بین الاقوامی خبریں

چین کی سنکیانگ میں سخت اقدامات میں کمی تاہم خوف اب بھی برقرار

بیجنگ، ۱۱؍اکتوبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)چین کے صوبہ سنکیانگ میں تبدیلی دیکھی جا رہی ہے۔ عوامی مقامات پر لگے خاردار تار تقریباً ختم ہونے کے قریب ہیں،اسکولوں میں بچوں کے لیے فوجیوں کے یونیفارم جیسے یونیفارم بھی ختم ہوگئے ہیں، شہروں میں اب فوجی گاڑیاں بھی نہیں ہیں اور نہ ہی نگرانی والے کیمرے نظر آ رہے ہیں۔

امریکی خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق چینی حکام نے خطے میں بہت سے سخت اقدامات میں کمی کی ہے اور سیاحت کو فروغ دے رہا ہے۔ سنکیانگ کے شہروں میں تاریخی مقامات کو ختم کیا گیا ہے جبکہ کاشغر میں ایک مسجد کو کیفے میں تبدیل کیا گیا ہے۔

چار سال قبل چین کی حکومت نے علاقے میں کریک ڈاؤن شروع کیا تھا جس کے نتیجے میں لاکھوں ایغور اور دیگر مسلمان اقلیتوں کو حراستی کیمپس اور قید میں رکھا گیا تھا تاہم اب سنکیانگ ایک نئے دور میں داخل ہو گیا ہے۔ بیجنگ سنکیانگ پر اپنی گرفت کو کم کر رہا ہے تاہم خوف اب بھی موجود ہے۔اویغور زبان میں چین کے بانی ماؤزے تنگ اور چینی صدر شی جن پنگ کی کتابیں بھی ترجمہ ہوئی ہیں۔

چینی مسلمانوں پر ظلم وبربریت کی خوفناک داستاں!‎ 

سنکیانگ کے ایک تربیتی اسکول میں اویغور خواتین کو تربیت دی جارہی ہے۔رواں برس اپریل میں چین کی حکومت نے غیرملکی صحافیوں کو سنکیانگ کا دورہ کرایا تھا۔چین نے اویغوروں کو ضم کرنے کے لیے طویل جدوجہد کی ہے۔ 13 ملین افراد پر مشتمل اویغوروں کی ترکی کے ساتھ لسانی، نسلی اور ثقافتی روابط ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ ان کا مقصد اویغوروں کو ختم کرنا نہیں بلکہ ان کو معاشرے میں ضم کرنا ہے۔ارمچی کے سنکیناگ اسلامک انسٹی ٹیوٹ میں یہ طالبعلم امام بننے کی تربیت حاصل کر رہے ہیں۔ارمچی کے انٹرنیشنل برینڈ بازار میں پلاسٹک سے بنے اویغور نان کو نصب کیا گیا ہے۔چینی حکام کے مطابق سنکیانگ میں انتہا پسندی کو کنٹرول کرنے کے لیے سخت قسم کے اقدامات ضروری ہیں۔

بیرون ملک مقیم اویغور چین پر انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا الزام لگاتے ہیں۔ بیرون ملک مقیم اویغور کے انسانی حقوق کے کارکنان نے چینی حکومت پر نسل کشی کا الزام لگاتے ہیں اور اویغور مسلمانوں کی شرح پیدائش میں خدشے کا اظہار کرتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button