بین الاقوامی خبریں

کیا ایران نے نطنز پلانٹ سے زیادہ گہرائی میں پلانٹ بنا لئے ہیں؟

واشنگٹن ،15جنوری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)انسٹی ٹیوٹ فار سائنس اینڈ انٹرنیشنل سیکیورٹی کی ایک نئی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ایران میں نیا نطنز زیر زمین کمپلیکس جو کہ یورینیم کی افزودگی کی مرکزی جگہ کے جنوب میں پہاڑی علاقے میں واقع ہے میں ایسے ہال شامل ہیں جو فردو یورینیم افزودگی کی جگہ سے بھی گہرے ہیں۔

نئی رپورٹ کے مطابق دونوں سہولیات نطنز کے مرکزی مقام سے کہیں زیادہ گہری زیرزمین ہیں۔پہاڑ کی جسامت کو دیکھتے ہوئے نئے زیر زمین کمپلیکس میں ایران سینٹری فیوجز اسمبلی سینٹر (ICAC) سے بھی بہت بڑا اور وسیع ہے۔ پرانے مرکز کو جولائی 2020 میں تباہ کردیا گیا تھا۔ جس کے بعد اس کے متبادل کے طورپر زیر زمین یہ مرکز قائم کیا گیا ہے۔

زیر زمین کمپلیکس کا ممکنہ سائز ان امکانات کے بارے میں سوالات اٹھاتا ہے جو نیا کمپلیکس فراہم کرے گا۔ایک مغربی انٹیلی جنس اہلکار نے حال ہی میں کہا ہے کہ اس بات پر یقین کرنے کی معقول وجہ ہے کہ زیر زمین نطنز سائٹ پر افزودگی کا پلانٹ بنایا جا رہا ہے اور اس نے ایک اور گفتگو میں اس دعوے کا اعادہ کیا۔

انسٹی ٹیوٹ آزادانہ طور پر اس کی تصدیق نہیں کر سکا ہے لیکن ایک نئے افزودگی پلانٹ کی تعمیر یقینی طور پر نئی سائٹ کے لیے سب سے زیادہ پریشان کن امکان ہے۔خفیہ جوہری تنصیبات کی تعمیر کے ایران کے ریکارڈ کو دیکھتے ہوئے اس بارے میں مزید وضاحت حاصل کرنا کہ ایران نئے زیر زمین نطنز سائٹ پر کیا کرنا چاہتا ہے IAEA اور اس میں شامل تمام ممالک کے لیے ترجیح ہونی چاہیے۔

اگرایران افزودگی کا پلانٹ بنا رہا ہے اور اس نے بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کو اس کا نہیں بتایا تو یہ دونوں فریقوں کے درمیان طے پانے والے معاہدوں کی سنگین خلاف ورزی ہوگی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button