بین الاقوامی خبریں

ایغور اور طالبان ایک دوسرے کو کس نظر سے دیکھتے ہیں؟

لندن ، 25ستمبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)جب سے طالبان نے حکومت سنبھالی ہے عبدالغنی سبط افغانستان میں ہونے والی پیش رفت کو بڑی توجہ سے دیکھتے آ رہے ہیں۔ سبط ایغور ہیں اور وہ چین کے سنکیانگ ایغور خود مختار علاقے سے تعلق رکھنے والے مسلم اقلیتی گروپ کے رکن ہیں۔ وہ 2007 سے ہالینڈ میں جلاوطنی کی زندگی گزارنے کے ساتھ ساتھ ایغوروں کے حقوق کے لیے جد و جہد کر رہے ہیں۔

سبط نے وی او اے کو بتایا کہ طالبان برسوں سے ایسے مسلم گروہوں کے بارے میں بیانات دے رہے ہیں جنہیں مبینہ طور پر مختلف ملکوں یا علاقوں میں ریاستی حکام کی جانب سے بدسلوکی یا زیادتی کا نشنانہ بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے فلسطین، کشمیر اور دنیا کے دیگر حصوں میں مسلمانوں کے لیے آواز بلند کی ہے اور انہیں کہا ہے کہ وہ اٹھ کھڑے ہوں۔

سبط نے کہا کہ تاہم طالبان انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے شمال مغربی چین کے سنکیانگ ایغور خود مختار علاقے میں ایک کروڑ 20 لاکھ سے زائد ایغور مسلمانوں کے ساتھ بدسلوکی کی نشاندہی پر خاموش ہیں۔ یہ علاقہ افغانستان کے ساتھ ملتا ہے۔ انسانی حقوق کے گروپ جیسے ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ نے چینی حکومت پر الزام لگایا ہے کہ اس نے 10 لاکھ سے زائد ایغور اور دیگر ترک مسلمانوں کو حراستی کیمپوں میں رکھا ہوا ہے۔

جہاں انہیں مبینہ طور پر اپنا مذہب اسلام چھوڑنے اور چینی کمیونسٹ پارٹی سے وفاداری کا عہد کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ انہیں دیگر بدسلوکیوں کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے جس میں جبری نس بند اور جبری مشققت وغرہ شامل ہیں۔

چین ان الزامات کی تردید کرتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ مراکز حراستی کیمپ نہیں ہیں بلکہ پیشہ ورانہ تعلیم اور تربیت کے مراکز ہیں جہاں ان لوگوں کو رکھا جاتا ہے جن کے ذہنوں میںمذہبی انتہا پسندی، دہشت گردی اور علیحدگی پسندی کا زہر بھر دیا گیا ہے۔وسطی ایشیا کے بہت سے اسکالر، طالبان اور ان کے ایغوروں کے متعلق خیالات کو سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ طالبان ایک کثیر القومی سیاسی تحریک ہے جب کہ ایغور ایک نسلی گروہ ہے۔

بہت سے ایغور چین میں رہتے ہیں اور ان کے دینی عقائد کا نظام افغانستان کے لوگوں جیسا ہے۔ ایک جنگ مخالف تنظیم ’کنسلٹنٹ انٹرنیشنل کرائسس گروپ‘ کے ایک ماہر ابراہیم باہیس نے کہا ہے کہ جب ہم طالبان کا حوالہ دیتے ہیں تو ہم عام طور پر تحریک کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں۔ اس کی اپنی نظریاتی وابستگی ہے۔

اس میں مختلف گروپس شامل ہیں۔ لہذا، یہ ایک سیاسی وجود ہے اور یہ کوئی نسلی گروپ نہیں ہے۔ ماہرین اور سبط کے مطابق چین میں زیادہ تر ایغور اور افغانستان کے لوگ سنی مسلمانوں کے حنفی فرقے سے تعلق رکھتے ہیں، جو تاریخی، مذہبی لحاظ سے دو گروہوں کے درمیان ایک ثقافتی تعلق ہے۔

بہت سے ایغور طالبان کو ایک بیرونی عنصر کے طور پر دیکھتے ہیں۔ واشنگٹن میں قائم مشرقی ترکستان قومی بیداری کی تحریک کے ایغور صدر اور بانی صالح ہدایار کا کہنا ہے کہ بیشتر ایغور اپنے اسلامی عقائد کو سمجھنے اور ان پر عمل کرنے میں بہت آزاد خیال ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button