
حیدرآباد: مذہب تبدیل کرنے سے متعلق آٹو پر لکھے پیغام پر تنازع، عطار پور میں پولیس سے شکایت
سوشل میڈیا پر ویڈیوز اور آڈیو وائرل ہونے کے بعد معاملہ سیاسی و سماجی بحث کا موضوع بن گیا۔
حیدرآباد:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)حیدرآباد کے عطار پور علاقے میں ایک آٹو رکشہ پر مذہب تبدیل کرنے سے متعلق لکھی گئی تحریر پر تنازع کھڑا ہوگیا ہے۔ اس معاملے پر ایک مقامی شہری نے عطار پور پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کرائی، جبکہ واقعے سے متعلق ویڈیوز اور ایک مبینہ آڈیو گفتگو بھی سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے۔
اطلاعات کے مطابق پی وی این آر ایکسپریس وے کے پلر نمبر 105 کے قریب کھڑے ایک آٹو رکشہ کے پچھلے حصے پر مذہب تبدیل کرنے سے متعلق ایک متنازع پیغام درج تھا۔ ایک مقامی شخص نے اس پر اعتراض کرتے ہوئے آٹو ڈرائیور سے اس کی وجہ پوچھی۔ شکایت کنندہ کا کہنا ہے کہ اس نے ڈرائیور کو مشورہ دیا کہ ایسے الفاظ استعمال نہ کیے جائیں، کیونکہ حیدرآباد فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے لیے جانا جاتا ہے۔
شکایت کے مطابق آٹو ڈرائیور نے جواب دیا کہ یہ اس کی ذاتی گاڑی ہے اور وہ اس پر اپنی مرضی کا پیغام لکھ سکتا ہے۔ اس کے بعد مقامی شخص نے عطار پور پولیس اسٹیشن پہنچ کر شکایت درج کرائی۔
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک مبینہ آڈیو میں ایک پولیس افسر آٹو ڈرائیور سے تحریر کے بارے میں پوچھتا ہے، تاہم ڈرائیور مبینہ طور پر سوال کا براہِ راست جواب دینے سے گریز کرتا ہے اور کہتا ہے کہ یہی الفاظ گوگل پر بھی موجود ہیں۔ اس پر پولیس افسر اسے اگلے دن پولیس اسٹیشن آنے کی ہدایت دیتا ہے۔
تاحال عطار پور پولیس کی جانب سے اس معاملے میں باضابطہ ایف آئی آر درج کیے جانے کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔ تاہم پولیس کے مطابق شکایت موصول ہونے کے بعد معاملے کی جانچ کی جا رہی ہے۔
ادھر یہ معاملہ سوشل میڈیا پر بھی موضوعِ بحث بن گیا ہے۔ بعض ہندوتوا تنظیموں نے اسے ہندو مخالف معاملہ قرار دیتے ہوئے حیدرآباد سٹی پولیس اور تلنگانہ پولیس کے اعلیٰ حکام کو ٹیگ کیا ہے۔ دوسری جانب بجرنگ دل اور وشوا ہندو پریشد (وی ایچ پی) کے ارکان نے آٹو ڈرائیور سے ملاقات کرکے اس کی حمایت کا اظہار کیا۔ بھاگیہ نگر گنیش اتسو سمیتی کے جنرل سیکریٹری ڈاکٹر روینوتھلا ششی دھر نے الزام عائد کیا کہ آٹو ڈرائیور کے ساتھ حملہ کیا گیا، تاہم اس دعوے کی پولیس کی جانب سے باضابطہ تصدیق نہیں ہوئی ہے۔
پولیس کی جانب سے معاملے کی تحقیقات جاری ہیں اور مزید قانونی کارروائی تحقیقات کے نتائج کی بنیاد پر کی جائے گی۔



