بین الاقوامی خبریںسرورق

’بوسہ تنازعہ‘ کے باعث کیا دلائی لامہ کی شبیہ کمزور ہو گئی؟

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو کے بعد کافی تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔

لندن ،27اپریل:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)بدھ مت کے تبتی پیروکاروں کے رہنما دلائی لامہ کو ایک بار پھر بڑے پیمانے پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کی وجہ وائرل ہونے والی ایک ویڈیوبنی جس میں وہ ایک نوجوان لڑکے کو چومتے ہوئے یہ کہتے پائے گئے کہ ’’میری زبان چوس لو‘‘۔تبتیوں کے روحانی پیشوا دلائی لامہ کو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو کے بعد کافی تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کے باوجود دلائی لامہ کے پیروکاروں میں ان کی مقبولیت میں کوئی کمی یا ان کے احترام میں کوئی فرق نہیں آیا۔یہ متنازعہ واقعہ 28 فروری کو بھارت کی شمالی ریاست ہماچل پردیش کے دھرم شالہ میں پیش آیا، جہاں دلائی لامہ 1959ء میں جلاوطن کے بعد سے مقیم ہیں۔

اس واقعہ کے وقت ستاسی سالہ نوبل امن انعام یافتہ دلائی لامہ ایک تربیتی پروگرام مکمل کرنے والے طلباء کے ایک گروپ سے بات چیت کر رہے تھے۔اس اجتماع کے بعد دلائی لامہ کے دفتر نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایک ویڈیو کلپ گردش کر رہی ہے جس میں ایک لڑکے کی دلائی لامہ سے حالیہ ملاقات کو دکھایا گیا ہے۔ اس نوجوان لڑکے نے دلائی لامہ سے پوچھا کہ کیا وہ اسے گلے لگا سکتے ہیں۔ دلائی لامہ نے اس لڑکے سے کہا کہ کیا وہ اُن کی زبان چوسنا چاہتا ہے؟ اس ویڈیو میں دلائی لامہ کو اس لڑکے کے ہونٹوں پر بوسہ دیتے ہوئے بھی دیکھا گیا۔اس واقعے کے بعد ان کے دفتر نے ایک تاسفی بیان میں کہا کہ دلائی لامہ لڑکے اور اس کے اہل خانہ کے ساتھ ساتھ دنیا بھر میں پائے جانے والے اپنے دوستوں سے ان الفاظ کے لیے معافی مانگنا چاہتا ہیں، جن سے انہیں تکلیف پہنچی ہے۔

اس بیان میں مزید کہا گیاکہ دلائی لامہ اکثر ان لوگوں کو چھیڑتے ہیں، جن سے وہ معصومانہ اور چنچل انداز میں گفتگو کرنا چاہتے ہیں، یہاں تک کہ عوام میں اور کیمروں کے سامنے بھی۔تبت میں بدھ مت کے پیروں کاروں نے تنقید کا نشانہ بننے والے اپنے روحانی پیشوا دلائی لامہ کی بھرپور حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ تبتی یوتھ کانگریس (ٹی وائی سی) کے صدر گونپو دھونڈوپ کا کہنا ہے کہ اس ویڈیو پر سامنے آنے والے رد عمل سے تبتی کمیونٹی کے جذبات مجروح ہوئے ہیں اور انہیں ‘‘زخم‘‘ لگا ہے۔

ویڈیو کے منظر عام پر آنے کے بعد لداخ یونین کے علاقے لیہہ اور کارگل کے قصبوں نے لداخ بدھسٹ ایسوسی ایشن کے ہزاروں مظاہرین کو دلائی لامہ کی حمایت کے لیے باہر آتے دیکھا۔کچھ لوگوں نے محسوس کیا کہ اس ساسلے میں دلائی لامہکے رویے کی غلط تشریح کی گئی تھی اوریہ ثقافتی اطوار کی غلط تشریح کا مسئلہ تھا۔ایک تبتی باشندے تینسین دعوا نے کہاکہ تبت میں اپنی زبان کو باہر نکالنا ہیلو کہنے کا ایک روایتی طریقہ رہا ہے۔ یہ احترام کی علامت بھی ہے۔ تبتی ثقافت میں اسے سلام کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button