انگریزی اچھی ہوگی ، تب ہی امریکی شہریت کے مجاز ہوں گے
امریکی سٹیزن شپ اینڈ امیگریشن سروسز نے کہا ہے کہ ان مجوزہ تبدیلیوں کے تحت نئے ٹیسٹ میں انگلش بول چال کے ایک سیکشن اور شہریت کے سیکشن میں ایک نئے ملٹی پل چوائس فارمیٹ کا اضافہ کیا جائے گا۔
نیویارک ، 7جولائی:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) امریکہ میں شہریت حاصل کرنے کے ٹیسٹ میں تبدیلی کی جار ہی ہے اور اگلے سال اس پر عمل درآمد ہو سکتا ہے۔ امریکی سٹیزن شپ اینڈ امیگریشن سروسز نے کہا ہے کہ ان مجوزہ تبدیلیوں کے تحت نئے ٹیسٹ میں انگلش بول چال کے ایک سیکشن اور شہریت کے سیکشن میں ایک نئے ملٹی پل چوائس فارمیٹ کا اضافہ کیا جائے گا۔ کچھ تارکین وطن اور ان کے حامیوں کو فکر ہے کہ ان تبدیلیوں سے وہ امیدوار متاثر ہوں گے جو انگریزی زبان زیادہ نہیں جانتے۔ہر سال دنیا بھر سے لاکھوں تارکینِ وطن امریکہ میں کئی سال تک مستقل رہائش اختیار کرنے کے بعد متعدد مراحل سے گزر کر امریکی شہریت حاصل کرتے ہیں۔
ان میں سے ایک آخری مرحلہ امریکی شہریت کے ٹیسٹ کو پاس کرنا ہے۔امریکی وفاقی قانون کے تحت امریکی شہریت کے بیشتر امیدواروں کے لیے لازمی ہے کہ وہ انگریزی زبان سمجھتے ہوں اور عام استعمال کے الفاظ بول، پڑھ اور لکھ سکتے ہوں ا ور امریکی تاریخ اور حکومت کے بارے میں جو کچھ جانتیہوں اسے بیان بھی کر سکتے ہوں۔امریکی شہریت کے ٹیسٹ کو سابق ری پبلکن صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے 2020 میں زیادہ طویل اور زیادہ مشکل بنا کر لوگوں کے لیے اسے پاس کرنا مشکل بنا دیا تھا۔
پھر چند ہی مہینوں میں ڈیمو کریٹک صدر جو بائیڈن نے منصب سنبھالا اور سٹیزن شپ کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کیلیے اگزیکیٹو آرڈر پر دستخط کیے جس کے نتیجے میں شہریت کے ٹیسٹ کو اس کے پچھلے ورژن میں تبدیل کر دیا گیا، جسے آخری بار 2008 میں اپ ڈیٹ کیا گیا تھا۔ اور اب اس ٹیسٹ میں نئی تبدیلیاں کی جارہی ہیں۔موجودہ ٹیسٹ میں امیدوار کی ا نگریزی بولنیکی مہارت کو شہریت سے متعلق انٹرویو کے دوران کچھ ایسے ذاتی سوالات پوچھ کر جانچا جاتا ہے جن کے جواب وہ پہلے ہی اپنی کاغذی کارروائی کے دوران دے چکا ہوتا ہے۔لیکن نئے مجوزہ ٹیسٹ میں ایک افسر امیدوار کو روز مرہ کی سرگرمیوں، موسم یا خوراک جیسی کچھ تصاویر دکھائے گا اور امیدوار سے کہے گا کہ وہ اسے انگریزی زبان میں بول کر اس کی وضاحت کرے۔ٹیسٹ میں ایک اور مجوزہ تبدیلی امریکی تاریخ اور حکومت سے متعلق سوکس سیکشن میں کی جائے گی۔
موجودہ ٹیسٹ میں ہر سوال کے نیچے کچھ جواب تحریر ہوتے ہیں جس میں سے امیدوار ایک کا مختصر زبانی جواب دیتا ہے۔لیکن نئے ٹیسٹ میں امیدوار کو وہ سوال پڑھنا ہو گا اور پھر درج کئے گئے کئی جوابات میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔ان مجوزہ تبدیلیوں نے تارکینِ وطن اور ان کے حامیوں کی پریشانی میں اضافہ کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ ٹیسٹ امریکی شہریت کے تعین میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور اس میں کی جانیوالی یہ تبدیلیاں ان تارکین وطن کے لییانتہائی نقصان دہ ہو سکتی ہیں جو انگریزی زبان میں مہارت نہیں رکھتے۔میسا چوسٹس کی جونز لائبریری کے،انگریزی بطور سیکنڈ لینگوایج سنٹر،کے سٹیزن شپ کو آرڈی نیٹر، لین وین تراب کہتے ہیں کہ سوکس سیکشن کے مجوزہ فارمیٹ سے یہ ٹیسٹ خاص طور پر معمر تارکین وطن اور ان پناہ گزینوں کیلیے مشکل ہو جائے گا جنہیں اپنے ملکوں میں انگریزی زبان پڑھنے، لکھنے یا بولنے کا موقع نہ ملا ہو۔ان کا کہنا ہے کہ مختلف ملکوں سے تعلق رکھنے والے شہریت کے امیدوار جو پہلے ہی وفاقی حکومت کے کسی افسر کے سامنے بیٹھ کر گھبرا جاتے ہیں۔



