
لندن، 7جنوری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)اومیکرون پر لیبارٹریز میں کیے جانے والے نئے مطالعاتی جائزون سے پتہ چلا ہے کہ کرونا وائرس کی یہ نئی جینیاتی قسم پھیپھڑوں کو اتنا نقصان نہیں پہنچاتی جتنا اس سے پہلے ڈیلٹا ویرینٹ سے پہنچ رہا تھا۔ اس کے علاوہ اومیکرون کے باعث اسپتال میں علاج کے لیے داخل ہونے والوں میں ایسے افراد کی تعداد کم ہے جنہیں کرونا وائرس سے بچاؤ کی ویکسین لگ چکی ہے۔
اسی طرح ویکسین شدہ افراد میں اموات کی تعداد بھی اس سے پہلے کی جینیاتی اقسام کے مقابلے میں کم ہے۔لیکن اسی تصویر کا دوسرا رخ یہ ہے کہ اومیکرون امریکہ میں اب بھی روزانہ اوسطاً 1200 افراد کی جانیں لے رہا ہے۔
یہ تعداد گزشتہ سال جولائی اور اگست کے دوران کرونا وائرس کی دوسری لہر کے عروج کے دنوں کے مساوی ہے۔یونیورسٹی آف گلاسگو کے سینٹر فار وائرس ریسرچ کے ایک سینئر لیکچرر جو گروو کہتے ہیں کہ، "اومیکرون، ڈیلٹا کے مقابلے میں کم خطرناک ہے۔ ڈیلٹا بہت مہلک تھا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اس کا یہ مطلب بھی نہیں ہے کہ یہ ویرینٹ نزلے زکام جیسا ہے۔
یہ اب بھی ایک ایسی چیز ہے جس کے بارے میں ہمیں فکر مند ہونے کی ضرورت ہے۔ ان کے علاوہ دیگر ماہرین بھی یہ انتباہ کرتے ہیں کہ اومیکرون بہت تیزی سے پھیلنے والی وبا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ وائرس کم خطرناک ہونے کے باوجود بھی بہت نقصان پہنچا سکتا ہے۔
خاص طور پر ان لوگوں کو جو عمر رسیدہ ہیں یا جنہیں پہلے سے ہی طبی مسائل کا سامنا ہے۔جانوروں اور لیبارٹری میں کیے جانے والے نئے مطالعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ اومیکرون پھیپھڑوں کو اتنا زیادہ متاثر نہیں کرتا جتنا کہ اس سے قبل کی کرونا وائرس کی اقسام نقصان پہنچاتی تھیں۔
اومیکرون میں مبتلا ہونے والے مریضوں کے پھیپھڑوں میں زیادہ سوزش نہیں دیکھی گئی۔تاہم اومیکرون ناک اور گلے کو آسانی سے متاثر کرتا ہے۔ گروو کہتے ہیں کہ ناک اور گلے کو اپنی لپیٹ میں لینے سے یہ پتہ چلتا ہے کہ اومیکرون کے تیزی سے پھیلنے کی وجہ کیا ہے، کیونکہ جب سانس خارج ہوتی ہے تو اس کے ساتھ وائرس بھی آس پاس کی فضا میں پھیل جاتا ہے۔
گرو و کہتے ہیں کہ کیونکہ اس کی وجہ سے زیادہ کھانسی یا چھیکیں آتی ہیں، اس لیے یہ زیادہ آسانی سے پھیل سکتا ہے۔ تاہم یہ میرا قیاس ہے۔اومیکرون کے متعلق بات کرتے ہوئے واشنگٹن یونیورسٹی اسکول آف میڈیسن میں وبائی امراض کے پروفیسر ڈاکٹر مائیک ڈائمنڈ کا کہنا ہے کہ لیبارٹری کے نتائج امید افزا ہیں، لیکن یہ بات بھی ذہن میں رکھنی چاہیے کہ جانوروں پر تجربات کے جو نتائج برآمد ہوتے ہیں، ضروری نہیں کہ انسانوں سے بھی ویسے ہی نتائج نکلیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ اومیکرون کم شدت کا وائرس ہے۔ ممکن ہے کہ یہ ٹھیک ہو، لیکن ہم ابھی تک پوری طرح نہیں جانتے کہ انسانوں میں اس کی شدت کم ہے۔ جنوبی آفریقہ میں ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ملک میں وائرس کی مختلف اقسام کے مقابلے میں اومیکرون میں مبتلا ہونے والے مریضوں میں علامات شدید نہیں تھیں۔



