سیاسی و مذہبی مضامین

پرنٹ میڈیا پر خطرات کے بادل-معصوم مرادآبادی

ہندوستانی اخباری صنعت شدید مالی بحران کا شکار، آئی این ایس نے حکومت سے خصوصی پیکیج کا مطالبہ کیا

ہندوستان میں اخباری صنعت اس وقت اپنی تاریخ کے سب سے بڑے مالی بحران سے گزر رہی ہے۔ کورونا وبا کے بعد اشتہارات، سرکولیشن اور آمدنی میں شدید گراوٹ نے پرنٹ میڈیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ایسے حالات میں Indian Newspaper Society نے مرکزی حکومت سے خصوصی امدادی پیکیج جاری کرنے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ اخبارات کو بند ہونے سے بچایا جاسکے۔

آزاد ہندوستان کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ اخباری صنعت نے اپنے وجود کو برقرار رکھنے کے لیے حکومت سے براہ راست مدد کی اپیل کی ہے۔ اخبارات، جو جمہوریت کے چوتھے ستون اور اقتدار پر نظر رکھنے والے واچ ڈاگ سمجھے جاتے ہیں، آج خود بقاء کی جنگ لڑ رہے ہیں۔

کورونا دور میں بڑے انگریزی اخبارات نے اپنے صفحات اور ایڈیشن کم کردیے جبکہ اخراجات گھٹانے کے لیے ملازمین کی تعداد میں بھی کمی کی گئی۔ اردو صحافت بھی اس بحران سے محفوظ نہیں رہی۔ Hyderabad سمیت کئی شہروں میں اردو اخبارات نے سنڈے ایڈیشن ختم کردیے یا انہیں روزناموں میں ضم کردیا۔ کئی اخبارات بند ہوگئے جبکہ متعدد ادارے شدید مالی دباؤ کا سامنا کررہے ہیں۔

آئی این ایس کے مطابق گزشتہ چند مہینوں میں نیوزپیپر انڈسٹری کو ہزاروں کروڑ روپے کا نقصان ہوچکا ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو مزید اخبارات بند ہوسکتے ہیں جس سے لاکھوں افراد کا روزگار متاثر ہوگا۔ صحافیوں، پرنٹنگ پریس، نیوزپیپر وینڈرز اور سپلائی چین سے وابستہ افراد کی معاشی حالت مزید خراب ہوسکتی ہے۔

کورونا کے آغاز میں اس افواہ نے بھی اخبارات کو شدید نقصان پہنچایا کہ وائرس اخباری کاغذ کے ذریعے گھروں تک پہنچ سکتا ہے۔ اس کے بعد کئی علاقوں میں ہاکروں کے داخلے پر پابندی لگادی گئی اور قارئین نے اخبارات خریدنا کم کردیا۔ اگرچہ بعد میں ماہرین نے ان خدشات کو بے بنیاد قرار دیا، لیکن اس دوران سرکولیشن میں بڑی کمی آچکی تھی۔

آئی این ایس نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ نیوزپرنٹ پر عائد پانچ فیصد کسٹم ڈیوٹی ختم کی جائے، دو سال کا ٹیکس ہالی ڈے دیا جائے، سرکاری اشتہارات کی شرحوں میں اضافہ کیا جائے اور پینڈنگ بل فوری ادا کیے جائیں تاکہ اخبارات کو کچھ راحت مل سکے۔

مضمون میں ایک اہم سوال بھی اٹھایا گیا ہے کہ اگر اخبارات حکومتی امداد پر منحصر ہوجائیں تو کیا وہ اپنی غیرجانبداری برقرار رکھ سکیں گے۔ اس وقت الیکٹرانک میڈیا کے ایک بڑے حصے پر حکومت نواز ہونے کے الزامات لگتے رہے ہیں، ایسے میں پرنٹ میڈیا کی آزادی اور ساکھ کو برقرار رکھنا ایک بڑا چیلنج ہوگا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ جمہوریت کی مضبوطی کے لیے آزاد، بے خوف اور غیرجانبدار صحافت انتہائی ضروری ہے۔ اگر اخبارات معاشی دباؤ کے باعث کمزور ہوگئے تو اس کا براہ راست اثر عوام تک صحیح اور مصدقہ معلومات کی فراہمی پر پڑے گا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button