بین الاقوامی خبریں

اسرائیلی فورسز کے مغربی کنارے میں حملے، 6 فلسطینی جاں بحق, 20 زخمی

غزہ، 25اکتوبر :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فورسز کے چھاپوں کے دوران فائرنگ کے نتیجے میں تقریباً 6 فلسطینی جاں بحق اور 20 زخمی ہو گئے۔خبررساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی رپورٹ کے مطابق یہ ہلاکتیں آج صبح ہوئیں جب بڑی تعداد میں اسرائیلی فوج نے نابلس شہر پر دھاوا بول دیا جہاں ان کا فلسطینی سکیورٹی فورسز اور مسلح جنگجوؤں سے سامنا ہوا۔اسرائیلی فورسز نے اس کارروائی کا مقصد فلسطینی جنگجوؤں کے نئے اتحاد ’عرین الاسود‘ کو نشانہ بنانا قرار دیا۔اسرائیل کے وزیراعظم یائر لیپڈ نے کہا ہے کہ نابلس شہر میں ہلاک ہونے والوں میں ودیع الحوح نامی عسکری لیڈر بھی شامل تھا جو فلسطینی جنگجوؤں کے نئے اتحاد ’عرین الاسود‘ کا سربراہ تھا۔قبل ازیں فلسطین کی وزارت صحت نے 3 افراد کے جاں بحق ہونے جبکہ 19 کے شدید زخمی ہونے کی تصدیق کی تھی، بعدازاں مزید 2 فلسطینیوں کے جاں بحق ہونے کی اطلاع دی گئی۔

فلسطینی وزارت صحت کے مطابق چھاپے کے دوران احتجاجاً پتھراؤ کرنے والے چھٹے فلسطینی کو اسرائیلی فوجیوں نے گولی مار کر قتل کر دیا۔اسرائیلی فورسزز کا موقف ہے کہ انہوں نے پولیس اور انٹیلی جنس اہلکاروں کی مدد سے ان ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جو فلسطینی جنگجگو گروپ ’عرین الاسود‘ کے زیر استعمال تھے، انہوں نے ان ٹھکانوں کو عسکریت پسندوں کا ’ہیڈ کوارٹر اور ہتھیار بنانے کی ورکشاپ‘ قرار دیا۔اسرائیلی فورسزز کے بیان میں مزید کہا گیا کہ ’فورسز نے دھماکہ خیز مواد بنانے والی جگہ کو دھماکے سے اڑا دیا، کارروائی کے دوران متعدد مسلح مشتبہ افراد کو نشانہ بنایا گیا‘ تاہم ہلاکتوں کی تعداد نہیں بتائی گئی۔

خیال رہے کہ 1967 میں اسرائیل نے فلسطین کے علاقوں پر قبضہ کر لیا تھا اور حالیہ چند ماہ سے مغربی کنارے کے شمالی علاقوں بالخصوص نابلس اور جنین میں شدید جھڑپوں میں اضافہ ہوا ہے۔اقوام متحدہ کے مطابق رواں برس کے آغاز کے بعد سے اب تک جنگجوؤں سمیت 100 سے زائد فلسطینی شہری جاں بحق ہوچکے ہیں، یہ مغربی کنارے میں گزشتہ 7 برسوں میں ہونے والی سب سے زیادہ ہلاکتیں ہیں۔

فلسطینی نژاد امریکی ماڈل کا یوٹرن، اسرائیل کی مخالفت ترک کرکے حامی بن گئی

american supermodel bella hadid
بیلا حدید

دبئی، 25اکتوبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)حال ہی میں کچھ ایسا ہوا جس نے فلسطینی نژاد امریکی ماڈل جیجی حدید کو اسرائیل کے متعلق اپنے لہجے اور رویوں کو بدلنے پر مجبور کر دیا ہے۔ جیجی پہلے فلسطینیوں کے ساتھ ہونے والے سلوک پر تنقید کرتی رہتی تھیں لیکن حال ہی میں انہوں نے انسٹا گرام پر یہودیوں کی نہ صرف حمایت میں پوسٹ کردی ہے بلکہ اس سے قبل کی اپنی مخالفانہ پوسٹوں کو ڈیلیٹ بھی کردیا ہے۔یہ پوسٹ، جس کی تصویر نیچے شائع کی گئی ہے، 41 سالہ امریکی یہودی کامیڈین، پروڈیوسر اور مصنفہ ایمی شومر کی جانب سے انسٹاگرام پر دی گئی ہے۔

پوسٹ میں جیجی الحدید کی تصویر کے ساتھ نیلے رنگ سے لکھا گیا ہے کہ ’میں اپنے یہودی دوستوں اور یہودی لوگوں کی حمایت کرتی ہوں،توجہ مبذول کرنے کیلئے بڑے فونٹ میں اور نیلے رنگ میں عبارت ظاہر کی گئی۔پیر کے روز اسرائیلی اخبار ’’یدیعوت احرونوت‘‘ کے انگریزی زبان کے حصے میں اس سے متعلق شائع مضمون پر بھی توجہ دی ہے۔واضح رہے سپر ماڈل حدید کے انسٹاگرام پر فالوورز 76 ملین سے زیادہ ہیں۔ ان کی پوسٹ کو شیئر کرنے والی یہودی کامیڈین شومر کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ امریکہ میں یہودی کمیونٹی کی واضح حامی ہے، شومر نے دیگر امریکی یہودی اداکاروں کے ساتھ ملکر امریکی انتخابات میں امریکی یہودیوں کے ووٹروں کی تعداد بڑھانے کی جدوجہد میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ہے۔

اسرائیل یا یہودیوں کے تئیں سپر ماڈل کے رویے میں واضح تبدیلی کا ایک اور ثبوت جیجی حدید کا سابق پوسٹس کو ہٹانا ہے ، یہ مخالفانہ پوسٹ انہوں نے مئی 2021 سے انسٹاگرام پر اسرائیل پر تنقید کرتے ہوئے شائع کی تھیں۔ اب انہوں نے کوئی وضاحت دئیے بغیر ان پوسٹوں کو اپنے اکاؤنٹ سے ہٹا دیا ہے۔ یدیعوت احرونوت کی خبر کے مطابق جیجی اپنے سابق ساتھی انگلش گلوکار زین ملک کی بیٹی کی ماں ہیں، ان کی بیٹی کا نام کھائی ہے۔ جیجی کی بیٹی ان دنوں اپنے سے 21 سال بڑے معروف امریکی اداکار لیونارڈو ڈی کیپریو سے ڈیٹنگ کرتی دیکھی جارہی ہے۔27 سالہ جیجی الحدید نے مئی 2021 سے اپنے سے ایک سال چھوٹی اپنی بہن بیلا کے ساتھ ملکر اسرائیل مخالف کئی اشاعتوں میں حصہ لیا تھا۔

فلسطینی اتھارٹی نے ڈاک پارسل میں اسرائیل کا نام پتہ استعمال کرنے پر لگائی پابندی

غزہ، 25اکتوبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)فلسطین کی ریاست کے وجود کو مستحکم کرنے اور اس کی شناخت کو پھیلانے کے لیے فلسطینی اتھارٹی نے اسرائیلی پوسٹل کوڈ والے پوسٹل پارسلز کے داخلے پر سخت پابندیاں عائد کرنا شروع کر دی ہیں۔ یہ اقدام ایک ایسیوقت میں کیا جا رہا ہے جب فلسطینیوں کے خصوصی ڈاک نمبر کے حصول کو ڈیڑھ سال ہوچکا ہے۔پچھلے سال کے آغاز میں فلسطینی وزارت مواصلات اور انفارمیشن ٹیکنالوجی نے خریداروں اور الیکٹرانک سیلز کمپنیوں کو ایک سال کا وقت دیا کہ وہ اپنے پتے فلسطین منتقل کریں اور اسرائیل کا نام استعمال نہ کریں۔

فلسطینی اتھارٹی کئی اقدامات کے ذریعے اسرائیلی پوسٹل کا متبادل بننے کے لیے اپنا پوسٹل کوڈ وقف کرنے پر کام کر رہی ہے۔فلسطینی پوسٹ کے بین الاقوامی تعلقات کے افسرعماد طمیزی نے زور دے کر کہا کہ ’آج کے بعد اسرائیل کے نام کا کوئی پوسٹل پارسل فلسطینی ریاست میں داخل نہیں ہو گی اور ہم ان ڈیلیوری کمپنیوں کا پیچھا کریں گے جو ایسا کرتی ہیں‘۔طمیزی نے دی انڈیپینڈنٹ عربی کو بتایا کہ ہر کوئی اپنے پوسٹل پارسلوں کی آمد کے لیے ریاست فلسطین کا نام ایڈریس کے طور پر لکھنے کا پابند ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ فلسطینی پوسٹ اپنے پلیٹ فارمز پر ریاست فلسطین کا نام ڈالنے کے لیے الیکٹرانک سیلز کمپنیوں کے ساتھ طویل عرصے سے بات چیت میں مصروف ہے۔

فلسطین کی جانب سے ان کمپنیوں کے بڑھتے ہوئے مطالبات انہیں فروخت میں مالی سہولیات دینے پر مجبور کر دیں گے۔ زیادہ تر فلسطینی اپنے پوسٹل پارسل کے پتوں پر اسرائیل کا نام لگاتے ہیں کیونکہ بہت سی الیکٹرانک سیل کمپنیاں بغیر شپنگ چارجز کے اپنی مصنوعات فراہم کرتی ہیں۔فلسطین کے لیے پوسٹل کوڈ والے پوسٹل پارسل تل ابیب کے بن گوریون ہوائی اڈے پر پہنچتے ہیں، پھر شہروں اور قصبوں میں تقسیم کیے جانے سے پہلے رام اللہ کے مغرب میں بیتونیا میں واقع فلسطینی کسٹم سنٹر میں بھیجے جاتے ہیں۔طمیزی کے مطابق فلسطینی پوسٹ ان پارسلوں کو تل ابیب کے ہوائی اڈے سے فلسطینیوں تک پہنچانے کے طریقہ کار کو تیز کرنے میں کامیاب رہی، جس کی وجہ سے انہیں کئی مہینوں تک قیام کے بعد دن لگ گئے۔

اگرچہ وہ تسلیم کرتے ہیں کہ فلسطین کے لیے جہاز رانی اسرائیل کے مقابلے میں زیادہ مہنگی ہے، طمیزی نے وضاحت کی کہ فلسطینیوں کا اپنا ضابطہ استعمال کرنے سے بین الاقوامی شپنگ کمپنیوں کو تل ابیب کے برابر کرنے پر مجبور ہوگا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button