فرانس میں 67 لڑکیوں کا عبایا اُتارنے سے صاف انکار کردیا
متنازع فیصلے کے خلاف مسلمان کمیونٹی کی طرف سے سخت ردعمل سامنے آ رہا ہے
پیرس ، 9ستمبر :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) فرانس میں حکومت کی طرف سے تعلیمی اداروں میں عبایا پر پابندی کے متنازع فیصلے کے خلاف مسلمان کمیونٹی کی طرف سے سخت ردعمل سامنے آ رہا ہے۔اسکولوں کی انتظامیہ کو عبایا اتارنے میں سختی برتنے پر دھمکیاں موصول ہوئی ہیں جب کہ درجنوں مسلمان لڑکیوں نے عبایا اتارنے سے انکار کر دیا جس پر انہیں اسکولوں میں داخل نہیں ہونے دیا گیا۔فرنس کے وسط میں کلیرمونٹ فریرنڈ میں پولیس نے ایک شخص کوا سکول کے پرنسپل کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دینے کے بعد گرفتار کیا ہے۔ پرنسپل نے سیکولرازم کے نام پر مذہبی لباس پر پابندی لگانے کے بعد اپنی بیٹی کو عبایا پہن کر ہائی ا سکول میں داخلے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔اس شخص کو کل جمعہ کو رہا کیا گیا تاہم اکتوبر کے آخر میں اسے دوبارہ عدالت میں پیش کیا جائے گا۔
اس پر کار سرکار میں مداخلت اورا سکول کے پرنسپل کو دھمکانے کے الزام میں مقدمہ چلایا جائے گا۔اسکائی نیوز عربیہ کے مطابق پولیس کے ایک ذریعے نے بتایا کہ اس شخص کو جمعرات کو گرفتار کیا گیا۔أمبرواز-بروجیار کے حکام نے ایک ہائی سکول کی طالبہ سے عبایا اتار نے کو کہا تھا لیکن اس نے انکار کر دیا۔اس کے اسکول میں داخلے پر پابندی لگا دی گئی۔ اس کے بعد اس کے والد نے فون کیا اور اسکول پرنسپل کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دیں۔خبر رساں ایجنسی نے نیشنل ایجوکیشن کے وزیر گیبریل اٹل کے حوالے سے کہا کہ دھمکیاں ناقابل قبول ہیں۔ اسکول کے پرنسپل کی حفاظت کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
ضلعی میئر نے کہا کہ اسکول کے اہلکار جنہوں نے طالب علم کو عبایا میں داخلے سے روکا انہیں جان سے مارنے اور سر قلم کرنے کی دھمکیاں موصول ہوئی ہیں۔ اس کے باوجود ہم پر عزم اور ثابت قدم ہیں۔انہوں نے ہائی اسکول میں سکیورٹی ٹیمیں تعینات کرنے کا اعلان کیا۔27 اگست کو جبریل اٹل نے سرکاری اسکولوں اور اداروں میں عبایا پہننے پر پابندی کا اعلان کیا، جسے جمعرات کو ریاست کی اعلیٰ ترین انتظامی اتھارٹی کونسل آف اسٹیٹ نے منظور کیا ہے۔وزیر تعلیم کے مطابق اس ہفتے سکول واپس آنے والے 12 ملین طلباء میں سے تقریباً 300 طالبات عبایا کے ساتھ سکول پہنچیں۔ ان میں سے 67 نے عبایا اتارنے سے انکار کر دیا۔



