اسرائیل کے ساتھ کشیدگی میں اضافہ حزب اللہ کے مفاد میں نہیں: اسرائیل
مسجد اقصیٰ اور فلسطینیوں پر حملے کسی بھی صورت تسلیم نہیں:ترکیہ
بیروت،8پریل:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)اسرائیلی وزارت دفاع کے دو اہلکاروں نے کہا کہ اسرائیل نے حزب اللہ کے ساتھ وسیع تر تنازعے سے بچنے کے لیے غزہ اور لبنان میں حماس کے ٹھکانوں پر رات کے وقت کیے جانے والے حملوں کو فوکس کیا۔اسرائیل کے ایک دفاعی اہلکار کے مطابق جمعرات کو لبنان سے راکٹ داغے جانے کے بعد حزب اللہ نے کئی بین الاقوامی ثالثوں کے ذریعے اسرائیل کو یہ پیغامات بھیجے ہیں کہ وہ اس حملے کا حصہ نہیں ہے۔امریکی ویب گاہ Axios کے مطابق دفاعی اہلکار نے کہا کہ اسرائیلی فوجی انٹیلی جنس کے جائزے حزب اللہ کے دعوے کو حقائق کے طور پر قبول کرتے ہیں۔
اسرائیلی حکام نے کہا ہے کہ جمعرات کو لبنان سے فائر کیے گئے راکٹوں کے جواب پر بات چیت کرتے ہوئے اسرائیلی وزرا نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ اسرائیل کو لبنان میں ایسی جنگ کی طرف راغب ہونے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے جس کے علاقائی تنازعہ میں تبدیل ہونے کا خطرہ ہو۔اسرائیل نے لبنان سے راکٹ فائر کرنے کے لیے حماس کو مورد الزام ٹھہرایا اور غزہ میں سرنگوں اور ہتھیاروں کی تیاری کے مقامات پر بمباری کے ساتھ جواب دیا۔ اسرائیلی فوج کا دعویٰ ہے کہ مسلح گروپ ان سرنگوں کو جنگی مقاصد کے لیے استعمال کرتے رہتے ہیں۔ اس کے بعد غزہ میں فلسطینی دھڑوں کی طرف سے رات کے وقت درجنوں راکٹ داغے گئے۔اسرائیل نے جنوبی لبنان میں حماس کے ٹھکانوں پر بھی غیر معمولی حملے کیے ہیں۔ حماس نے لبنان سے راکٹ داغے جانے کا اعلان نہیں کیا لیکن کہا کہ وہ اسرائیل کو "غزہ کی پٹی کے خلاف خطرناک جارحیت اور اس کے خطے پر مرتب ہونے والے نتائج کا ذمہ دار قرار دیتی ہے۔
اسرائیلی فوج نے غزہ اور لبنان دونوں کی سرحدوں کے قریب واقع قصبوں اور شہروں میں شہریوں کی نقل وحرکت پر سے تمام پابندیاں ہٹا دی ہیں، جو اس بات کی ایک بڑی علامت ہے کہ صورتحال پرسکون ہو گئی ہے۔ تاہم اسرائیلی فوج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس نے فضائی یونٹوں کے کچھ ریزرو فوجیوں کو ڈیوٹی پر بلایا ہے۔ایک دفاعی اہلکار کے مطابق جمعرات کے سکیورٹی کابینہ کے اجلاس سے پہلے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو اور وزیر دفاع یوؤو گیلنٹ کے درمیان ہونے والی بات چیت میں فوج اور موساد نے تجزیہ پیش کیا کہ لبنان میں اسرائیلی فضائی حملوں پر حزب اللہ کا ردعمل کیا ہو گا۔اسرائیلی حکام نے کہا کہ بعد میں اسرائیلی سکیورٹی کابینہ کے اجلاس میں جن اہم مسائل پر بات کی گئی ان میں سے ایک لبنان میں اسرائیل کے ردعمل کا دائرہ کار تھا۔
مسجد اقصیٰ اور فلسطینیوں پر حملے کسی بھی صورت تسلیم نہیں:ترکیہ

انقرہ8پریل :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)وزیرِ خارجہ میولود چاوش اولو کا کہنا ہے کہ مسجد اقصی ٰ اور فلسطینیوں پر حملوں کو کسی بھی وقت قبول نہیں کیا جا سکتا۔میولود چاوش اولو نے فلسطینی وزیر خارجہ ریاض مالکی اور اسرائیلی وزیر خارجہ ایلی کوہن سے ٹیلی فونک رابطے کیے۔دفتر خارجہ کی جانب سے جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق وزیر چاوش اولو نے مالکی سے بات چیت میں اپنے ہم منصب سے کہا ہے کہ مسجد ِ اقصیٰ کا تقدس اور حیثیت ترکیہ کے لیے ہمیشہ انتہائی اہم رہے ہیں اور ترکیہ ہر لمحہ فلسطینی عوام کا ساتھ دینے کے عمل کو جاری رکھے گا۔وزیر چاوش اولو نے اس بات کا اعادہ کیا کہ کشیدگی میںکمی لانے کے لیے ترکیہ ہر لازمی اقدامات اٹھانے کے لیے تیار ہے۔
وزیر مالکی نے ترکیہ کی حمایت و تعاون کا شکریہ ادا کیا۔جناب چاوش اولو نے بعد ازاں اسرائیلی ہم منصب ایلی کوہن سے ٹیلی فون پر مذاکرات کیے۔مذاکرات میں ترک وزیر خارجہ نے مسجد الاقصیٰ کے تقدس اور حیثیت کے خلاف اسرائیلی سکیورٹی فورسز کی تازہ ترین اشتعال انگیزیوں اور غزہ اور لبنان پر اسرائیل کے فضائی حملوں کی مذمت کی اور کہا ماہ رمضان میں عبادت میں مصروف معصوم انسانو ں پر تشدد ناقابل قبول فعل ہے۔چاوش اولو نے کہا کہ اسرائیلی سیکورٹی فورسز کی پرتشدد کارروائیوں کے لیے کوئی عذر نہیں ہو سکتا، اس بات پر زور دیا کہ ان کا اعادہ نہ کیا جائے اور فضائی حملے دوبارہ شروع نہ کیے جائیں۔



