بین الاقوامی خبریں

کورونا وبا: جرمنی جتنا نقصان کسی دوسری یورپی معیشت کا نہیں ہوا

برلن،15جنوری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) کورونا وائرس کا نیا ویرینٹ اومیکرون نے جرمنی کے صحت کے ساتھ ساتھ دیگر شعبوں کو بری طرح متاثر کیا ہے وہاں یہ جرمنی کو کسادبازاری کے دہانے پر پہنچانے کا سبب بنا ہے۔گزشتہ برس یعنی 2021 ء کے اختتام تک یورپ کی سب سے بڑی معیشت، جرمنی کی اقتصاد بری طرح سکڑی تھی اور جرمنی کی اکانومی کے لیے نیا سال بڑے اقتصادی بوجھ کے ساتھ شروع ہوا۔

نیا سال کورونا ویرینٹ اومیکرون کے تیزی سے پھیلاؤ کیساتھ کسادبازاری لے کر آیا۔ اومیکرون کے سبب پیدا ہونے والی مہلک بیماری کووڈ انیس نے جہاں جرمن باشندوں کی جسمانی اور ذہنی صحت کو متاثر کیا ہے ہیں انہیں خریداری اور سفر وغیرہ سے دور کر دیا ہے۔

ساتھ ہی آن لائن شاپنگ کا سلسلہ بھی دشواریوں کا شکار ہے کیونکہ روزمر اشیا سے لے کر دیگر ضروری سامان جیسے کہ تکنیکی اشیا اور کمپیوٹر اور اس کے دیگر لوازمات تیار کرنے والی کمپنیاں بھی پیداوار اور ترسیل کے ضمن میں نقصان میں جا رہی ہیں۔

جرمنی میں گزشتہ برس کی چوتھے سہ ماہی میں پیداوار کی شرح 0.5 سے ایک فیصد تک کم ہوئی۔ جرمنی کی ریاستی شماریات کی ایجنسی DESTATIS کی طرف سے یہ اعداد و شمار جمعہ 14 جنوری کو سامنے آئے ہیں۔ ساتھ ہی یہ امکان بھی ظاہر کیا گیا کہ 2022 کے ابتدائی تین مہینے بھی اقتصادی اعتبار سے جرمن معیشت پر بھاری پڑیں گے جس کے بعد آئندہ کی دو سہ ماہیوں کے دوران جرمنی کی اقتصادی کارکردگی اسے تیزی سے کساد بازاری میں دھکیل دے گی۔

ان اندازوں کو عوام کے لیے قابل فہم بنا کر سادہ الفاظ میں پیش کیا جا رہا ہے۔ جرمنی تمام یورو زون کی اقتصادی شہ رگ ہی نہیں بلکہ اس زون میں شامل تمام ممالک کی اقتصادی ترقی کی رفتار طے کرنے میں مرکزی کردار ادا کرتا ہے۔ یورپی یونین میں شامل یورو زون کے 19 ممالک کی اقتصادیات کا دھارا بڑی حد تک جرمن معیشت کے ساتھ بہتا ہے۔

اس کے علاوہ جرمنی کا شمار دنیا کی سب سے بڑی معیشتوں میں کیا جاتا ہے۔ بہت سی جرمن کمپنیوں کے سپلائرز یا فیکٹریاں یورپ کے دیگر ممالک میں پائی جاتی ہیں۔ جرمنی کی کاروباری سرگرمیاں اپنے پڑوسیوں کی معاشی ترقی میں اضافے کا سبب بن سکتی ہیں۔

جرمن شہر کیل میں واقع انسٹیٹیوٹ فار دی ورلڈ اکانومی کے ایک ماہر نیلس جانسن کا اس بارے میں کہنا تھاکہ یہ انتہائی غیر معمولی بات تھی کہ تنہا کوئی ایک کمپنی جی ڈی پی کو اتنا بڑھا دے۔ انہوں نے اس سلسلے میں مجموعی گھریلو پیداوار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ کسی ملک کی اقتصادی پیداوار کا عام پیمانہ ہوتا ہے۔

نیلس جانسن نے کہا کہ 2021 کے مقابلے میں 2019 میں بائیو این ٹیک کمپنی کی مکمل عدم موجودگی کی وجہ سے جرمن معیشت کو اتنی تقویت نہیں ملی تھی۔یورپ کی کئی دیگر بڑی معیشتوں، مثال کے طور پر فرانس، اسپین اور اٹلی کے مقابلے میں جرمنی کی شرح نمو وبائی امراض کے سبب پہلے کی سطح سے نیچے گری اور اب بھی پیچھے ہے۔

جبکہ کورونا کی عالمی وبا کے پھیلاؤ سے پہلے اس کی کارکردگی 5 فیصد تک تھی جو کہ یورو زون کی اقتصادی ترقی کی شرح کا تخمینہ 5 فیصد ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button