بین الاقوامی خبریں

جرمنی: نازی ڈیتھ کیمپ کی مفرورسیکرٹری گرفتار

برلن،یکم اکتوبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)ایک 96 سالہ خاتون جن کیخلاف مبینہ جنگی جرائم کے لیے مقدمے کی کارروائی ہونے والی تھی، اچانک روپوش ہو گئی تھیں۔ان پر جرمنی کے ایک نازی ڈیتھ کیمپ کی سیکرٹری ہونے کا الزام ہے۔جرمنی میں عدالتی حکام کا کہنا ہے کہ ایک ضلعی عدالت نے 96 سالہ اس خاتون کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے تھے ۔

جن پر دوسری عالمی جنگ کے دوران ہزاروں افراد کے قتل میں ملوث ہونے کا الزام ہے اور اس سلسلے میں ان کے خلاف 30 ستمبر جمعرات سے مقدمے کی سماعت شروع ہونے والی تھی۔

Join Urdu Duniya WhatsApp Group.

اس کیس کا تعلق نازی دور کے اسٹوٹ ہوف میں واقع ڈیتھ کیمپ سے ہے۔جس ضلعی عدالت میں ارمگارڈ ایف نامی خاتون کے خلاف مقدمہ درج تھا اس نے انہیں عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا تھا، جس کے بعد پولیس نے انہیں تلاش کر کے گرفتار کر لیا۔ عدالت اس مقدمے کی سماعت پہلے ہی آئندہ 19 اکتوبر تک ملتوی کر چکی ہے۔

استغاثہ کا کہنا ہے کہ مذکورہ خاتون سن 1943 سے 1945 تک ڈیتھ کیمپ میں بطور سیکرٹری کام کیا تھا۔ وہ بزرگوں کے ایک کیئر ہوم میں رہا کرتی تھیں تاہم جمعرات کی صبح وہ اپنی یہ رہائش چھوڑ کر اچانک ٹیکسی کے ذریعے باہر چلی گئیں اور ایک زیر زمین اسٹیشن میں پناہ لے رکھی تھی۔

کئی گھنٹوں تک ان کے ٹھکانے کا پتہ نہیں چل سکا تھا۔آشوٹز حراستی کیمپ کے زندہ بچ جانے والوں اور ان کے اہل خانہ کی فلاح و بہود کے لیے کام کرنے والے ادارے انٹرنیشنل آشوٹز کمیٹی نے خاتون سے متعلق اس واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ کمیٹی کے صدر کرسٹوف ہیوبنر کا کہنا تھاکہ یہ قانون کی حکمرانی کے ساتھ ساتھ زندہ بچ جانے والوں کے لیے بھی ناقابل یقین توہین کا مظہر ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ آخر مذکورہ خاتون اس طرح فرار اور روپوش ہونے میں کامیاب کیسے ہوئیں۔ انہوں نے کہا جرمنی اس صورت حال کا مستحق نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکام کو اس فرار کا حساب کتاب دینا چاہیے۔کیئر ہوم کو محافظوں کی نگرانی میں رکھنا چاہیے تھا اور ملزم کو مقدمے کی سماعت کے لیے عدالت میں لانا چاہیے تھا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button