لندن ، 11،جنوری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) ڈنمارک کے دفاعی خفیہ ادارے کے سربراہ گزشتہ ایک ماہ سے زیر حراست ہیں۔ اس بات کا انکشاف پیر کے دن ہوا۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے انتہائی خفیہ معلومات لیک کی ہیں۔
ڈنمارک کے دفاعی خفیہ ادارے کے سربراہ پر الزام ہے کہ انہوں نے انتہائی خفیہ معلومات لیک کی ہیں۔پیر کے دن ڈینش میڈیا میں انکشاف کیا گیا کہ ملکی دفاعی خفیہ ایجنسی کے سربراہ لارس فنڈِسن Lars Findsen کو انتہائی خفیہ اور حساس معلومات لیک کرنے کے الزام میں گزشتہ ماہ حراست میں لے لیا گیا تھا۔
لارس فنڈِسن کے بارے میں یہ خبر ایک ایسے وقت پر سامنے آئی ہے، جب گزشتہ برس ڈینش انٹیلی جنس پر الزام لگایا گیا تھا کہ اس نے یورپی رہنماؤں اور ڈینشن شہریوں کی جاسوسی اور نگرانی کے لیے امریکہ کی قومی سکیورٹی ایجنسی (این ایس اے) کے ساتھ تعاون کیا تھا۔
بتایا گیا ہے کہ فنڈِسن کے کہنے پر ہی ان کا نام میڈیا کو جاری کیا گیا ہے۔ مقامی میڈیا کے مطابق اس کیس کے حوالے سے فنڈِسن کے کچھ ساتھیوں کیخلاف قانونی کارروائی کا سلسلہ شروع کیا گیا تھا۔اب تک ملنے والی اطلاعات کے مطابق ملکی خفیہ ایجنسیوں سے وابستہ دو سابق اور دو حاضر سروس اہلکاروں کو گرفتار کیا گیا تھا۔
ان میں ڈنمارک کی داخلی اور خارجی سطح پر کام کرنے والی خفیہ ایجنسیاں شامل ہیں۔پیر کے دن کوپن ہیگن سے موصولہ معلومات کے مطابق ان چار میں سے تین افراد کو ابتدائی پوچھ گچھ کے بعد رہا کر دیا گیا تاہم فنڈِسن ابھی تک زیر حراست ہیں۔
فنڈِسن نے دس جنوری پیر کے روز کمرہ عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ ان پر عائد کیے گئے الزامات عام کیے جائیں تاکہ وہ کھلے عام خود کو بے قصور ثابت کرنے کا عمل شروع کریں۔ انہوں نے کہا کہ یہ بے بنیاد الزامات ہیں۔
ڈینش براڈکاسٹر ڈی آر نے اپنے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ یہ کیس ان خفیہ معلومات کے بارے میں ہے، جو ڈینش میڈیا اداروں کو فراہم کی گئی تھیں۔ سن دو ہزار بیس میں ڈی آر نے اپنی ایک رپورٹ کہا تھا کہ خفیہ ادارے ایف ای نے خفیہ معلومات این ایس اے کو دی تھیں، جس کے نتیجے میں غالباً اس امریکی خفیہ ادارے کو ڈینش شہریوں کے ذاتی کوائف اور کمیونی کیشن ڈیٹا تک رسائی حاصل ہو گئی تھی۔
فنڈِسن کے خلاف اس کیس کی کارروائی بند کمرے میں ہو رہی ہے اور عوامی سطح پر الزامات کی نوعیت نہیں بتائی گئی۔ ڈینش استغاثہ نے اس بارے میں معلومات جاری کرنے سے انکار کر رکھا ہے۔ڈنمارک میں دو خفیہ ادارے فعال ہیں۔ ان میں سے ایک پولیس انٹیلیجنس سروس(پی ای ٹی) ہے جبکہ دوسرا ادارہ ایف ای ملک کی فارن انٹیلی جنس سروس ہے۔
باون سالہ فنڈِسن نے سن 2002 تا 2007 سات پی ای ٹی کی سربراہی کی جبکہ سن دو ہزار پندرہ میں وہ ایف ای کے سربراہ بنے۔ ایک داخلی رپورٹ کے بعد انہیں سن 2020 میں معطل کر دیا گیا تھا۔



