سابق برطانوی وزیر اعظم بورس اور جانسن انڈین نژاد رشی سوناک ایک بار پھر برطانوی وزیراعظم بننے کی دوڑ میں شامل
لندن، 22اکتوبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)برطانیہ میں لز ٹرس کی تاریخی طور پر قلیل المدت حکومت ختم ہونے کے بعد، سابق وزیر اعظم بورس جانسن سمیت متعدد برطانوی قانون ساز م وزارت عظمی کے لئے حمایت حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔برطانیہ کی حکمراں کنزرویٹو پارٹی ایک ایسے وقت میں ایک ہفتے کے اندر ایک نے وزیر اعظم مقرر کرنے کے لئے کو شاں ہے، جب برطانیہ انتہائی اعلی سطح پر غیر یقینی صورت حال کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ لاکھوں لوگ ایسے حالات گزر بسرکے لئے جدوجہد کر رہے ہیں جب کہ کھانے پینے کی اشیاء، ایندھن اور دوسری بنیادی اشیا صرف کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔ اور ریکارڈ افراط زر کے سبب مورٹگیج کی شرح بہت بڑھ گئی ہے۔اور کساد بازاری سر پر منڈلا رہی ہے۔
بورس جانسن نے اگرچہ ابھی یہ اعلان بھی نہیں کیا ہے کہ وہ اقتدار کی دوڑ میں شامل ہیں، لیکن بک میکرز نے ان حالات میں انہیں اس دور کے لئے پسندیدہ امیدواروں میں سے ایک قرار دے دیا ہے جب کہ پارٹی تقسیم اور مایوسی کا شکار ہے اور ایک سال کے اندر اپنا تیسرا وزی اعظم لانے کے لئے کوشاں ہے۔ٹرس نے اپنے اقتدار کے پینتالیس ہنگامہ خیز دنوں کے بعد جمعرات کے روز یہ اعتراف کرتے ہوئے اپنا عہدہ چھوڑ دیا تھا کہ وہ اپنے ٹیکس میں کٹوتی کے پیکیج پر عمل نہ کر سکیں اور اسے انہیں ترک کرنا پڑا کیونکہ اس کے سبب مالیاتی منڈیوں میں ہلچل مچ گئی تھی۔
دارالعوام کی لیڈر پینی مور ڈانٹ پہلی امیدوار تھیں جنہوں نے اعلان کیا کہ وہ ٹرس کی جگہ لینے کے لئے امیدوار ہیں۔ وہ بک میکرز کی تیسرے نمبر پر پسندیدہ امیدوار ہیں۔ ان سے اوپر خزانے کے سربراہ رشی سونک ہیں۔ اور پھر جانسن ہیں جنہیں اب بھی اس بارے میں تحقیقات کا سامنا ہے کہ کیا انہوں اپنی وزارت عظمی کے دوران پارلیمنٹ سے غلط بیانی کی،جس کے نتیجے میں ان کی پارلیمنٹ کی رکنیت معطل بھی کی جا سکتی ہے۔اپنی تمام تر مشکلات کے باوجود بعض قدامت پسند اب بھی یہ سمجھتے ہیں کہ جانسن میں ووٹ حاصل کرنے کی صلاحیت ہے۔
جانسن نے جو ابھی پارلیمنٹ کے رکن ہیں ابھی تک یہ نہیں کہا کہ وہ اس منصب کے امیدوار ہیں، لیکن پارلیمنٹ میں ان کے اتحادی میں بورس کی حمایت کرتا ہوں نامی تحریک کے ذریعے حمایت حاصل کرنے کے لئے کام کر رہے ہیں۔نئے لیڈر کے انتخاب کے لئے کاغذات نامزدگی داخل کرنے کی تاریخ پیر سہ پہر تک ہے۔
انڈین نژاد رشی سوناک ایک بار پھر برطانوی وزیراعظم بننے کی دوڑ میں شامل
لندن، 22اکتوبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) برطانیہ کے سابق وزیر خزانہ رشی سوناک نے کنزرویٹیو پارٹی کے رہنما اور وزارت عظمیٰ کا امیدوار بننے کی دوڑ میں شامل ہو گئے ہیں۔خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق انڈین نڑاد رشی سوناک جمعے کو دیر گئے پارٹی لیڈر کا انتخاب لڑنے کے لیے عائد شرائط کی کم سے کم حد تک پہنچ گئے۔دوسری جانب سابق وزیراعظم بورس جانسن نے ایک بار پھر پارٹی کے سربراہ کے طور پر واپسی کا اعلان کیا ہے۔ٹوری پارٹی کے ایم پی ٹوبیاز اِل ووڈ نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ ان کو یہ اعزاز حاصل ہوا ہے کہ وہ پارٹی کے 100ویں رکن ہیں جو رشی سوناک کی حمایت کرنے کے لیے آگے بڑھے ہیں۔وزیراعظم لِز ٹرس کے ڈرامائی استعفیٰ کے بعد برطانیہ کی حکمران جماعت کی قیادت کے لیے کابینہ کی رکن پینی مورڈانٹ پہلے ہی اپنی امیدواری کا باضابطہ اعلان کر چکی ہیں۔ اگر پارٹی رہنما بننے کی دوڑ میں شامل دیگر امیدوار 100 ارکان کی حمایت حاصل کرنے میں ناکام رہتے ہیں تو رشی سوناک کنزرویٹیو جماعت کے سربراہ اور وزیراعظم منتخب ہو جائیں گے۔
دفاع کے وزیر ٹام ٹوگنڈاٹ نے سابق وزیراعظم بورس جانسن کو ڈھکے چھپے الفاظ میں تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس دوڑ سے باہر رہیں۔انہوں نے رشی سوناک کی حمایت کے بعد کہا کہ یہ سیاسی کھیل کھیلنے کا وقت نہیں، حساب برابر کرنے کا بھی نہیں اور پیچھے دیکھنے کا بھی نہیں۔ٹام ٹوگنڈاٹ خود بھی وزارت عظمیٰ کی دوڑ میں اس وقت شامل رہے جب جولائی میں بورس جانسن کو عہدے سے ہٹایا گیا تھا۔تاحال رشی سوناک یا بورس جانسن کی جانب سے بطور امیدوار سامنے آنے کا اعلان نہیں کیا گیا۔بورس جانسن جو کیریبین میں چھٹیاں گزارنے گئے تھے فوری طور پر پیر کو ٹوری ایم پیز کی جانب سے منعقدہ ممکنہ آ ن لائن ووٹنگ میں حصہ لینے کے لیے واپس آگئے ہیں۔
برطانیہ میں بچوں سے جنسی زیادتی ’وَبا ‘ بن کر پھوٹ رہی ہے : سروے
لندن، 22اکتوبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)برطانیہ میں بچوں سے جنسی زیادتی کے واقعات کی سات سالہ عوامی انکوائری کے نتائج جمعرات 20 اکتوبر کو شائع ہوئے ہیں۔ ان میں کہا گیا ہے کہ برطانیہ میں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی ایک وبا ہے اور اس سے لاکھوں افراد متاثر ہوئے ہیں۔ بہت سے ایسے کیسز بھی ہوتے ہیں جن میں بچوں کے ساتھ ہونے والی جنسی زیادتی کی اطلاع نہیں دی جاتی۔رپورٹ میں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے جرائم کے واقعات کی روک تھام کے لیے سخت قانونی کارروائی اور قانون سازی کی تجویز دی گئی ہے۔بچوں کے جنسی استحصال کی آزادانہ تحقیقات سے پتا چلا ہے کہ اداروں اور سیاست دانوں نے بچوں کی ضروریات پر شہرت کو ترجیح دی یعنی خوفناک کارروائیاں کئی دہائیوں تک چھپائی گئیں جبکہ ناکافی تحفظات باقی رہے۔
انکوائری جو کہ برطانیہ میں اب تک کی گئی اپنی نوعیت کی سب سے بڑی اور مہنگی ترین تحقیقات میں سے ایک ہے میں کہا گیا ہے کہ یہ معاملہ ایک عالمی بحران ہے، جب تک فوری کارروائی نہ کی جائے، بچوں کولاحق خطرات کا تدارک نہیں کیا جا سکتا۔سماجی بہبود کے ماہر الیکسس جے نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ ہمیں جس زیادتی کا سامنا کرنا پڑا اس کی نوعیت اور پیمانے چونکا دینے والے اور گہرے پریشان کن تھے۔ یہ صرف ایک تاریخی خرابی نہیں ہے جو کئی دہائیوں پہلے ہوئی تھی بلکہ یہ ایک مسلسل بڑھتا ہوا مسئلہ اور ایک قومی وبا ہے۔یہ تحقیقات جولائی 2014 میں بچوں کے ساتھ بدسلوکی کے خوفناک سکینڈلز کے ایک سلسلے کے بعد شروع کی گئی تھیں، جن میں سے کچھ دہائیوں پر محیط ہیں، خاص طور پر BBC ٹیلی ویڑن کے آنجہانی اسٹار جمی سیوائل کا سکینڈل کو اس میں مرکزی حیثیت حاصل ہے۔
سنہ 2011 میں اس کی موت کے بعد یہ انکشاف ہوا تھا کہ وہ برطانیہ میں سب سے زیادہ عام جنسی مجرموں میں سے ایک ہونے کا انکشاف ہوا تھا۔انکوائری میں 15 سروے اور درجنوں دیگر رپورٹس شامل کیں گئیں جن میں کیتھولک چرچ، چرچ آف انگلینڈ اور ویسٹ منسٹر میں برطانوی سیاسی مرکز سمیت اداروں میں ہولناک زیادتیوں کی تفصیلات درج کی گئیں۔تحقیقات سے پتا چلا ہے کہ امیر اور اچھی طرح سے جڑے ہوئے لوگوں کے ساتھ غریبوں سے مختلف سلوک کیا جاتا ہے جس میں "بچوں کی ضروریات اور حفاظت کو ترجیح دی جاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ممتاز افراد بشمول ایوانوں کے اراکین، نمائندگان (اراکین پارلیمنٹ) اور ممتاز پادریوں کو اکثر ان لوگوں کی طرف سے احترام کا مظاہرہ کیا گیا جن کا کام الزامات کی تحقیقات کرنا تھا۔
یہاں تک کہ جب انہوں نے مکمل تحقیقات کرنے کی کوشش کی تو ان کے افسران نے انہیں تحقیقات روکنے کو کہا۔تحقیقات نے فروری 2017 میں شروع ہونے والی 325 سماعتوں کے دوران 725 گواہوں کو سنا اور تقریباً 25 لاکھ صفحات پر مشتمل شواہد پر کارروائی کی۔ 6,000 سے زیادہ متاثرین اور بدسلوکی سے بچ جانے والوں نے بھی اپنے تجربات کو تحقیقات کے ٹروتھ پروجیکٹ سے جوڑا ہے۔



