یہاں الیکشن لڑنا موت کو دعوت دینےکے مترادف ہے، رہنماؤں کو بے دردی سے قتل کیا جا رہا ہے،
لوگ الیکشن لڑنے کا فیصلہ کرتے ہیں تاکہ وہ جیت کر اپنے ملک میں تبدیلی لا سکیں۔
ایکواڈور :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) لوگ الیکشن لڑنے کا فیصلہ کرتے ہیں تاکہ وہ جیت کر اپنے ملک میں تبدیلی لا سکیں۔شہریوں کی زندگیوں کو بہتر بنا سکتے ہیں۔ لیکن اگر الیکشن لڑنا موت کو دعوت دینے جیسا ہو جائے تو کیا ہوگا؟آپ الیکشن مہم چلانے نکلو گےاور مارے جاؤگے۔ الیکشن امیدوار کا سونچ کر ہی دل لرز جائےگیا۔ تاہم ایک ایسا ملک بھی ہے جہاں ان دنوں بالکل ایسے ہی واقعات منظر عام پر آرہے ہیں۔ دراصل ہم بات کر رہے ہیں جنوبی امریکہ کے ملک ایکواڈور کی۔ اگست میں ہونے والے انتخابات کے درمیان ان دنوں یہاں کافی تشدد ہو رہا ہے۔ گزشتہ 4 ہفتوں میں یہاں 3 لیڈر مارے جا چکے ہیں۔ اس میں ایک صدارتی امیدوار رہنما بھی شامل تھا۔ ملک میں سیاسی قتل و غارت کی وجہ سے عوام میں خوف و ہراس پایا جاتا ہے۔ لوگ یہ محسوس کر رہے ہیں کہ اگر لیڈراس حملوں سے محفوظ نہیں ہیں تو ان کی حفاظت کیسے ہو گی۔
دی گارڈین کی رپورٹ کے مطابق سابق صدر رافیل کو ریا کی پارٹی سٹیزن ریوولوشن کے منتظم پیڈرو برائنس کو منگل کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔ صدارتی دوڑ میں شامل ایک اور امیدوار اور سابق وزیر لوئیسا گونزالیز نے برائنس کے قتل کی اطلاع دی۔ انہوں نے کہا کہ ایکواڈور اپنے خونی ترین دور کا گواہ ہے۔ سٹیزن ریولوشن پارٹی کی لوئیسا گونزالیز صدر بننے کی دوڑ میں سب سے آگے ہیں۔چار ہفتوں میں تین رہنما مارے گئے۔پیڈرو بریونس ایکواڈور کے دیہی علاقوں میں مقبول رہنما تھے۔ ان کے قتل سے ایک ہفتہ قبل، صدارتی امیدوار فرنینڈو ولاسینسیو کو دن دیہاڑے قتل کر دیا گیا تھا۔ ولاسینسیو منظم جرائم اور بدعنوانی پر تنقید کرتےتھے۔ جولائی کے آخری ہفتے میں مانٹا شہر کے میئر آگسٹن انٹریاگو کو بھی گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔ وہ مئی میں ہی اپنی دوسری مدت کے لیے منتخب ہوئے تھے۔
لیڈر کیوں مارے جا رہے ہیں؟ ایکواڈور میں گزشتہ تین سالوں میں ہزاروں افراد کو قتل کیا جا چکا ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ ملک کا منشیات کی ا سمگلنگ کا مرکز ہے۔ ایکواڈور میں منشیات کے بہت سے خطرناک کارٹل ہیں، جو منشیات کا کاروبار کرتے ہیں۔ کارٹیل سڑکوں سے لے کر جیلوں تک اپنا کنٹرول چاہتے ہیں۔ جب بھی کوئی لیڈر ،ان کارٹلز پر تنقید کرتا ہے تو وہ نشانے پر آجاتا ہے۔ حال ہی میں ہلاک ہونے والے تمام رہنما منشیات کے کارٹل کےخلاف تھے۔ منشیات کا کاروبار کرنے والے گینگ، حکومت کو ان کے راستے میں آنے کو پسند نہیں کرتے۔ یہی وجہ ہے کہ ان پر تنقید کرنے والے یا کاروبار میں رکاوٹیں ڈالنے والے لیڈر اور لوگ آئے روز مارے جاتے ہیں۔ پولیس کے مطابق صرف رواں سال کے پہلے چھ ماہ میں 3,568 افراد ہلاک ہوئے۔ گزشتہ سال مختلف منشیات کارٹیل تشدد میں 4,600 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔



