کی مدد کرے۔امریکی محکمہ خارجہ کے ایک اہلکار نے کئی دن پہلے ان سے رابطہ کیا تھا اور کہا تھا کہ معاملے کے لیے نمائندے کا تقرر کیا گیا ہے لیکن تب سے انہوں نے کچھ نہیں سنا۔تین بچوں کی ماں نے اے پی کو ایک ٹیکسٹ پیغام میں کہا کہ ’ہم خوفزدہ ہیں اور خود کو زیادہ سے زیادہ چھپاتے رکھتے ہیں۔

اے پی نے جن افراد سے رابطہ کیا ہے، ان کی حفاظت کے پیش نظر شناخت ظاہر نہیں کی جا رہی، انہوں نے ہفتوں تک گھروں میں چْھپنے کا خوفناک منظر بیان کیا ہے۔یہ لوگ گھروں میں بجلی کو بند رکھتے ہیں۔ ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوتے ہیں اور پہچانے جانے سے بچنے کے لیے کْھلے ڈھلے کپڑے اور برقع کا استعمال کرتے ہیں۔

ان سب کا کہنا ہے کہ وہ اس سے خوفزدہ ہیں کہ طالبان ان کو ڈھونڈ لیں گے، ان کو جیل میں ڈال لیں گے اور شاید انہیں قتل کر دیں، کیونکہ وہ امریکی ہیں یا امریکہ کے لیے کام کر چکے ہیں۔ان کو تشویش ہے کہ ان کو نکالنے سے متعلق بائیڈن انتظامیہ کی کوششیں بھی رک گئی ہیں۔

ٹیکساس کے ایک ٹرک ڈرائیور جو کابل میں اپنے والدین کے ساتھ موجود ہیں، ان کو چند ہفتے قبل ایک فون کال موصول ہوئی جس کے بارے میں ان کو امید تھی کہ امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے ہوگی تاہم وہ طالبان کی کال تھی۔ٹرک ڈرائیور کے بھائی نے اے پی کو بتایا کہ فون کرنے والے نے ان کے بھائی کو بتایا کہ ہم آپ نقصان نہیں پہنچائیں گے، آئیں اور مل لیں، کچھ نہیں ہوگا۔

‘ کال کے آخر میں ان کو کہا گیا کہ ہمیں معلوم ہے کہ آپ کہاں ہیں۔گذشتہ ہفتے سیکریٹری خارجہ اینٹونی بلنکن نے کانگرس کو بتایا تھا کہ حکومت افغانستان میں امریکی مستقل رہائشی یا گرین کارڈ رکھنے والے شہریوں کا پتہ نہ چلا سکی تاہم انہوں نے کہا کہ سو امریکی شہریوں سمیت کئی ہزار افراد اب بھی افغانستان میں ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button