اسرائیلی عقوبت خانوں میں پابند سلاسل فلسطینی بچوں کی تعداد میں اضافہ
بچے، بوڑھے، خواتین اور جوان ہر عمر کے افراد کو قابض فوج نے انتظامی حراست کی ظالمانہ قید سنائی
رملہ ،23مئی :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)رواں سال کے دوران اسرائیلی قابض حکام نے کم عمربچوں کے خلاف انتظامی حراست کی پالیسی میں اضافہ کیا۔ حال ہی میں انتظامی حراست میں رکھے گئے نابالغ بچوں کی تعداد بڑھ کر 12 ہو گئی ہے۔فلسطینی اسیران اسٹڈی سینٹر نے ایک پریس ریلیز میں کہا ہے کہ انتظامی حراست نے فلسطینی معاشرے کے تمام طبقات کو متاثر کیا ہے۔بچے، بوڑھے، خواتین اور جوان ہر عمر کے افراد کو قابض فوج نے انتظامی حراست کی ظالمانہ قید سنائی۔ اس وقت نابالغ بچے بھی یہ ظالمانہ سزا بھگت رہے ہیں۔مرکز کے ڈائریکٹر محقق ریاض الاشقر نے بتایا کہ مئی کے مہینے کے دوران قابض ریاست کی عدالتوں نے چار نابالغوں کو انتظامی حراست میں منتقل کیا تھا۔
ان میں 16 سال کے موعد عمر الحاج کی عمر 16 سال ہے اور اس کا تعلق عین السلطان کیمپ سے ہے۔ اسے چھ ماہ کی انتظامی قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ اس کے علاوہ 16 سال کے صامد خالد ابو خلف کی عمر بھی سولہ سال ہے اور اسے بھی چار ماہ کی انتطامی قید کی سزا سنائی گئی۔ 17 سالہ بسام ابو العسل کو بھی حال ہی میں انتظامی قید کی سزا سنائی گئی تھی۔انہوں نے انکشاف کیا کہ حالیہ مہینوں کے دوران انتظامی حراستی احکامات میں شدت آنے کے نتیجے میں قابض ریاست کی جیلوں میں انتظامی قیدیوں کی تعداد 1,030 سے زائد ہو گئی ہے، جن میں سے زیادہ تر رہائی پانے والے قیدی ہیں۔
خیال رہے کہ اسرائیلی ریاست بغیر کسی الزام کے محض شبے کی بنیاد پر فلسطینی شہریوں کو ان کے گھروں سے اٹھا کر جیلوں میں ڈال دیتی ہے اور انہیں غیرمعینہ مدت تک قید میں رکھا جاتا ہے۔
فلسطینیوں کا قتل عام اسرائیلی درندگی کا کھلا ثبوت ہے:ابو مروزق
حماس کے پولیٹیکل بیورو کے رکن موسیٰ ابو مرزوق نے زور دے کر کہا ہے کہ قابض فوج کی طرف سے نابلس شہر میں کل سوموارکی صبح ہونے والا قتل عام اسرائیلی ریاست کی درندگی اور معصوم فلسطینیوں کا خون بہانے کی فطرت کی تصدیق کررہا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ درندہ صفت اسرائیلیوں کے ہاتھوں فلسطینیوں کی جان ومال، عزت وآبرو اورمقدس مقامات کوئی بھی محفوظ نہیں۔
اسرائیلی دشمن ڈھٹائی کے ساتھ فلسطینیوں کی زمینوں پر قبضہ کررہا ہے اور ہمارے مقدس مقامات کی بے حرمتی کرتا ہے۔خیال رہے کہ کل سوموار کے روز علی الصبح اسرائیلی فوج کی ریاستی دہشت گردی کے نتیجے میں تین فلسطینی شہید اور چھ زخمی ہوگئے تھے۔ یہ واقعہ نابلس میں بلاطہ پناہ گزین کیمپ میں پیش آیا جہاں قابض صہیونی فوج نے گھس کر نہتے فلسطینیوں کو تہہ تیغ کرڈالا۔
ابو مرزوق نے کہا کہ کل سوموار کے روز روز حماس کی سرکاری ویب سائٹ پر شائع ہونے والے بیانات میں کہا گیا ہے کہ قابض فوج نے ایک گھناؤنے خونی جرم کا ارتکاب کیا ہے، مجرم صیہونی سکیورٹی وزیر ایتمار بن گویر کے مسجد اقصیٰ پر دھاوا بولنے کے ایک دن سے بھی کم وقت میں تین نہتے فلسطینیوں کو شہید کردیا گیا۔انہوں نے کہا کہ نابلس میں قتل عام کے واقعے کے بعد حالات اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ فلسطینی قوم قابض دشمن کے خلاف مسلح مزاحمت ہرمحاذ پر تیز کرے اور دشمن کی جارحیت کا بھرپور جواب دے۔



