بین الاقوامی خبریں

ڈنمارک یورپ کا واحد ملک جہاں کورونا کی بندشیں ختم ہوگئیں

لندن ،11ستمبر :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)ڈنمارک واحد یورپی ملک بن گیا ہے جہاں کورونا وائرس کے حوالے سے لگائی گئی کوئی بھی پابندی اب نافذالعمل نہیں ہے۔خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ڈنمارک میں نائٹ کلبز میں داخلے کے لیے ویکسین سرٹیفکیٹ دکھانے کی ضرورت تھی۔تاہم ملک میں احتیاط کے ساتھ زندگی معمول پر لانے کی کوشش کے تحت اب یہ شرط بھی ختم کر دی گئی ہے۔

ملک میں ویکسین لگانے کی شرح میں اضافہ ہورہا ہے اور کورونا وائرس کے نئے کیسز رپورٹ نہیں ہو رہے۔ ملک کی 70 فیصد سے زائد آبادی تک ویکسین پہنچ گئی ہے۔تاہم عالمی ادارہ صحت نے متنبہ کیا ہے کہ صرف ویکسین لگوانے سے وبا ختم نہیں ہوگی اور وائرس سالوں تک رہ سکتا ہے۔

ڈنمارک کے ایک رہائشی کا کہنا تھا کہ وبا سے بچاؤ کے لیے کی جانے والی سختی کے بعد آخری پابندی کے ہٹنے سے انہیں آزادی محسوس‘ ہو رہی ہے۔کلاؤس سلویسٹر کا کہنا تھا کہ ’یہ کچھ سال مشکل تھے۔ میرے تین بچے ہیں اور ہم نے انہیں گھر پر پڑھایا ہے جن میں کئی دن مشکل رہے۔

ڈنمارک نے حالیہ مہینوں کے دوران ایک ایک کر کے کئی احتیاطی تدابیر ختم کی ہیں جن میں سے نائٹ کلب والی آخری تھی۔اب یہ پورے یورپ میں واحد ملک ہے جہاں کوئی پابندی نہیں ہے۔اس سے قبل آئس لینڈ نے جون میں تمام پابندیاں ختم کر دی تھیں۔

تاہم کورونا وائرس کے کیسز میں دوبارہ اضافے کے بعد پابندیاں دوبارہ لگا دی گئی تھی۔ واضح رہے کہ ڈنمارک نے رواں سال مارچ میں کورونا وائرس کے پاسپورٹس متعارف کروائے تھے۔یکم اگست کو میوزیم اور 500 سے کم لوگوں کی ’ان ڈور‘ تقریبات میں جانے کے لیے کورونا وائرس پاسپورٹ کی ضرورت کو ختم کیا گیا تھا۔

ملک میں اگست کی وسط سے پبلک ٹرانسپورٹ پر ماسک پہننے کی پابندی بھی ختم کر دی گئی تھی۔سنیچر کو ڈنمارک کے دارالحکومت کوپن ہیگن میں ہونے والے ایک کنسرٹ میں 50 ہزار افراد شریک ہوں گے جو کہ وبا کے دوران یورپ میں اس نوعیت کا پہلا کانسرٹ ہوگا۔

 ڈنمارک نے ویکسین کی تیسری خوراک دستیاب کی تھی اور ملک کے وزیر صحت کا کہنا تھا کہ زندگی کو معمول پر لانے میں ویکسینز کا اہم کردار ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button