ہنڈوراس: جیل میں ہنگامہ آرائی سے درجنوں خواتین ہلاک
تشدد ہنگامے میں کم از کم 41 افراد ہلاک ہو گئے۔
لندن ، 21جون:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) ہنڈوراس کے دارالحکومت ٹیگوسی گالپا کے قریب واقع خواتین کی ایک جیل میں 20 جون منگل کے روز ہونے والے پر تشدد ہنگامے میں کم از کم 41 افراد ہلاک ہو گئے۔ متاثرین میں بیشتر خواتین ہیں۔ گرچہ جیل کے اندر پرتشدد جھڑپوں کی اطلاعات ہیں، تاہم زیادہ تر ہلاکتیں فسادات کے دوران لگنے والی ایک بڑی آگ سے ہوئیں۔ملک میں سکیورٹی کی نائب وزیر جولیسا ولنوئیوا نے نیشنل ویمنز پینٹینٹری فار سوشل ایڈاپٹیشن نامی اس جیل میں ہنگامی حالت کا اعلان کر دیا۔ہنڈوراس کی صدر زیومارا کاسترو نے اس پر تشدد ہنگامے پر صدمے کا اظہار کیا ہے، انہوں نے ٹویٹر پر لکھاکہ میں سخت اقدامات کرنے جا رہی ہوں!مقامی میڈیا نے اطلاع دی ہے کہ جیل کے دو حریف گینگ پنڈیلا 18 اور مارا سلواتروشا کے درمیان لڑائی کے بعد آگ بھڑک اٹھی۔
اسپتال کے کارکنوں نے بتایا کہ کم از کم سات خواتین کو بندوق اور چاقو کے زخموں کے علاج کے لیے بھی اسپتال لایا گیا۔قیدیوں کے اہل خانہ کی نمائندہ ڈیلما آرڈونیز نے کہا کہ ایک گینگ کے ارکان نے حریف گینگ کی کوٹھری کو آگ لگا دی تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس کوٹھری کے اندر تقریباً 900 قیدی مقیم تھے۔سکیورٹی سے متعلق وزیر ولانوئیوا نے کہا کہ ملک میں جیلوں کو کنٹرول میں لانے کی حالیہ کوششوں کے رد عمل میں یہ فساد برپا ہوا، جہاں قیدی اکثر غیر قانونی منشیات فروخت کرنے کا دھندہ کرتے ہیں۔ولانوئیوانے ٹیلی وژن پر اپنے ایک خطاب میں کہا کہ منظم جرائم کے خلاف ہم جو اقدامات کر رہے ہیں، یہ تشدد اسی کو پیچھے دھکیلنے کی کوشش تھی۔
تاہم انہوں نے کہاکہ ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ہنڈوراس پر منظم جرائم کے گروہوں کا زبردست غلبہ ہے، جس میں ایل سلواڈور اور گوئٹے مالا کے جنوبی امریکی ممالک کے لوگ بھی شامل ہیں، جو غیر قانونی منشیات کی امریکہ منتقلی کا کام کرتے ہیں۔واضح رہے کہ سابق صدر جوآن اورلینڈو ہرنینڈز کو منشیات کے الزامات کا سامنا کرنے کے لیے گزشتہ برس امریکہ کے حوالے کیا گیا تھا۔ استغاثہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے منشیات کی اسمگلنگ کو ریاستی مدد فراہم کر کے ہونڈوراس کو ایک نارکو ریاست میں تبدیل کر دیا۔بائیں بازو کے خیالات کی نئی صدر زیومارا کاسترو نے غنڈوں کا مقابلہ کرنے اور ان کے اقتدار اور بدعنوانی پر لگام ڈالنے کا عہد کر رکھا ہے۔



