بین الاقوامی خبریں

نیتن یاہو پردے کے پیچھے بھی امریکہ کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے رہے

نیتن یاہو کے ’ویڈیو بیان‘ سے امریکہ ناراض ، وائٹ ہاؤس کا اظہار ِمایوسی

مقبوضہ بیت المقدس، 21 جون:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے سر پر ہر طرف سے پریشانیاں منڈلا رہی ہیں۔ وائٹ ہاؤس میں ایک طوفان برپا کرنے والی ویڈیو کے بعد اسرائیلی میڈیا نے انکشاف کیا ہے کہ نیتن یاہو نے اس سے قبل امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ پر کھلے عام تنقید کرنے کا فیصلہ کیا تھا حالانکہ ان کے وزراء اور مشیروں نے ایسا نہ کرنے کی سفارش کی تھی۔چینلز 13 اور 12 نے اطلاع دی ہے کہ نیتن یاہو کی ویڈیو سے قبل ایک خفیہ میٹنگ ہوئی تھی جس میں انہوں نے واشنگٹن پر اسرائیل کو ہتھیاروں کی ترسیل روکنے کا الزام لگایا تھا۔

اس اجلاس میں قومی سلامتی کے مشیر زاچی ہنیگبی،ا سٹریٹجک امور کے وزیر رون ڈرمر اور دیگر حکام شامل تھے۔ ان سب نے نیتن یاہو کے ارادے پر اعتراض کیا تھا۔اسٹریٹجک امور کے وزیر رون ڈرمر پہلے نیتن یاہو کے ساتھ اس خیال پر بات کرنے کے بعد عوامی تصادم کے حق میں تھے لیکن انہوں نے وزیر اعظم سے کہا کہ وہ اس وقت تک انتظار کریں جب تک کہ وہ اور ہنیبی وائٹ ہاؤس میں امریکی حکام سے ملاقات نہ کر لیں۔

وزیر دفاع یوآو گیلنٹ اور آرمی چیف آف اسٹاف ہرزی ہیلیوی نے تنازع کو عوامی سطح پر ظاہر کرنے کی مخالفت کی لیکن انہوں نے اس خدشے کے پیش نظر بند دروازوں کے پیچھے معاملات نمٹانے کو ترجیح دی کہ امریکہ کے ساتھ عوامی تنازع حماس اور حزب اللہ کو فائدہ پہنچا سکتا ہے۔واضح رہے منگل کو نیتن یاہو نے ایک ویڈیو شائع کی تھی جس میں انہوں نے امریکہ پر اسرائیل کی فوجی امداد روکنے کا الزام لگایا تھا۔ انہوں نے کہا کہ امریکی انتظامیہ کی جانب سے اسرائیل کو ہتھیاروں اور گولہ بارود کو روکنا غیر معقول ہے۔حکام نے ’’ایکسیوس‘‘ کو بتایا ہے کہ بائیڈن کے سینئر مشیروں نے اس ویڈیو پر اپنے غصے کا اظہار کیا ہے۔ غصے کا اظہار ایک خط جو نیتن یاہو کو امریکی ایلچی اموس ہوچسٹین کے ذریعے ذاتی طور پر بھیجا گیا میں کیا گیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بعد میں وائٹ ہاؤس نے ایران سے متعلق اجلاس منسوخ کرکے مزید آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا۔

اس اجلاس میں امریکی محکمہ خارجہ، پنٹاگون، امریکی انٹیلیجنس ایجنسیوں اور ان کے اسرائیلی ہم منصبوں کی شرکت طے تھی۔ ایک امریکی عہدیدار نے اس معاملے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہاکہ یہ فیصلہ واضح کرتا ہے کہ اس طرح کے اقدامات کے نتائج برآمد ہوتے ہیں۔وائٹ ہاؤس کی ترجمان کرین جین پیئر نے صحافیوں کو بتایا ہے میں یہ کہہ کر شروعات کرتا ہوں کہ ہم ایمانداری سے نہیں جانتے کہ نیتن یاہو کس کے بارے میں بات کر رہے ہیں۔ اسلحے کی ایک مخصوص کھیپ کو چھوڑ کر اسرائیل کو اسلحے کی ترسیل میں کوئی اور روک نہیں ہے۔اس کے علاوہ ایک سینئر اسرائیلی عہدیدار نے کہا ہے امریکی ناراض ہیں اور نیتن یاہو کی ویڈیو نے سنگین مسائل پیدا کیے ہیں۔ جس وقت ملاقات منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا گیا تو کچھ اسرائیلی اہلکار پہلے ہی واشنگٹن جا رہے تھے۔

نیتن یاہو کے ’ویڈیو بیان‘ سے امریکہ ناراض ، وائٹ ہاؤس کا اظہار ِمایوسی

 وائٹ ہاؤس کی طرف سے اسرائیلی وزیر اعظم کی اس تنقید پر اظہار مایوسی کیا گیا ہے جس سے دونوں اتحادیوں کے درمیان کشیدگی پیدا ہوئی ہے۔ وائٹ ہاؤس نے اس مایوسی کو جمعرات کے روز بیان کیا ہے۔یہ اس وقت ہوا جب اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کی امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن و مشیر سلامتی امور جیک سلیوان کی ملاقاتیں جمعرات کے روز طے ہو چکی تھیں۔نیتن یاہو نے جمعرات ہی کے روز ایک ویڈیو جاری کیا ہے جس میں انہوں نے دکھایا ہے کہ انٹونی بلنکن نے امریکہ کا اسرائیل کے لیے رکا ہوا اسلحہ جلد بحال کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ تاہم امریکی سفارت کاروں نے اس کی تصدیق کرنے سے منع کر دیا۔امریکہ میں ایسا کم ہی ہوتا ہے کہ نجی ملاقات میں کی گئی باتوں کو اس طرح پبلک کیا جائے۔ نیتن یاہو اسی بارے میں یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ ‘یہ ناقابل فہم ہے کہ چند مہینوں کے دوران امریکہ نے اسرائیل کو اسلحے کی یہ مخصوص فراہمی روک دی۔وائٹ ہاؤس میں قومی سلامتی کے مشیر جان کربی نے رپورٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کی طرف سے اسرائیل کے سامنے اس بارے میں براہ راست اپنی ناخوشی ظاہر کی ہے۔جان کربی نے مزید کہا کہ میرا خیال ہے کہ ہم نے مختلف طریقوں سے اپنے اسرائیلی ہم منصبوں پر اس ویڈیو میں بیان کردہ بیانات پر اپنی گہری مایوسی اور بیانات کی درستگی کے بارے خدشات کافی حد تک واضح کر دیے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ خیال کہ ہم نے اسرائیل کے دفاع کی ضروریات میں مدد کرنا بند کر دیا ہے درست نہیں ہے۔وائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اسرائیل کے قومی سلامتی کے مشیر زاچی ہنیگبی اور اسرائیل کے وزیر برائے اسٹریٹجک امور رون ڈرمر، سلیوان کے ساتھ بات کریں گے کیونکہ ایک بڑی، زیادہ رسمی اسٹریٹیجک ڈائیلاگ میٹنگ کو ری شیڈول کیا جا رہا ہے۔محکمہ خارجہ کے ایک سینئر اہلکار کے مطابق بلنکن سہ پہر تین بجے اسرائیلیوں سے ملاقات کریں گے۔دوسری جانب بلنکن نے کہا کہ ہتھیاروں کی ترسیل میں بڑے بموں کے علاوہ معمول کے مطابق چیزیں آگے بڑھ رہی ہیں۔ کیونکہ اسرائیل کو غزہ سے باہر سیکورٹی خطرات کا سامنا ہے، بشمول حزب اللہ اور ایران سے۔ تاہم انہوں نے منگل کے روز ایک نیوز کانفرنس کے دوران نیتن یاہو کے ساتھ اپنے نجی تبادلے پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا تھا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button